تازہ ترینصابرمغلکالم

عمران خان اور طاقت اور مافیا آمنے سامنے

وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی تاریخ میں پہلی بار پاکستانی عوام دشمن مافیاز کے انکوائری کمیشن کے ذریعے بے نقاب کرنے کا اقدام تمام تر مصلحتوں،چینلجنز،پریشر،دھمکیوں اور حکومت کو شدید خطرہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کیا جس کی وجہ سے ملک بھر ہلچل مچ گئی ہے،اس رپورٹ میں سب زیادہ فائدہ عمران خان کے انتہائی قریبی دوست جہانگیر ترین کو ہوا، گندم چینی بحران رپورٹ پر وزیر اعظم عمران خان نے کہاگندم چینی بحران کے ذمہ داران کے خلاف 25اپریل کو تفصیلی رپورٹ کے آنے کے بعد کیا جائے گا،میں عوام سے کئے وعدے مطابق گندم اور چینی کی قیمتون میں اچانک اضافے اور بحران کی تحقیقاتی رپورٹ بغیر کسی ردوبدل کے عوام کے سامنے پیش کر دی اب کوئی بھی با اثر لابی عوام کا پیسہ نہیں کھائے گی،کسی با اثر لابی کو عوامی مفادات کا خون کرنے نہیں دیں گے،اب مافیاز ناجائز منافع خوری کے قابل نہیں رہے گامفادات کی آبیاری اور سمجھوتوں کا دور ختم،ایسی رپورٹ کو ماضی میں پبلک کرنے کی ایک بھی مثال نہیں کیونکہ سابق حکمرانوں میں اپنے مفادات اور مصلحتوں کے باعث ایسی رپورٹس جاری کرنے کی اخلاقی جرات ہی نہیں تھی،اب اعلیٰ اختیاراتی کمیشن سے تفصیلی فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے،بحران کے تمام ذمہ داران کو بلا تفریق کیفر کردار تک پہنچائیں گے،یہ کمیشن کی 32صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کی گئی سفارش پریہ کمیشن انکوائری ایکٹ2017کے تحت قایم کیا گیا جو کام شروع کر چکا ہے تاہم ان کی رپورٹ40دن میں مکمل ہو کر25اپریل تک حکومت کو پیش کر دی جائے گی،یہ انکوائری کمیشن بحران سے زیاہد فائدہ اٹھانے والی 9شوگر ملز جن میں جہانگیر ترین کی ملیں بھی شامل ہیں کا فرانزک آڈت کر رہی ہے،یہ رپورٹ ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی سربراہی 6رکنی کمیٹی نے بنائی جس میں انٹیلی جنس بیورو،اسٹیٹ بینک،ایس ای سی پی،ڈائریکٹوریٹ جنرل اور ایف بی آر کے نمائندے شامل تھے،عمران خان نے اس رپورٹ کے آنے کے دوسرے دن ہی ابتدائی کاروائی کا آغاز بھی کر دیا،جہانگیر ترین کوٹاسک فورس برائے زراعت،مشیر برائے پارلیمانی امور و اسٹیبلشمنٹ محمد شہزاد اکبر،مشیر صنعت و تجارت اور شوگر ایڈوائزری بورڈ کے چیرمین،سیکرٹری وزارت تحفظ خوراک و تحقیق ہاشم پوپلزائی اپنے عہدوں سے فارغ،کمشنر ڈیرہ غازی خان نسیم صادق جو اس وقت سیکرٹری خوراک تھے اور سابق سیکرٹری خوراک ظفر اقبال او ایس ڈی بنا دیا گیا،جبکہ وفاقی کابینہ میں ردو بدل کرتے ہوئے وزیر برائے تحفظ خوراک و تحقیق خسرو بختیار کا قلمدان تبدیل خسرو کو اکنامک افئیرکا قلمدان،ان کی جگہ فخر امام،اقتصادی امور کے حماد اظہر کواقتصادی امور کی بجائے وزارت صنعت کا قلمدان،وزیر برائے پارلیمانی امور سینیٹر اعظم سواتی کو نارکوٹکس کا قلمدان سونپ دیا گیا جبکہ بابر اعوان کو معاون خصوصی برائے پارلیمانی امور مقرر کیا گیا ہے،ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کا ستعفیٰ قبول کرتے ہوئے ان کی جگہ ایم کیو ایم کے ہی امین الحق کو ٹیل کی وزارت دی گئی ہے،پنجاب کے وزیر خوراک سمیع اللہ نے خود استعفیٰ دیتے ہوئے کہاکہ عمران خان کے ویژن پر ایسی ہزاروں وزارتیں قربان،میں محکمہ میں ریفامرز نہیں کر سکاالزامات تک کوئی عہدہ نہیں لوں گا، ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیر اعظم ایک سیکنڈل جس میں اس کے اپنے ہی سیاسی رفقاء شامل ہیں کے ناموں کے ساتھ رپورٹ شائع کرنے کی اجازت دی،اگر فرانزک آڈت کے بعد ان شخصیات کے خلاف کاروائی کرتے ہیں تووہ ایک تاریخ رقم کر دیں گے لیکن ساتھ ہی انہیں انتہائی گھمبیر سیاسی چیلنجز بھی پھن پھیلا کر کھڑے ہوں گے یہ ان کے لئے بہت بڑی آزمائش ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ رپورٹ پبلک ہونے سے قبل نہ صرف انکوائری ٹیم بلکہ عمران خان کو پہلے باز رکھنے کی کوشش کی گئی بعد ازاں اسی مافیاز نے انکوائری کمیٹی سمیت وزیر اعظم تک کو دھمکیاں دیں،عمراں خان سے کہا گیا اگر ہمارے خلاف کاروائی ہوئی تو پھر حکومت بھی نہیں رہے گی،معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہاچینی اور آٹے کے بحران کے حقائق عوام کے سامنے پیش کرناعمران خان کا وہ وعدہ تھا کہ خود احتسابی کا عمل اپنی صفوں سے شروع کریں گے 30سال سے جاری کھیل میں مفاد پرست پالیسی میکنگ کا حصہ رہے،تین اب روپے کی سبسڈی میں اڑھائی ارب روپے ہمارے دور میں جاری ہوئے جبکہ مسلم لیگ (نٌ کے دور میں چینی پر 25روپے کی سبسڈی دی گئی آج انہی کے لوگ بغلیں بجا رہے ہیں شریف خاندان نے سلمان شہباز کے ذریعے 1ارب 40کروڑ روپے کی اس مد میں حاصل کئے،کابینہ میں ردوبدل پر فردوس عاشق نے ٹویٹ کیا کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی ذمہ داریاں امانت سمجھ کرنبھا رہے ہیں،کابینہ میں ردو بدل ان کی صوابدید ہے پاکستان کی تاریخ میں ایسی خود احتسابی کی مثال نہیں ملتی،کیا عجب بات ہے کہ واجد ضیاء کی سربراہی میں پانامہ کیس کی انکوائری پر ن لیگ سیخ پا ہونے کی انتہا تک پہنچ گئی اب اسی کی گئی انکوائری پر مسلم لیگ PTIارکان کے خلاف کاروائی کرنے پر سراپا احتجاج ہیں،شہباز شریف کہہ رہے ہیں کاروائی کی جائے، سلمان شہباز کہتے ہیں یہ انکوائری ہی غلط ہے،چیر مین پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن اسلم فاروقی نے وفاقی ھکومت کی جانب سے جاری رپورٹ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا اس معاملے پر ایک شفاف اور حقیقت پر مبنی بحث کی ضرورت ہے،ہم کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے،جہانگیر ترین نے ٹویٹ میں کہاکہ انہیں 3ارب ملنے والی سبسڈی میں سے اڑھائی ارب روپے مسلم لیگ (نٌ) کے دور میں حاصل کئے،چینی کی صنعت اور سیاست سے وابستہ بڑے کھلاڑیوں میں جہانگیر ترین ہیں جو مشرف دور میں بھی وزیر صنعت تھے ان کا جن کا مجموعی مارکیٹ میں سب سے بڑا حصہ 18سے20فیصد تک ہے،آصف زرداری منی لانڈرنگ میں ملوث اومنی گروپ کے تحت چلنے والی 9شوگر ملز میں حصص رکھتے ہیں،ذوالفقار مرزا،ہمایوں اختر،ہارون اختر،ذکاء اشرف،سردار نصر اللہ دریشک،مخدوم احمد محمود،عباس سرفراز خان،خسرو پرویز کے بھائی ہاشم اور میاں برادران وغیرہ شامل ہیں،چینی کی مارکیٹ یا صنعت کا کنٹرول 6بڑے گروپس کے ہاتھ میں ہے جو 51فیصد حصے اور چینی کی 89ملز میں یہ تقریباً40ملز کے مالک یا شریک مالک ہیں،چینی صنعتکاروں کا جتنا اثر اور کنٹرول سیاسی جماعتوں اور حکومتوں پر ہے وہ کسی اور شعبے میں نہیں،یہ ملک کا واحد کاروبار ہے جس پرآنے والی ہر حکومت کی جانب ہر قدم تسلسل کے ساتھ مالیاتی یا کسی اور نوعیت کی بھرپور سپورٹ ملتی رہی،چینی سے جڑی صنعتی اشرافیہ کو سیاست اور حکومت سے الگ کرنا نہایت مشکل ہے،مسلم لیگ (ن) کی ترجمان دور کی کوڑی لے آئیں جن کے ہر دور میں ہر سال چینی پر سبسڈی جاری رہی نے کہا تحقیقاتی رپورٹ کے بعد وزیر اعظم کو ہتھکڑیاں لگنی چاہئیں،وفاقی وزیر ریلوت شیخ رشید نے25جنوری کو ہی کہہ دیا تھا چینی کی مہنگائی میں شوگر مالکان شامل ہیں،پیپلز پارٹی کے نیر بخاری کہتے ہیں چینی آٹا بحران رپورٹ نے وزیر اعظم کی گورنس کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے منافع خور وزیر اعظم کے املی مدد گار اور انتخابی سرمایہ کار بحران کے ذمہ دار نکلے،PTIکے چیف آرگنائزرسیف نیازی نے چینی کی قیمت کو110روپے لانے کی دھمکی دینے والوں کو متنبہ کیا ہے کہ حکومت کوئی کمپرو مائز نہیں کرے گی اگر ایسا کیا گیا توسرکار شوگر ملز ضبط کر سکتی ہے،چینی کی قیمت میں ایک روپیہ اضافہ سے صارفین کو15ارب 10کروڑ روپے کا ٹیکہ لگتا ہے پاکستان میں سالانہ چینی کااستعمال 51سے60لاکھ میٹرک ٹن ہوتا ہے،، چینی کی طرح آٹا بحران بھی ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا شاخسانہ ہے جس میں بھی سرکاری افسران اور اہم سیاسی شخصیات شامل ہیں،پاکستان میں سالانہ 26.92ملین ٹن گندم کی ضرورت ہوتی ہے حکومت اکتوبر میں اپنے سٹاک سے گندم جاری کرتی ہے،ماضی کی حکومتوں نے پنجاب کے ان اضلاع میں زیادہ فلور ملز لگانے کی اجازت دی جن کی سرحدیں سندھ اور خیبر پختونخواہ کے ساتھ لگتی ہیں،ضلع اٹک میں 41,راولپنڈی میں 127 اور رحیم یار خان میں 80فلور ملز قائم ہیں جو آٹے کی اسمگلنگ میں بری طرح ملوث ہیں کیا ان ملز لگانے کی اجازت موجودہ حکومت نے دی،پاکستان ہر جانب سے مافیاز میں گھرا ہے کوئی اقتدارمیں آ کر اربوں روپے کے قرضے معاف کر دیتا ہے،کوئی پاور پلانٹس کے ساتھ مہنگی بجلی خریدنے کے معاہدے،یہ عوام کو خوب رگڑا لگانے کے ماہر اور زیرک سوچ کے حامل ہیں،اب ہر طرف چور چور کی آوز لگائی جا رہی ہے جو بھی چور ہیں چاہے موجودہ یا ماضی کے سبھی بے غیرت،بے ضمیر،بے حس،عوام دشمن ہی نہیں بلکہ ملک دشمن ہیں مگر سب سے بڑی بد قسمتی تو یہ ہے کہ یہی لوگ ہر دور میں مقدس ایوان تک رسائی رکھتے ہیں،بظاہرمختلف نظریات کے حامل حکمرانوں کی کابینہ کا حصہ ہوتے ہیں،کیا عجب تماشہ ہیں لوٹے بھی ہیں،مارتے ہیں،قومی خزانے کو باپ کا سمجھ کر بانٹتے بھی ہیں،اور پھر بے شرم عوامی ہمدردی میں گلے بھی پھاڑتے ہیں،اب ان کی پوری کوشش ہو گی کہ عمران خان کی حکومت کو ڈگمگا دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  تاخیر کا سلسلہ جاری رہا تو عمرہ پروازیں روک دی جائیں گی: سعودیہ

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker