شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / عمران خان میں اخلاقی جرات کی کمی نہیں

عمران خان میں اخلاقی جرات کی کمی نہیں

مسلہ یہ ہے وہ اداروں کو کھڑا ہونے میں مدد دے رہے ہیں اس لیے وہ ان میں مداخلت نہیں کرتے ،وہ ایک بیان دیتے ہیں اور اپوزیشن میں صف ماتم بچھ جاتی ہے سات دن بعد ایک اور بیان آتا ہے اور سب پہلے ایشو کو چھوڑ کر اگلے کے پیچھے پڑ جاتے ہیں حالانکہ عمران خان ایک کھلاڑی کی طرح ہر گیند پرحکمت عملی تبدیل کر دیتے ہیں اس کو آپ غیر سنجیدہ کہیں یا یوٹرن انکی گگلی آپ کو کلین بولڈ ضرور کر جاتی ہے
میڈیا نے کب ایسا وزیر اعظم دیکھا تھا جو آمنے سامنے بیٹھ کر اس طرح آپ کے ہر سوال کا جواب دے اور آپ اس وقت تو کچھ نہ کہہ سکیں باہر آ کر جو مرضی کہیں وہاں کوئی پرچی نہیں تھی نہ سوال نامہ لکھوایا گیا تھا نہ جواب نامہ تھمایا گیا تھا بڑے نامی گرامی اینکر پوری طرح تلخ سوالوں کے اسلحے سے لیس ہو کر گئے تھے کسی سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے یہ نہیں کہا زرداری کی طرح کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں نہ میاں صاحب کی طرح پرچی کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑائی ہیں نہ اپنے دائیں بائیں کارندے بٹھائے ہیں جو لقمے دیں یا کانا پھوسی کریں تو پھر مخالفین کو گلہ کیا ہے ؟
سات سات اینکرز اور اکیلا وزیراعظم ۔۔۔۔وزیراعظم کا کہنا تھا کسی حکومت کو ایسے حالات نہیں ملے جو ہمیں ملے یہ ایک ملٹی کرائسس ہے ایک ادارہ ٹھیک نہیں ہم نے اپنی سیاست کی بنیاد ہی کرپشن ختم کرنے پر رکھی تھی اب یہ قوم فیصلہ کرے کرپشن ختم کرنی ہے یا اسی طرح چلانا ہے پاکستان کو ؟اگر اسی طرح چلانا ہے تو پھر پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں ہم نے جتنی محنت کی ہے اور جتنا کام کیا ہے سو دنوں میں ایک ڈائریکشن سیٹ کی ہے اس وقت فوج پوری طرح پی ٹی آئی کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے مجھے تمام وزرا کی کارکردگی کی رپورٹ مل گئی ہے آئیندہ ہفتے سب رپورٹس دیکھوں گا ہو سکتا ہے کچھ وزرا کو تبدیل کرنا پڑے،اسٹیٹ بینک نے روپے کی قیمت میں کمی پوچھے بغیر کی ،ڈالر کی قیمت کنٹرول کرنے کے لیے میکانیزم بنا رہے ہیں ہم نے ان کو میسج بجھوایا ہے کہ ہمیں ایک چھوٹا سا کلیو دیا کریں سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں کے وفد سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جمعے کے روز ڈالر کی قیمت میں اضافہ اسٹیٹ بینک نے کیا اس پر حامد میر نے سوال کیا یہ کیسے ہو سکتا ہے آپ چیف ایگزیکٹوہیں ؟اس پر عمران خان نے کہا کہ سٹیٹ بینک ایک اکانومسٹ ادارہ ہے اور روپے کی ڈی ویلیوایشن بھی اسٹیٹ بینک نے اپنی صوابدید پر کی ،اسی سلسلے میں معروف اینکر معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ سی آئی اے،را،اور موساد کے ساتھ مل کر پاکستان کی پاور فل مافیا نے نئی حکومت کو گرانے کے لیے انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر مہنگا کیا اصل حقیقت کیا ہے یہ بھی جلد سامنے آجائے گا لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ عمران خان اس پر بالکل بھی پریشان نہیں تھے انہوں نے بڑی خندہ پیشانی سے صحافیوں کے سوالوں کا سامنا کیا بلکہ قوم کو خوشخبری بھی دی انہوں نے کہا میں پاکستانی قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ملک میں ڈالروں کی کمی نہیں ہوگی پاکستان میں گیس کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں ’’ ایگزون کمپنی ‘‘27 سال بعد گیس نکالنے آ رہی ہے اتنی گیس ہے کہ پچاس سال تک کمی نہیں ہوگی انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پچھلی حکومت گئی تو ملک میں اڑھائی ارب کا خسارہ تھا پاور سیکٹر 1200ارب کے خسارے میں تھا ،پی آئی اے اور سٹیل مل خسارے میں تھی جس طرح موجودہ حکومت کو بحران کا سامنا ہے اس سے قبل کسی حکومت کو اس قدر بحران کا سامنا نہیں تھا لیکن ہماری کوشش ہے کہ تاجروں کو سہولیات دیں سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں سرمایہ کاروں کے مسائل کے حل کے لیے ایک دفتر بنائیں گے ان کے مسائل کو فوری حل کیا جائے گا مستقبل میں اقتصادی اشاریے ٹھیک جا رہے ہیں آنے والے دنوں میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے انشا اللہ اداروں کو ٹھیک کریں گے جن سے ڈالر نیچے آ جائے گا وزیر اعظم کا کہنا تھا ایک طرف ہم آئی ایم ایف سے قرضے لے رہے ہیں تو دوسری جانب ہمارے لوگوں کے غیر ملکی اکاؤنٹس میں گیارہ ارب ڈالر پڑے ہوئے ہیں ان کا کہنا تھا سوئزرلینڈ کے ساتھ بھی ہمارا معاہدہ طے پانے والا ہے جس کے تحت گذشتہ پانچ سالوں کی رقوم کی منتقلی کی معلومات شیئر کی جائیں گی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس بارے میں چھبیس ملکوں سے رابطے ہیں ،پانامہ کے بعد بہت سے لوگوں نے اپنے اکاؤنٹس ختم کر دیے ہیں انہوں نے کہا ان معاہدوں کے تحت جب ہم نے دبئی اور سعودی عرب سے ڈیٹا منگوایا تو معلوم ہوا کہ دونوں ممالک نے اقامہ ہولڈرز کی معلومات نہیں دیں کیونکہ وہ دوبئی کے شہری بھی مانے جاتے ہیں جس پر یہ معلوم ہوا کہ نواز شریف ،خواجہ آصف اور دیگر نے اقامے کیوں لے رکھے تھے انہوں نے منی لانڈرنگ جو کرنی تھی پاکستان سے دبئی پیسہ بجھوایا جہاں سے سوئزرلینڈ،لندن اور ترکی بھیجا گیا ۔۔۔۔اعظم سواتی کیس کے حوالے سے ایک تلخ سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا میں نے اعظم سواتی کے کیس میں کوئی مداخلت نہیں کی میرا کوئی بھی وزیر اگر کسی معاملے میں قصوروار ٹھیرا تو وہ خود ہی استعفی دے دے گا بابر اعوان نے از خود استعفی دیا تھا ان کا کہنا تھا آپ اس معاملے کی شفافیت پر کیسے شک کر سکتے ہیں اعظم سواتی کے خلاف جتنی بھی تحقیقات ہوئی ہیں میرے ماتحت ہوئی ہیں اگر میں چاہتا تو کیا میں اس میں مداخلت نہیں کر سکتا تھا؟لیکن میں نے ایسا نہیں کیا میں چاہتا ہوں معاملات شفاف انداز میں چلیں اور اور جو قصوروار ہو اس کو سزا بھی ملے (اس سلسلے میں اگر ماضی قریب میں جھانکیں تو متعدد ایسی مثالیں ملیں گی جن میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے نہ صرف اپنے قصوروار وزرا کو بچایا بلکہ جو عدالت سے سزا پاتا تھا اس کو اس سے بڑے عہدے پر تعینات کر دیا جاتا تھا
لیکن عمران خان نے اپنی پارٹی کا مستقبل تو داؤ پر لگا دیا مگر عدالتوں کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کی اس کا کریڈٹ بحرحال ان کو دینا چاہیے )جنوبی پنجاب صوبہ بنانے سے متعلق سوال پر انہوں نے گو تفصیلی جواب نہیں دیا کیونکہ یہ معاملہ انڈر پروسس ہے لیکن انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ صوبہ بنائیں گے ،تحریک لبیک سے متعلق ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا ہم نے تحریک لبیک سے ہر طرح سے بات کرنے کی کوشش کی ہم نے گستاخانہ خاکوں سے متعلق ہالینڈ سے بات کی اور اس کو روکا ہم نے اقوام متحدہ میں بات کی اور متعدد اقدامات اٹھائے ہم نے کہا آپ ہولو کاسٹ پر لوگوں کو جیل میں ڈال دیتے ہیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے پر آپ کو آزادی اظہار رائے یاد آ جاتی ہے انہوں نے کہا کہ ہم وہی کریں گے جس کا فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی انہیں اپنی سیاسی دکان بند ہونے کی فکر پڑی ہوئی ہے انہوں نے کہا اگر کوئی کھڑا ہو جائے کہ میں نبی ص کا سپاہی ہوں تو پوری قوم اس کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی کیونکہ نبی کے عشق کے بغیر کوئی مسلمان مکمل نہیں ہوتا لیکن وہ لوگ اس کو ووٹ بینک بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں عمران خان نے آئیندہ دس دنوں میں وفاقی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں قبل از وقت الیکشن ہو سکتے ہیں (یہاں میں جہانگیر ترین کے بیان کا حوالہ دینا چاہونگی فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے الیکشن بارے سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت تیار نہیں بیٹھی وزیراعظم نے بس یہ کہا تھا کہ انتخابات کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں تاہم قبل از وقت انتخابات کرانے کا نہیں سوچا قبل از وقت انتخابات ہوئے بھی تو پی ٹی آئی جیتے گی جہانگیر ترین نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا ان کا وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے کوئی جھگڑا ہے نہ اختلاف ،کس کی وزارت خطرے میں ہے یہ راز تو صرف کپتان کے سینے میں دفن ہے انہوں نے کہا حکومت کو صرف تین ماہ میں بہت سے حملوں کا سامنا ہے پی ٹی آئی کی حکومت پاکستان کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور ہم پچھلے تیس سالوں کا گند صاف کر رہے ہیں ) وزیر اعظم عمران خان نے اکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں خط لکھا ہے امریکی صدر چاہتے ہیں پاکستان افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے پاکستان اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا ،کرتار پور راہداری گگلی نہیں ایک سیدھا سادہ فیصلہ ہے ہم نے بھارت کے نفرت پھیلانے کا منصوبہ ناکام بنا دیا اپوزیشن ہمارے ساتھ نہیں چلنا چاہتی تو نہ چلے ہم شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین نہیں بنائیں گے ،آرمی چیف لا پتہ افراد کا مسلہ حل کرنے کے لیے ہمارے ساتھ ہیں ،ذلفی بخاری کے معاملے پر اقربا پروری کے ریمارکس پر افسوس ہوا
وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں کے ساتھ تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ امریکی صدر نے اپنے خط میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے اور امن کے لیے کوشش پر زور دیا ،ماضی میں امریکہ کے ساتھ معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا گیا ،جبکہ ہم مسلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی پر عزم ہیں دونوں حکومتیں چاہیں تو یہ مسلہ حل ہو سکتا ہے ،وزیر اعظم نے کہا منی لانڈرنگ پر سخت قانون لا رہے ہیں بڑے بڑے لوگ سامنے آنے سے ڈر رہے ہیں گو سلو پالیسی والے افسران کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ! مسزجمشیدخاکوانی

یہ بھی پڑھیں  قاضی حسین احمد کے قافلے کے قریب دھماکا