تازہ ترینصابرمغلکالم

عمران خان۔ وزیر اعظم آف پاکستان کا نیا جمہور ی سفر

تمام تر تحفظات ،رکاوٹوں،دھاندلی ،جیسے اعتراضات کے باوجودطویل جدوجہد اور انتھک محنت کے بعد بالآخر عمران خان پاکستان کے22ویں وزیر اعظم پاکستان منتخب ہو چکے ہیں اس سے قبل سپیکر و ڈپٹی سپیکر کے انتخاب میں بھی اپوزیشن الائنس کے امیدوار سید خورشید شاہ کو شکست سے دوچار ہونا پڑا اسی روز چیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے واضح کر دیا تھا کہ وزیر اعظم کے لئے ہم شہباز شریف کی حمایت نہیں کریں گے بعد میں جماعت اسلامی نے بھی ان کی حمایت سے انکار کر دیا ،مولانا فضل الرحمان اس حوالے سے بھاگ دوڑ کرتے رہے مگر سب بے سود،عمران خان نے یہ شاندار کامیابی کرپشن کے خاتمے اور ملک کو معاشی مسائل کی دلدل سے نکالنے کے نعرے پر حاصل کی ہے ،15ویں قومی اسمبلی میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ سٹیٹس کو کی تمام سیاسی جماعتوں کو بری طرح ہزہمت اٹھانا پڑی ،بڑے بڑے سیاسی پنڈت اور نام نہاد ان داتا اسمبلی کی دیواروں سے باہرجا نکلے جبکہ40فیصد سے زائد نئے لوگ آئے ہیں یہ نظام قدرت ہے کہ اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر تین بار کے وزیر اعظم بکتر بند گاڑی میں اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت لائے گئے،انتخابات کے بعد مسلم لیگ اور پی پی پی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کا غیر فطری الائنس ہواجو پنجاب اسمبلی میں سپیکر (چوہدری پرویز الہٰی )کے انتخاب کے موقع پر چکنا چور ہو گیاپنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے بعض ارکان نے نو منتخب سپیکر پرویز الہٰی کو ووٹ دیاجس پرشریف فیملی کو شدید دھچکا لگا اس دوران پی پی پی کے 7 ارکان نے وووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا،نوے کی دہائی میں فارورڈ بلاک کی ابتداء بھی شریف فیملی نے ہی کی تھی،اگر دیکھا جائے تو بھٹو خاندان کو جن مشکلات سے گذرنا پڑا اس کے اصل ذمہ دار کون ہیں ہر کوئی جانتا ہے،محمود خان پی ٹی آئی کی جانب سے خیبر پی کے وزیر اعلیٰ،بلوچستان میں ان کی اتحادی حکومت، پنجاب میں جمہوری انداز میں شریف فیملی کی حکومت کے خاتمے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا مگر اب مسلم لیگ (ن) پنجاب سے بھی آؤٹ ہو چکی ہے،کراچی میں پی ٹی آئی کوزبردست پذیرائی حاصل ہوئی، اب تو مسلم لیگ (ن) وفاق میں اپوزیشن لیڈر سے بھی محروم نظر آتی ہے،دوسری جانب حکومتی خزانہ تقریباً خالی ہونے کی وجہ سے نئی حکومت کو انتہائی چیلنجز کا سامنا ہے معیشت تباہ و برباد، ملکی خزانہ صرف8سے9 ارب ڈالر اور وہ بھی محدود مدت کے قرضوں پر محیط ہے ،گذشتہ پانچ سالوں میں ملکی قرضوں میں 74فیصد تاریخی اضافہ ہو،رواں سال صرف سود کی مد میں 16سو ارب روپے ادا کئے جا چکے ہیں ابھی اس سال مزید 9ارب30کروڑ ڈالر قرض اور سود کی مد میں ادا کرنے ہوں گے،گردشی قرضہ 10کھرب 66ارب روپے ،رواں مالی سال بجٹ خسارہ مجموعی پیداوار کے 7فیصد اورتجارتی خسارہ18ارب ڈالر سے زائدجبکہ گذشتہ تین ماہ سے ماہانہ ایک ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے ، کمزور سے کمزور حکومت بھی آمریت سے بہتر ہے مگر یہاں حکمرانوں نے جمہوریت کے نام پر آمرانہ طرز روش اختیار کر تے ہوئے جس لوٹ مار ایساکا بازار گرم کر کے دنیا بھر میں پاکستان کے امیج کو بری طرح مسخ کر کے رکھ دیا ،مسلسل تیسری بار جمہوری حکومت سے نئی منتخب حکومت کو اقتدار منتقل ہورہا ہے مگر ہر دفعہ اقتدار کے ساتھ ساتھ نئی حکومت کو معاشی بحران کا تحفہ ضرور ملتا ہے،اس دفعہ تو کچھ زیادہ ہی،نئی حکومت کو رواں مالی سال ملکی معاملات چلانے کے لئے25ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی،ان معاشی مشکلات ،ملکی مسائل کے انبار ،بین الاقوامی اور ملکی پچیدگیوں کے علاوہ مضبوط اپوزیشن کا سامنا ہے ، جمہوریت کے ان سنہری ادوار میں سالانہ 13ہزار ارب روپے جبکہ ماہانہ 12ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے ،ایسے حالات میں نئی حکومت کے لئے نیا امتحان سامنے آ گیا ہے انتہائی پرپیچ راستے سے کیا عمران خان ملک کو معاشی دلدل سے نکال پائیں گے؟ یقیناً وہ بہت کچھ کرنے کے ارادے سے آئے ہیں مگر ملک عوام ٹولہ بلا وجہ اور ضرو ران کے سامنے روڑے اٹکائے گا کہ کہیں یہ اندھی،بہری اور لولی لنگڑی قوم میں شعور نہ آ جائے کی کوشش میں ہر مقام پر نئی حکومت کا راستہ روکیں گے کیونکہ پھر ان کے آگے بھنگڑا ڈالنے، تلوے چاٹنے غلامی کرنے والے کہاں سے آئیں گے، قوم نے جتنا بڑا مینڈٹ دیا اس سے کہیں زیادہ توقعات وابستہ کئے بیٹھی ہے اگر اپوزیشن عوام کے ساتھ ذرا بھی مخلص ہوئی تو پتا چل جائے گا کہ وہ عوام کی آسودگی اور پارلیمان کی سر بلندی کے لئے کیا کردار ادا کرتی ہیں ؟،عمران کاآبائی علاقہ میانوالی ہے ان کے عزیز کثیر تعداد میں جنوبی و شمالی وزیرستان بھی آباد ہیں،5 اکتوبر کو شہر لاہور میں سول اینجیئر اکرام اللہ نیازی کے گھر جنم لینے والے عمران خان نے ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج،کیلے گرائمر کالج ور آکسفورڈ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس،فلاسفی اور اکنامکس میں ماسٹرز کیا ، والدہ شوکت خانم کا تعلق برکی خاندان سے تھا مشہور کرکٹر ماجد خان اور جاوید برکی ان کے کزن ہیں عمران خان کے آباؤ اجداد میں سے ہیبت خان نامی شخص شیر شاہ سوری کے دور میں گورنر پنجاب تھا،انگریز دور میں ان کے آباء بستی دامنیش جالندھر میں رہتے تھے، عمران خان تیرہ سال کی ہی عمر میں اپنے کالج کی جانب سے کرکٹ کھیلنے لگے ،18کی عمر میں انہوں نے پاکستان کی قومی ٹیم میں جگہ بنا لی،پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا،ہلال امتیاز اور پرائڈ آف فارمنس سمیت کئی قومی و انٹرنیشنل ایوراڈز یافتہ عمران خان نے اپنی والدہ شوکت خانم کے نام سے لاہور میں کینسر ہسپتال کی تعمیر کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ اسے پایہ تکمیل تک بھی پہنچایا،فلاحی کاموں کی جانب رغبت کی بنا پر عمران خان فاؤنڈیشن کے تحت ڈیرہ غازی خان،ڈیرہ اسمعٰیل خان اور میانوالی میں فلاحی کاموں کا آغاز ہوا،نمل یونیورسٹی بھی بنا ڈالی،1996میں عمران خان نے نامساعد ملکی حالت کے پیش نظر سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا،کستان تحریک انصاف (پاکستان موومنٹ فار جسٹس)کی بنیاد ڈالی،پہلی بار میانوالی اور لاہور سے انتخابات میں حصہ لیا مگر ناکام رہے،الیکشن 2002میں صرف ایک نشست حاصل کر پائے مگر ہمت نہ ہاری،مشرف نے انہیں وزیر اعظم کی آفر کی جسے ٹھکرا دیا، آل پارٹیز آف ڈیمو کریٹک کا حصہ بنے تو مشرف نے انہیں گھر میں نظر بندکر دیا، پنجاب یونیورسٹی میں طلباء کے احتجاج میں شامل ہونے پر انہیں چند روز ڈیرہ غازی خان جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی،عمران خان نے فاٹا میں ڈرون حملوں اور کیوبا کی بدنام زمانہ امریکی جیل میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی اطلاعات پر بھی شدید احتجاج کیا،30اکتوبر2011کو لاہورکے جلسہ عام میں کم ازکم دس ہزار افراد کی شرکت نے عمران خان کے جذبہ کو نئی جلا بخشی اسی جلسہ میں عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ بلند کیا تھا، کراچی میں بھی کامیاب جلسہ کیا یہ دو ایسے مواقع تھے جب حکمران پارٹیوں نے مستقبل میں ان کی آمد کی تپش کو شدت سے محسوس کیا،انٹر نیشل پبلک ریلیشن انسٹیٹیوٹ نے رپورٹ جاری کی عمران خان انتہائی تیزی سے عوام میں مقبولیت حاصل کر کے مستقبل میں تمام رولنگ پارٹیوں کے لئے شدید خطرہ پیدا کر سکتے ہیں،23مارچ کو عمران خان نے باقاعدہ نیا پاکستان کی تحریک کا اعلان کر دیا عمران نے پاکستان کے موجودہ نظام کی خرابیوں کو دور کرنے کے لئے تین نکاتی حل پیش کیا۔آزاد الیکشن کمیشن ،آزاد عدلیہ ،آزاد انصاف اور ساتھ ہی انصاف،انسانیت اور خوداری کا نعرہ بلند کیا ،پرویز مشرف نے وزارت اعظمیٰ دینے اورپی پی یی پنجاب کے صدر منظور وٹو نے مشترکہ الائنس میں شرکت کی دعوت دی جسے عمران خان نے مسترد کر دیا، الیکشن 2013میں گو پی ٹی آئی ہار گئی مگر ایک لارجسٹ پارٹی کے طور پر ابھری اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکومت بنائی،اپنی اس شاندار کامیابی پر عمران خان نے کہا،حالیہ انتخابات تاریخ کے شفاف اور منصفانہ تھے جس پر قوم کو مبارکباد ہو،وزیر اعظم ہاؤس نہیں بلکہ کسی چھوٹی جگہ رہوں گاغربت کے خاتمے کا ماڈل چین سے لیا جائے گا،افغانستان میں قیام امن کے لئے مدد،ایران و سعودیہ بہتر تعلقات کی کوشش،بھارت سے تجارت مضبوط کرنا ترجیح،مسئلہ کشمیر مذاکرات کی میز پر،خارجہ تعلقات میں بہتری ،امریکہ سے برابری کی بنیاد پر تعلقات ترجیح ہوں گے،وزیر اعظم ہاؤس تعلیمی ادارہ جبکہ گورنر ہاؤس عوام کے لئے کھلے ہوں گے، عام آدمی کا طرز زندگی بہتر کرنے،روزگار کی فراہمی،اخراجات میں کمی ہماری ترجیح ہے ہماری پالیسیاں اشرافیہ کے لئے نہیں بلکہ ملک کے نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کے لئے ہوں گی،پاکستان کو ایسی فلاحی ریاست بنانا ہے جیسا کہ مدینہ کو حضور نبی اکرم ﷺ نے بنایا تھا ہم اسی کی تقلید کریں گے ، پروٹوکول لوں گا نہ کسی کو لینے دوں گاعوام کے ٹیکس کا محافظ ہوں،ہم سمجھیں توسیاسی جماعتوں کا محض گروپ نہیں بلکہ ایسا نظریہ ہوتا ہے ہم حکومت نہیں جہاد کرنے آئے ہیں،اب روایتی سیاست ختم ، ملک کو مالی بحران سے نکالیں گے،22سالہ جدوجہد کے ثمرات اب عوام کو حاصل ہوں گے،عمران خان کی برتری کے ساتھ ہی بھارتی میڈیا نے آسمان کو سر پر اٹھا لیا تھا،مودی سرکار نے عمران خان کو کامیابی پر فون کیا، بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ نے بنی گالہ ان سے ملاقات کی، امریکی کانگرس نے پاکستان کی امداد جو75کروڑ ڈالر سے ایک ارب ڈالر تک ہوتی تھی کو محض 15کروڑ ڈالر مختص اورپاکستان کے ساتھ مشترکہ فوجی تربیت کے منصوبے کو بھی ختم کر دیا وہ آئی ایم ایف کو بھی روک رہا ہے کہ پاکستان کو بیل آؤٹ پیکج کے ذریعے قرضہ نہ دیا جائے حیرت ہے کہ اسے سابق حکومت کے جانے اور عمران خان کے آنے کا اتنا ہی دکھ ہے اور کیوں دکھ ہے؟(الیکشن 2013میں انتخابات سے قبل امریکی اور بھارتی سفیر جاتی امراء رائے ونڈ پہنچے تھے جبکہ عمراں خان کے بطور وزیر اعظم منتخب ہونے کے یقین کے بعدوہ سب سے آخر میں بنی گالا گئے) ایسے حالات میں چین نے امریکہ کو تنبیہ کی ہے کہ وہ کسی کو ڈکٹیشن نہ دے، مقام امریکی سفیر جان ہودو نے عمران خان سے ملاقات میں بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا جبکہ یورپی یونین کے سفیر جین فرنکوسس نے ملاقات میں سیکیورٹی،جی ایس پی،تعلیم،دیہی ترقی کے شعبوں میں اشراک اور پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے میں مدد کی پیشکش کی ہے،چینی سفیر پاؤ جنگ نے ملاقات میں سی پیک اور چین تعلقات پر تبادلہ خیالات کیااور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے گا سفارتی اور عالمی معاملات میں پاکستان کی بھرپور معاونت کریں گے غربت کے حوالے سے عمران خان کا ویژن قابل تعریف ہے،مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین نے فون کر کے نیک خواہشات کا اظہار کیا،افغان صدر اشرف غنی نے بھی مبارکباد ی اور دورہ افغانستان کی دعوت دی،سعودی سفیر نواف المالکی نے جیت پر سعودی فرمانروا کا تہینیتی پیغام پہنچایااس موقع پر عمران خان نے کہا ہم سعودی عر ب سے تعلقات مزید مضبوط بنائیں گے،سعودی ولی عہد پاکستان میں اقتدار کی منتقلی کے بعد بہت جلد پاکستان کا دورہ کریں گے عمران خان بھی سعودی دعوت پر جلد سعودی عرب کا دورہ کریں گے،،فنانشل ٹائمز کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو موجودہ مالی بحران سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے اسی لئے اسلامی ترقیاتی بینک پاکستان نے پاکستان کو چار ارب ڈالر دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے،،ایرانی صدر روحانی نے فون پر کہا ہم پاکستان سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان ایران محض ہمسائے ہی نہیں بلکہ مذہبی اور ثقافتی بندھن میں بندھے ہوئے ہیں عمران خان نے ایرانی صدر کی دعوت پر دورہ ایران کی دعوت قبول کر لی ، عمران خان چاہتے ہیں وہ ایران سعودی عرب تنازعہ میں کوئی کردار ادا کریں،بلاشبہ عمران خان کو ایک دم سب درست نہیں کر سکتامگر ہمت،جذبہ اور نیک نیتی ہو تو بہت کچھ سدھارا جا سکتا ہے یہاں جمہوریت کے نام پر جو ڈفلی تماشہ ہوتا رہا اس نے ملک و قوم کو انتہائی گہری دلدل میں دھکیل دیا ہے ،ایک اینٹ اکھاڑو تو سکینڈل ہی سکینڈل،گٹے گوڈوں لٹیروں کی لوٹ مار میں پھنسی اور مقروض قوم کا کوئی پرسان حال نہیں ،آدھی قوم خط غربت سے نیچے زندگی گذار رہی ہے کروڑوں بچے تعلیمی اداروں سے باہر ہے ہر چیز ملاوٹ زدہ یہاں تک کہ ہمارے سابق حکمرانوں کے اذہان،سوچ،نیت،کام سب نیت کے کھوٹ سے لبریز ہیں،الراقم کو یاد ہے الیکشن2013سے قبل جب میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی تقریروں سے لگتا کہ اب کی بار وہ انقلابی اقدامات کرین گے مگر شومئی قسمت کہ عوام کی حالت تو پہلے سے بھی بدتر بلکہ بدترین ہو گئی،نئے وزیر اعظم پاکستان کو ساری قوم کی طرف سے مبارک ہو وہ پاکستانی تاریخ میں پہلی شخصیت ہیں جو بیک وقت پانچ حلقوں سے کامیاب ہوئے مگر مبارک دینے کے ساتھ ساتھ وہ سبھی حسرت،التجا بھری اور نم آلود متحیر آنکھوں سے آپ کی ہی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کیا یہی وہ مسیحا ہے جس کے لئے یہ وہ برسوں سے محو انتظار ہیں ،محترم وزیر اعظم کچرے کے ڈھیروں سے روزی روٹی تلاش کرنے والی یہ وہ بد نصیب ،بد قسمت قوم ہے جو اپنے رہنماؤں پر جان نچھاور کرتی ہے،ان کے لئے خود سوزی تک کر لیتی ہے،ان کے آگے ناچتی اور بھنگڑے ڈالتی ہے،پھول نچھاور کرتی ہے،راہیں سجاتی اور پلکیں بچھاتی ہے مگر وہ ظالمین ،کیا کیا بتائیں ظلم کی داستانیں،اب عمران خان کو بہترین خارجہ پالیسی کے ذریعے عالمی سطع پرپاکستان کا امیج بلند کرنا ہو گا،ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالنا ہوگا،قوم کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانا ہو گا،پاور سیکٹر کو بہتر بنانا ہو گا نہروں اور کھالوں کو پختہ کرنے کی بجائے ڈیموں کی تعمیر پر زور دینا ہو گا،پی آئی اے،سٹیل ملز،ریلوے وغیرہ کو درست شکل میں لانا ہو گا،روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانا ہو گا،۔پاکستان میں ایک مضبوط حکومت کا قیام اور معاشی استحکام وقت کا اہم ترین تقاضا ہے،عمران خان کا شمار جدوجہد مسلسل پر پختہ یقین رکھنے والے سیاستدانوں میں ہوتا ہے انہوں نے اپنے قول و فعل سے یہ بات ثابت بھی کی ہے لہٰذا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی حکومت کو در پیش چیلنجز سے نمٹنے کی تیاری کر چکے ہوں گے وہ گڈ گورنس ،سادگی اور کفائت شعاری کی ایسی مثال قائم کریں جس کی وطن عزیز کو اشد ترین ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں  بھانڈا پھوٹ گیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker