تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

عمران خان بمقابلہ سیاسی مافیا

imran farooq2013 ؁ء میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کا کھوج لگانے کے لیے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کی سر بمہر رپورٹ وزارتِ قانون نے وزیر اعظم کو پیش کر دی ہے ۔ حکومتی چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس رپورٹ کے مطابق جو ڈیشل کمیشن نے پی ٹی آئی کے عائد کردہ تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے ۔عدالتی کمیشن کے قیام کے وقت طے کردہ ٹرمز آف ریفرنس (TOR) عندیہ دے رہے تھے کہ اُونٹ کِس کروٹ بیٹھے گا۔ گزشتہ انتخابات میں کار فرما ملکی اور غیر ملکی طاقتیں میاں برادران کی تخت نشینی کا فیصلہ بہت پہلے کر چکی تھیں ۔ لہذا الیکشنز کے دوران ایسی فضاء تیار کی گئی جو کہ میاں برادران کیلئے ساز گار تھی ۔ ان الیکشنز میں تحریک انصاف کو الیکٹورل کالج میں دوسری بڑی پارٹی بننے سے روکنا تھا ۔ تحریک انصاف ایک ایسا مقدمہ لڑ رہی تھی جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ یہ مقدمہ ایسا ہی تھا جیسے ایک شخص کسی دستاویزی ثبوت اور گواہان کے بغیر دوسرے شخص کو کچھ رقم اُدھار دے اور دوسرا فرد وُصولی کے بعد سے مکر جائے ۔ ایسی صورتحال میں عدالت کیا کر سکتی ہے ؟ انتخابی دھاندلی پکڑنے کیلئے عدالتی کمیشن درست پلیٹ فارم ہر گز نہیں ہے بلکہ دھاندلی کو بے نقاب کرنے کا درست فورم (FORUM) روپا ایکٹ 1967کے تحت بنائے گئے الیکشن ٹربیونلز ہیں ۔ جہاں پر ایک ایک لفظ پر جرح کی جاتی ہے ۔ اور تمام ثبوتوں ، گواہان اور قانونی دلائل کی روشنی میں فیصلہ دیا جاتا ہے ۔
عمران خان کا مقابلہ میاں برادران ، مولانا فضل الرحمن ، آصف علی زرداری ، الطاف حسین ، اسفند یار ولی جیسی شخصیات پر مشتمل سیاسی مافیا سے ہے ۔ مرغوں کی طرح لڑنے مرنے کے باوجود مفادات کیصورت میں سب اکٹھے ہو جاتے ہیں ۔ عمران خان کو ہر قدم پھونک پھونک کر اُٹھانے کی ضرورت ہے ۔ جوڈیشل کمیشن کی وضع کردہ رپورٹ 300صفحات پر مشتمل ہے ۔ مکمل رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ہی سیاسی منظر نامہ واضح ہو گا ۔ دنیا بھرمیں سیاست رونما ہونے والے واقعات (Events) کے گرد گھومتی ہے۔ پاکستانی جنتا(Public) کو جوڈیشل کمیشن کے فیصلہ سے کوئی سرو کار نہیں ہے ۔ جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ میاں صاحب اور عمران خاں کی پوزیشن تو بدل سکتا ہے لیکن عام آدمی کے مسائل کا حل پیش نہیں کر سکتا ۔ مہنگائی ، بے روزگاری ، صحت و تعلیم ، امن و امان کے مسائل کے علاوہ بجلی ، گیس اور پانی کی کم یابی نے عوام کی زندگی کو اجیرن کر رکھا ہے ۔ یوں بھی آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی میڈیا اور مسلم لیگ (ن) کے دباؤ کا شکار ہو گی ۔ یہ شنید بھی ہے کہ ممکنہ طور پر پی ٹی آئی عوامی ایشوز (Issues) کو بنیاد بنا کر احتجاجی تحریک شروع کر سکتی ہے۔سیاسی پنڈت پہلے ہی اگست ، ستمبر میں حکومت مخالف احتجاج کی پشین گوئی کر چکے ہیں ۔
میاں صاحب کو فاتحانہ انداز میں ٹی وی چینلز پر تقریر کرنے کی ہر گز ضرورت نہ تھی ۔ ہلکی پھلکی طنز کے بعد گو کہ اُنہوں نے ماضی کو بھلا کر مستقبل میں اکٹھے کام کرنے کی دعوت دی ہے۔ لیکن اگر وہ یہی کام ایک پریس ریلیز کے ذریعے کر لیتے تو بہتر ہوتا ۔ اسی طرح حکومت کو چاہیئے کہ دانیال عزیز ، طلال چودھری ، عابد شیر علی جیسے جارح مزاج میڈیا مینجرز کی بجائے شیریں گفتار مصدق ملک ، زبیر عمر ، احسن اقبال وغیرہ کو یہ ذمہ داری سونپ دے۔

یہ بھی پڑھیں  پٹرول کی قیمت میں ایک روپے 57 پیسے فی لٹر کمی کر دی گئی

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker