تازہ ترینکالممحمد ناصر اقبال خان

امارت اورعمارت

ایک” عرب” سے تین "ارب” آ تے ہیں اورچندماہ بعدواپس چلے جاتے ہیں تاہم پاکستان میں معاشی بحران برقراررہتا ہے کیونکہ بھاری قرض سے ہماری ریاست کا معاشی مرض دورنہیں ہوسکتا۔آئی ایم ایف اورورلڈ بنک سے مالیاتی اداروں کی غلامی سے کسی ریاست میں معاشی انقلاب نہیں آیاکرتا،یادرکھیں قرض دوا نہیں بلکہ درد اور ایک خطرناک مرض ہے۔حکمران اپنے پیشروحکمرانوں کے ادوارکاقرض اور بھاری سود ادا کرنے کیلئے مزید قرض کابوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں لہٰذاء متحدہ اپوزیشن کی طرف سے مہنگائی کی دوہائی ایک ڈھونگ ہے،یہ ہوشربا مہنگائی دس فیصدتک کپتان کی نااہلی جبکہ نوے فیصد ماضی کے حکمرانوں کی ناقص معاشی ترجیحات کانتیجہ ہے۔ جوملک ٹریڈکی بجائے ایڈ پرانحصارکر تے ہیں ان کی قومی حمیت اورمعیشت کاجنازہ اٹھ جاتا ہے۔ایک طرف ہمارے حکمرانوں کے ہاتھوں میں کشکول ہے جبکہ دوسری طرف وہ بیش قیمت پلازوں کوملبے کاڈھیر بنا اورسیاسی مہم جوئی سے معیشت پرکاری ضرب لگارہے ہیں۔ وزیراعظم عمرا ن خان،وفاقی وزراء،پاک سرزمین کے مرکزی چیئرمین سیّد مصطفی کمال اوربلوچستا ن کے سابقہ وزیراعلیٰ نواب غوث بخش باروزئی سمیت مادروطن کے سنجیدہ سیاستدان حالیہ ہارس ٹریڈنگ پر رنجیدہ اوراسے شدیدتنقیدکانشانہ بنارہے ہیں،مخصوص ضمیر فروش ارکان پارلیمنٹ کروڑوں روپے وصول کررہے ہیں لیکن عدم اعتماد کی آڑ میں عدم استحکام سے پاکستان کی معیشت کوجوشدیدنقصان پہنچا ہے اس کاحساب کون دے گا۔
ہمارے ہاں ہردورمیں ” لٹیروں ” نے اپنے بچاؤکیلئے "لوٹوں ” کی منڈیاں سجائی ہیں تاہم تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی۔ ماضی میں اس منڈی کانام چھانگا مانگا تھا لیکن آج لوگ اسے سندھ ہاؤس کے نام سے یادکرتے ہیں، زر،زور اور زہر بھرے لہجوں والی سیاست سے ریاست زیر اورکمزورہوگی۔ کچھ پیشہ ورسیاستدان امارت یعنی "نوٹوں ” کیلئے اپنے "بُوٹوں "سے اپنی عزت نفس روندتے ہوئے اپنی حمیت تک نیلام کردیتے ہیں۔ان دنوں ہارس ٹریڈنگ کی صورت میں ارکان اسمبلی کی نااہلی زیربحث ہے،میں سمجھتا ہوں اگرجان سے مارنے کاارادہ کرنے یعنی محض ڈرانے دھمکانے پرقانونی کارروائی یا3ایم پی اوکے تحت تین ماہ کی نظربندی جائز ہوسکتی ہے توپھر پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کی طرف سے وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کاووٹ دینے کاارادہ ظاہریااعلان کرنے پران کیخلاف بروقت نااہلی کی کارروائی درست اورناگزیر ہے، یہ قانون پاکستان اورمنتخب ایوان کوآئینی بحران اورسیاسی طوفان سے بچانے کیلئے بنایاگیا تھا، اگر دس بارہ منحرف ارکان کو ریاستی نظام منہدم کرنے کی اجازت اوربعد میں انہیں سزا دے دی جائے تواس سے زیادہ بھونڈا مذاق اورکوئی نہیں ہوسکتا۔یادرکھیں قانون گناہ اورمجرمانہ سرگرمیوں سے روکنے کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ پولیس گشت کیوں کرتی ہے،اہلکار ناکے کیوں لگاتے ہیں،پھر توایس ایچ اواپنے اہلکاروں کے ساتھ آرام سے تھانوں میں بیٹھیں،مجرمانہ سرگرمیاں اورکشت وخون ہونے دیں،مقدمات درج اورگرفتاریاں کرتے رہیں۔اگرکوئی اوباش سوشل میڈیا پر کسی خاتون کی آبروریزی کاارادہ ظاہر کرے توکیا ا سے ایساگھناؤنافعل کرنے تک کچھ نہیں کہا جائے گا،یقینا اسے بروقت گرفت میں لیا جائے گا کیونکہ قوانین کابنیادی مقصد انسانوں کوگناہوں سے بازرکھنا جبکہ بیگناہوں کوظلم وزیادتی اورناانصافی سے بچانا ہے۔ہمار ی پولیس کے ریکارڈ میں متعدد واقعات اورمقدمات کی روسے مشکوک افراد کوارادہ ڈکیتی کی پاداش میں گرفتار اورانہیں چالان کیا جاتاہے۔اگر کسی مہذب معاشرے میں پندرہ انسان اجتماعی خودسوزی کااعلان کردیں توکیا پولیس اہلکار ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے،ہرگز نہیں کیونکہ قانون شہریوں اورمعاشروں کوانفرادی واجتماعی تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے ہے۔خودسوزی کے بعد ایف آئی آر درج کرنے سے زیادہ اہم انہیں خودسوزی کرنے سے روکنا ہے۔ اگرحکمران جماعت کے دس بارہ منحرف ارکان نے میڈیا کی وساطت سے وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دینے کااعلان کردیا ہے توانہیں ووٹ کاحق استعمال کرنے سے روکا اورنااہل قراردیاجائے۔
جومخصوص سیاستدان اورپارلیمنٹرین اپنی” قیمت "وصول کرنے کیلئے پاکستان کی” قسمت "سے کھیلتے ہیں،وہ قابل رحم نہیں ہوسکتے۔ہمارے ہاں صرف مخصوص ارکان پارلیمنٹ کاضمیر نہیں بکتا بلکہ گلی محلے کے ووٹر بھی اپنی حیثیت کے مطابق اپنے ووٹ کی قیمت وصول کرتے ہیں،جس طرح پچھلے دنوں لاہور میں مسلم لیگ (ن) کا” ووٹ کوعزت دو”کابیانیہ اپنی خاتون امیدوار کی کامیابی کیلئے” نوٹ کوعزت دو”میں بدل گیا تھا۔ کچھ لوگ اپنی پرچی دوہزار میں بیچتے ہیں توکسی کاووٹ بیس کروڑ میں بکتا ہے۔تعجب ہے آزاد پاکستان میں لوگ اپنے اپنے ضمیر کی قیمت مقرراوروصول کرنے میں آزاد ہیں، جہاں ووٹر چندکوڑیوں میں بک جاتے ہیں وہاں پارٹی ٹکٹ بھی کروڑوں میں بکتا ہے، توپھر کس سے شکوہ کریں۔جو سیاستدان منتخب ایوانوں میں رسائی کیلئے ٹکٹ کی قیمت اداکرتے ہیں،ان کے نزدیک اپنی سرمایہ کاری سودسمیت وصول کرنا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے۔زیادہ تر سیاستدانوں نے سیاست کوبھی منفعت بخش تجارت بنالیا ہے۔ہمارے ہاں پلازے بنانے اوربچانے کیلئے بھی سیاسی وفاداریاں تبدیل کی جاتی ہیں۔لاہور میں کئی پلازوں کے کھنڈرات ایک سیاستدان کی شعبدہ بازی کاشاخسانہ ہیں۔ہمارے ہاں سیاسی اتحاد بھی نظریات نہیں بلکہ مالیات اورمفادات کی بنیاد پربنائے جاتے ہیں۔”امارت” اور”عمارت” کے درمیان گہرے تعلق سے انکار نہیں کیا جاسکتا،زیادہ تر معاملات میں شاندار "عمارت” سے وہاں مقیم خاندان کی "امارت” ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے،دین فطرت اسلام کی رو سے عمارت تعمیر کرتے ہوئے بیجانمودونمائش اورآرائش کی اجازت نہیں۔ہزاروں اوورسیزپاکستانیوں کے مختلف شہروں میں شاندار قصر خالی پڑے رہ جاتے ہیں جبکہ ان کی زندگی سات سمندر پار چار مرلے کے اپارٹمنٹ یا فلیٹ میں گزر جاتی ہے اوران میں سے زیادہ ترتابوت میں وطن واپس آتے ہیں،زندگی بھر” مال” جوڑتے جوڑتے ان کادامن” اعمال” سے خالی رہ جاتا ہے۔پچھلے دنوں شہرقائدؒ میں نسلہ ٹاور مسمار کردیا گیا اوراب کئی نسلوں کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔یہ” عمارت” زمین بوس ہونے سے کئی خاندان راتوں رات” امارت "سے محروم ہوگئے۔کسی کی” انا”نے اس شاندار عمارت کو”فنا”کردیا، بیسیوں خاندانوں کے خواب بھی عمارت کے ساتھ ریزہ ریزہ ہوگئے۔
شہرقائد ؒ کے شہریوں کی بات ہوتوشہرقائدؒ کے معمار سیّد مصطفی کمال کانام اورمنفردکام تصور میں ابھرتا ہے۔پاک سرزمین پارٹی کے بانی اورمرکزی چیئرمین سیّد مصطفی کمال اس مالیاتی "سیاہ -ست "کے دورمیں نظریاتی سیاست کاعلم اٹھائے منافرت اورصوبائیت کے سومنات پاش پاش کررہے ہیں۔قومی وحدت اورقومی حمیت ان کی سیاست کامحورومرکز ہے۔وہ اقتدار کی سیاست کیلئے اقدار روندنے والے "ہجوم” اورسیاست میں سرگرم”حجام ” گروہ کاحصہ نہیں ہیں، جس شہرمیں کئی دہائیوں تک” وصولی” کی سیاست کادور دورہ تھااب وہا ں پی ایس پی کے قائدنے "اصولی "سیاست کاپرچم لہرادیا ہے،ان کے امن مشن نے کراچی کی کایا پلٹ دی۔جس شہر میں کئی دہائیوں تک "گولیاں "اور”بوریاں "فیصلے کرتی تھیں اب وہاں سیّد مصطفی کمال کے سیاسی مکالمے نفرت کی آگ بجھاتے اور بدترین دشمنوں کے درمیان "قرب” کیلئے پل کاکردارادا کرتے ہوئے انہیں "کرب” سے بچاتے ہیں۔ہماری ریاست اورسیاست کوسیّد مصطفی کمال سے باکمال کرداروں کی ضرورت ہے۔سیّد مصطفی کمال اپنے تعمیری طرز سیاست سے ریاست کے استحکام اوردوام کاراستہ ہموارکررہے ہیں۔وہ اپنے زبان وبیان سے دوسروں کے قلوب پرکاری ضرب نہیں لگاتے بلکہ انہیں محروم طبقات کے زخموں پرمرہم رکھنا پسند ہے۔وہ مختلف سیاسی،انتظامی اورآئینی ایشوز کوالجھانے، ان پرسیاست چمکانے کی بجائے اپنی سنجیدہ تجاویز کی مدد سے انہیں سلجھانے کی کاوش کرتے ہیں۔ سیّد مصطفی کمال کی مجوزہ تین آئینی ترامیم سے قومی معیشت کو استحکام، جمہوریت کو دوام اورعام آدمی کو اختیار واکرام ملے گا۔عام آدمی کاریاستی نظام پراعتماد بحال اوراس کامورال بلندکرنے کیلئے آئینی اختیارات اورقومی وسائل کو نچلی ترین سطح تک منتقل کرنااشد ضروری ہے۔پارلیمنٹ میں سیّد مصطفی کمال کی تجاویز پرسنجیدہ بحث کااہتما م کیاجائے۔ جب تک وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ سے اختیارات اور وسائل نچلی ترین سطح تک منتقل نہیں ہوتے اور منتخب ایوانوں میں عوام کی ویلفیئر کیلئے قانون سازی نہیں ہو تی اس وقت تک ان کااحساس محرومی ختم نہیں ہو گا۔ پی ایس پی کی تجویز کردہ آئینی ترامیم کے بعد ارکان اسمبلی عوام کے ساتھ عہدشکنی اورترقیاتی فنڈز ہڑپ نہیں کریں گے۔ جو سیّد مصطفی کمال کی مجوزہ تین اہم ترین آئینی ترامیم کی منظوری کیلئے اپنا کلیدی کرداراداکرے گاوہ بھی ایوانوں اورمیدانوں میں اس اتحادی کابھرپورساتھ دیں گے۔ان ترامیم میں ناصرف کراچی سے کشمیر تک کے عوامی مسائل کا پائیدار حل بلکہ ان آئینی ترامیم میں پاکستان کی بقاء اورپاکستانیوں کی بہبود کارازبھی پنہاں ہے۔ اسمبلیوں کے انتخابات کو بلدیاتی ا لیکشن سے مشروط کیا جائے تاکہ ملک میں ہمیشہ بلدیاتی نظام فعال رہے۔ این ایف سی ایوارڈ کی طرح پی ایف سی ایوارڈ کامنصفانہ اجراء یقینی بنانے کیلئے وفاق سے اضلاع کوان کی رقم براہِ راست منتقل اور وزیراعظم سمیت وزرائے اعلیٰ کی طرح بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات کی آئین میں وضاحت کی جائے۔ نظریاتی سیاست اورتعمیر ریاست کیلئے سیّد مصطفی کمال کادم غنیمت ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button