تازہ ترینکالمملک ساجد اعوان

واہ رے عمران خان تری قسمت

عمران خان نے سات اکتوبر کو وزیرستان میں جلسے کا اعلان کیا اور بعد میں ایک ایجنٹ کا بیان سامنے آیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے زیر انتظام مارچ کو قبائلی علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی تحریک انصاف کے جومرکزی کردار تھے انہوں نے کہاکہ ریلی کا مقصد امن ہے اور حکومت کی طرف سے جہاں روکا گیا وہ وہاں جلسہ کرے گے جب بھی کوئی لیڈر اپنے ساتھ مارچ کے لئے لاکھوں افراد کو لے کر نکلتاہے تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ یہ مارچ کامیاب بھی ہوگا کہ نہیں آج دن تک تو کوئی ایسا دیکھنے میں نہیں آیا کہ کوئی ریلی کامیاب ہوئی ہو اور عوام کو فائدہ ہواہو۔جب عمران خان کو کہاجارہاہے کہ داخلے پر پابندی ہے تو کیا ضروری ہے کہ وزیرستان میں ہی جلسہ کرناہے اور عوام توچاہتی ہے کہ کوئی نہ کوئی شغل مل جائے عمران خان صاحب آج صبح معمول کے مطابق اسلام آبادسے ریلی کو لے کر نکلے اور جسے جسے خبرملی لوگوں نے دیوانوں کی طرح اپنے اپنے سٹاپ پر عمران خان کا انتظار کرنا شروع کردیا چاہے ہماری عوام اپنے لیڈروں کے پیچھے ایسے بھاگتی ہے جیسے کوئی چیز کسی کا شکار کرتی ہے مجھے نیوز ملی کہ بلکسرسے تلہ گنگ تک شہرکو سجادیاگیا کہ عمران خان نے گزرناہے اور مختلف مقامات پر عوام سے خطاب بھی کرناہے چھوٹے چھوٹے گاؤں جیسے بلال آباد‘ ٹمن مو ڑ ‘میال‘ترحدہ‘کوٹ قاضی‘دندہ شاہ بلال وغیرہ جن سے عمران خان نے گزرناتھا لوگ صبح سویرے دیوانوں کی طرح انتظا کرنے لگے ہر طرف عمران خان کے نعرے ہی نعرے ۔ عمران خان نے کہیں
بھی خطاب نہیں کیا نہ ہی گاڑی سے اترے استقبال کرنے والے مایوس اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اس قوم کی بھی کچھ سمجھ نہیں آتی کبھی نوازشریف کے نعرے کبھی زرداری کے نعرے اور کبھی عمران خان کے نعرے جب بندہ ایک جگہ پر قائم نہیں ہوگا تو ذلیل ہوگا میں اس وقت پاکستانی عوام ہورہی ہے انہی لیڈروں کی وجہ سے عوام کو اتنے تحفے ملے ہیں جن کا ذکر بعد میں کبھی کروں گا جن میں سے چند یہ ہے ۔بجلی مہنگی‘ بیروزگاری اور بہت کچھ خیر بات کہاں سے کہاں نکل جاتی ہے آخر کار مجھے ایک SMSآیا عمران خان صاحب تلہ گنگ پہنچ گئے ہیں تلہ گنگ والے کبھی سردار ممتاز ٹمن ‘ سردار فیض ٹمن‘ سردار منصور صاحب ٹمن اورملک سلیم اقبال‘ کرنل سرخردصاحب کے دیوانے ہوتے ہیں اور آج باری آگئی عمران خان کی وارے عمران تیری قسمت کو سلام جو عوام غربت کی چکی میں پسی زندگی گزاررہی ہے اس کا بھی کوئی حال نہیں ہے ہماری تلہ گنگ کی عوام کو ہوش میں آنا ہوگا تلہ گنگ کا لفظظ کتنا پیاراہے کہیں کسی کے سامنے ذکر کرو تو لوگ پوچھتے ہیں کہ کس طرف ہے تلہ گنگ میں کوئی یونیورسٹی نہیں ہے اور تعلیمی نظام نہ ہونے کے برابر ہے ہمیں اس طرح کے نظام کو خیر باد کہناہوگا ہمیں پرانے سیاسی لیڈروں کا پیچھا چھوڑنا ہوگا نئی نسل کو سامنے لاناہوگا عوام کے چھوٹے چھوٹے مسائل جوں کے توں پڑے ہیں اگر کسی کو شک ہو تو میرے سے رابطہ کرے میں جا کر دکھاؤں گا کہ یہ ہے ہماری عوام اوران کے مسائل کافی ہوگئی ہماری عوام بندرکی طرح ناچتی رہی ہے ہمیں برادری ازم کی ووٹنگ کو ختم کرناہوگا اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرناہوگا اگر یہی لیڈر دوبارہ لانے ہیں تو میراخیال ہے کہ الیکشن کی کوئی ضرورت نہیں ہے اب تو ہماری عوام کو پتہ چل جانا چاہیئے کہ کوئی کتنے پانی میں ہے اگر نہیں چلا تو اللہ ہی مالک ہے ہم تلہ گنگ والے کسی سے کم نہیں ہیں ہمار اعلاقہ بہت خوبصورت ہے ہمارے علاقے کے لوگ پڑھے لکھے ہیں اب وہ دورنہیں رہا اب ہمارا دور ہے ہمیں اپنے آپ کو تبدیل کرناہوگا عمران خان صاحب آئیں یا کوئی اور آئے خوش آمدید لیکن وہ یہ دیکھے کہ اس علاقے کی عوام کے مسائل کیا ہیں لیڈر ہوتے کس لئے ہیں ورنہ ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے
نوٹ‘ جب عمران خان صاحب کو کہا گیا کہ آپ کا داخلہ بند ہے تو یہ وزیرستان کی طرف کیوں نکلے؟؟

یہ بھی پڑھیں  پرویزمشرف کےفارم ہاؤس کےقریب سےبارود بھری گاڑی پکڑی گئی

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. جناب داخلے پر پابندی تو حکومت نے لگائی ہے جب کے وہا کی مقامی قبائیل نے عمران خان کو سیکورٹی دینے کا علان کیا ہے آپ ایک طرف کہتے ہو کے خود کو بدلنا ہوگا اور پھر کہتے ہو کے وزیرستان میں جلسہ کرنا لازمی ھے تو جناب پر تو ہہ پہی لکھوں کے امن مارچ کی کیا ضرورت تہی کیونکہ ڈرون کی اجازت تو گورنمنٹ نے دی ہے جب حکومت ڈرون نہی روکناں چاہتی ہے تو عمران خان کو کیا ضرورت تہی

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker