ایم اے تبسمتازہ ترینکالم

کرپشن کا ناسوراور عمران خان

عوامی جمہوریت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ملک کے عوام حکومت وقت سے خوش ہوں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے انھیں در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔ پیپلزپارٹی کا یوں تو نعرہ ہے ’روٹی کپڑااورمکان،،‘، لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ ملک کے کسی بھی شہری سے آپ جاکر پوچھ لیں کہ کیا وہ موجودہ حکومت سے خوش ہے، تو آپ کو شاید ہر جگہ ایک ہی جواب ملے گا، ’نہیں‘۔ اس کے علاوہ بھی آپ کو ہر گلی کوچے میں ہر شخص یہ کہتا ہوا بھی نظر آ جائے گا کہ ’پیپلزپارٹی کی حکومت جب جب آئی، کمر توڑ مہنگائی لائی‘۔ پیپلزپارٹی کو لوگ عوام کی پارٹی کہتے ہیں، لیکن پیپلزپارٹی سے بھی عوام کا اعتماد سا اٹھ گیا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سب مداری صرف پیسے کی ہوس میں ہی مبتلا ہیں کسی کو کوئی فکر نہیں کہ عام آدمی کے ساتھ کیا کچھ ہورہا ہے اگر پیپلزپارٹی عوامی جماعت ہے تو کیوں اس کے کام عوامی نہیں ۔یہ پارٹی کیوں مہنگائی پر اب تک کنٹرول نہیں کرسکی ،کیوں لوڈشیڈنگ پر قابونہیں پایا جارہا ،کیوں گیس اور پٹرول کی قیمتیں آسمانوں کوچھوتی ہیں اور کبھی واپس نہیں آتیں۔ سوئس بینک میں جمع کروڑوں ڈالر کس کام کے کہ اگر آپ کی رعایا میں لوگ خودکشیوں پر اتر آئیں،اور ہمارے حکمران باہر کے سیر سپاٹوں سے تنگ نہ آئیں۔پاکستان میں جس قدر اداروں میں کرپشن ہورہی ہے ، اگر کسی روز اس میں ملوث تمام افراد کے نام سامنے آئیں گے، تو اس میںحکمران جماعت اور اس کے حامیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی کیوں کہ اس ملک پر سب سے زیادہ حکومت پیپلزپارٹی نے ہی کی ہے۔پیپلزپارٹی کی بنیاد عوامی لیڈرذولفقار علی بھٹونے ڈالی تھی، اور ہم سب اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ جب تک بے نظیر زندہ رہیں انہوں نے خاطر خواہ عوامی مسائل کو حل کیا حالانکہ ان کی حکومت بھی ان ہی کے صدر فاروق لغاری نے کرپشن کی بنا پر ختم کر دی تھی۔، لیکن انھوں نے یہاں کی عوام کو خاص کر غریب عوام کے لئے بہت کام کیا ۔ آج اکیسویں صدی میں پیپلزپارٹی اسی دور میں کھڑی ہے۔ جب ان کی حکومت ختم کی گئی تھی کرپشن کی بنا پر آج پھر کرپشن کے ریکارڈتوڑے جا رہے ہیں آج ہمارے وزیراعظم سے لے کر بڑے بڑے نام بھی اس فہرست میں لئے جارہے ہیں کیوں؟چہرے بدل چکے ہیں، لیکن نیت وہی ہے۔ دولت کمانے کا سب سے آسان طریقہ ہے کہ آپ لیڈر بن جائیں، اس کے بعد کسی کے اندر اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ آپ کو جائز و ناجائز کسی بھی کام سے روک سکے۔پیپلزپارٹی کے اندر ایسے لیڈر ایک ڈھونڈنے سے ہزار ملیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عوام کے موڈ کو بھانپ کر یہ لوگ الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ اگر عوام کے اندر بیداری پیدا ہوگئی تو ان کی دکانیں بند ہو جائیں گی۔کسی گائوں دیہات کے چھوٹے موٹے لیڈر کے پاس اگر آپ یہ تجویز لے کر جائیں کہ فلاں جگہ اسکول کالج نہیں ہیں، بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے دور دراز کے علاقوں کا سفر کرنا پڑتا ہے، اس کے لیے ان کے والدین کو پیسوں کا انتظام کرنا پڑتا ہے، آپ برائے کرم یہاں پر کوئی اسکول یا کالج بنوادیں، تو آپ کو جواب فوراً نفی میں ملے گا۔ ہاں، البتہ وہ لیڈر آپ سے یہ ضرور کہے گا کہ بھلا پڑھ لکھ کر آپ کے بچے کیا کریں گے،ان کے کھیلنے کودنے کے لیے اسپورٹس کمپلیکس بنوا دیتا ہوں، کارخانے لگوا دیتا ہوں جہاں پر ان بچوں کو نوکریاں مل جائیں گی اور ان کی گزر بسر کا انتظام ہو جائے۔ کبھی آپ نے ایسے جواب کے پیچھے چھپے اسباب کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ لیڈر نہیں چاہتے کہ پاکستان کے بچے تعلیم یافتہ ہوں، کیوں کہ تعلیم سے بیداری پیدا ہوتی ہے، اپنے حقوق کو لوگ پہچاننے لگتے ہیں، بڑے ہوکر یہی بچے جب ان لیڈروں سے ان کے گناہوں کا جواب طلب کریں گے تو ان کی مشکلیں بڑھ جائیں گی، اسی لیے وہ ان بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں ہونے دینا چاہتے۔ ملک کے اندر بنیادی تعلیم کا قانون پاس ہو چکا ہے، لیکن جب اسکول ہی نہیں رہیں گے تو پھر تعلیم کا کیا مطلب ہے۔ جو اسکول اور کالج موجود ہیں، ان میں اساتذہ کا ہی تقرر نہیں کیا جائے گا، تو پھر حق تعلیم کا قانون تو بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے۔اسی طرح مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے خواتین کو بااختیار بنایا گیا، ان کے لیے ارباب اقتدار میں نشستیں محفوظ کی گئیںہیں، پنچایتی نظام میںبھی عورتوں کو حق دیا گیا ہے، لیکن صورت حال یہ ہے کہ خواتین پر ظلم و ستم کے سلسلے اب بھی جاری ہیں۔پیپلزپارٹی کی حکومت میں پولیس کا رویہ سب کو معلوم ہے۔ ہمارے ملک کا پولیس نظام انگریزوں کے ذریعہ قائم کردہ ہے۔ پولیس کا صرف ایک کام ہے، معصوم پاکستانیوں پر ظلم ڈھانا۔ لیکن آج جب پیپلزپارٹی کی حکومت ہے توکیا پولیس کے نظام کو درست نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کے دانشور طبقہ کی یہ رائے ہے کہ چوری، ڈکیتی، لوٹ مار اور قتل و غارت گری کے زیادہ تر واقعات میں پولیس کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ بعض لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کسی علاقے میں لوٹ مار کی کوئی بڑی واردات ہوتی ہے تو اس میں ملوث شر پسند عناصر پولیس کو پیشگی اطلاع دے دیتے ہیں۔ لیکن اگر عام شہری پولیس کے پاس چوری کے کسی واقعہ کی رپورٹ لکھوانے جائے تو اسے ڈانٹ کر بھگا دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہیں کسی با رسوخ آدمی کا فون پولیس کے پاس آ جائے تو پولیس چوری کے سامان کو چوبیس گھنٹے میں برآمد کر لیتی ہے،آخر کیسے؟ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ چوروں اور غنڈوں کی طرف سے پولیس کو چوری کے مال سے کمیشن مل جاتاہے، اس لیے
وہ اکثر ایسے واقعات کے بعد خاموش ہو جاتی ہے۔ پولیس اگر چاہے تو ملک کے کسی بھی حصہ میں پرندہ تک پر نہیں مار سکتا۔ لیکن پولیس کام اس لیے نہیں کرتی کیوں کہ وہ یہ اچھی طرح سمجھتی ہے کہ اگر پولیس کے لوگ ایماندار ہوگئے تو پھر لیڈروں تک وصولی کا پیسہ کیسے پہنچے گا۔ اسی لیے کسی جرم کو ہوتا ہوا دیکھ کر بھی پولیس آنکھیں موند لیتی ہے۔تو بتائیے گا کہ عوام کس طرح سے پولیس پر اعتماد کریگی۔ہمارے ملک کی بدقسمتی رہی ہے کہ جو بھی حکمران آتا ہے وہ پولیس کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے۔تو سوچئے عام آدمی کدھر جائے اور اپنی روداد کس کو سنائے۔ملک کا عام آدمی سرکار کے اس اندھے بہرے قانون سے کافی پریشان ہے، ملک میں قانون تو بنا دیے جاتے ہیں لیکن جن لوگوں پر اس قانون کو نافذ کرنے کی ذمہ داری ہے، اگر وہی بے ایمان ہو جائیں تو پھر کون کیا کر سکتا ہے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو عوام کا اعتماد حاصل کرنا پڑے گا۔ یہ اچھی بات ہے کہ ہر پانچ سال کے بعد ان لیڈروں کو جھولی پھیلاکر عوام کے سامنے جانا پڑتا ہے اور ووٹ کی بھیک مانگنی پڑتی ہے، لیکن یہی گداگر جب بڑا عہدہ پاجاتے ہیں تو پھر عوام کو اپنی بوٹوں تلے روندنا شروع کر دیتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور پھر ملک کے اندر کسی عوامی انقلاب کی ایسی آندھی چلے کہ کوئی لیڈر بچے ہی نہیں۔ یہ ملک کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے لیڈر اپنا محاسبہ خود کریں اور عوام کی نبض کو پہچانیں، ملک کے وفادار بنیں اور ایسی کوشش کریں کہ اس ملک میں ہمارے بچوں کا مستقبل روشن ہو، وہ ہر طرح سے مضبوط بنیں تاکہ ان کے اوپر کوئی ظالم حکمراں نہ مسلط ہو سکے۔پاکستان میں ن لیگ،پیپلزپارٹی،جماعت اسلامی ،ایم کیو ایم سمیت سبھی صرف اپنے مفادات کا رونا روتے ہیں۔اگر عوام کو کوئی چراغ نظر آرہا ہے ۔تو وہ عمران خان ہے ۔جس کو عوام سمجھتی ہے کہ شائد عمران خان ہی کرپٹ حکمرانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلے گا اور عوام کو انصاف ملے گا۔عمران خان کی تحریک اور اسے ملنے والی عوامی حمایت سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت وقت کے خلاف پورے ملک میں ایک چنگاری سلگنے لگی ہے، یہ کب ایک آتش فشاں کی شکل اختیار کرلے ، کسی کو نہیں معلوم۔ حکومت کی طرف سے حالانکہ اسے کچلنے کی پوری تیاری چل رہی ہے، لیکن یہ تحریک اب ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے، جہاں سے اسے انقلاب کی شکل اختیار کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ حکومت کے پاس وسائل ہیں، اگر وہ چاہے تو تمام مسائل کا حل نکال سکتی ہے، مسائل کے حل کے ذریعہ ہی عوام کا دل جیتا جاسکتا ہے۔ اس لیے سرکار کو چاہیے کہ وہ ایمانداری سے اپنا کام شروع کردے۔ سرکاری نظام میں جہاں جہاں اور جو جو خامیاں ہیں، انہیں دور کرنے کی پوری کوشش ہونی چاہیے۔ سرکار اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے ہم اپنے ملک کو جنت نشاں بنا سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں پیسوں کی کمی نہیں ہے، نوجوانوں کی کمی نہیں ہے، ایماندار لوگوں کی کمی نہیں ہے، کمی اگر ہے تو صرف صدق دلی کی، قوت ارادی کی، ملک کے تئیں وفاداری کی۔ اگر سرکارآج سے ہی ایمانداری سے اپنا کام شروع کردے اور عوام کی خدمت کے فریضہ کو انجام دینا شروع کردے تو پھر ہم ایک سنہرے پاکستان کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ ملک کے اندر جب تعلیم کا بول بالا ہوگا، صاف و شفاف سرکاری نظام ہوگا تو چوری، ڈکیتی، عصمت دری اور اس جیسے زیادہ تر جرائم خود بخود کم ہوتے چلے جائیں گے۔ دنیا اس بات کی منتظر ہے کہ پاکستان عالمی پیمانے پر اپنا قائدانہ رول ادا کرے، لہٰذا ایسا کرنے سے پہلے ہمیں اپنے گھر کے اندر کی کمیوں، کوتاہیوں اور خامیوں کو دور کرنا پڑے گا۔ وقت کی یہی آواز ہے، ہمارے لیڈران اس بات کو جتنا جلد سمجھ لیں ان کے حق میں بہتر ہے۔راقم کالمسٹ کونسل آف پاکستان کے صدرکے طورپر فرائض نبھا رہے ہیں

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:بیس ہزار مزدوروں کی نمائندہ تنظیم پی او ایف ورکمین ایسوسی ایشن کے انتخابات مکمل

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker