امتیاز علی شاکرکالم

ٹی سی ایف قابل فخر ادارہ

تعلیم کا حصول خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو جائے ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے ۔کیونکہ تعلیم دنیا کی واحد دولت ہے جسے کوئی چھین نہیں سکتا ۔ علم انسان کو کائنات کی سب مخلوقات سے افضل کرتا ہے ۔آج انسان نے اپنے علم وشعور کی بدولت دنیا میں کامیابیوں کی بہت سی منزلیں طے کرلی ہیں ۔آج انسان اپنے علم کی بدولت پانیوں کی گہرائیوں میں اتر کر سمندروں کے بہت سے خزانے اپنے نام کرچکا ہے۔آج انسان اپنے علم کی بدولت آسمان کی بلندیوں پر ،پرندوں سے بھی اونچی پرواز کرتا ہے۔چاند اور مریخ تک کا سفر انسان نے کامیابی کے ساتھ طے کرلیا ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ انسان نے اتنی زیادہ کامیابیاں حاصل کیں کہ ان کامیابیوں کاشمار کرنا مشکل ہے ۔لیکن اس سچ سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ بغیر تعلیم و تربیت حاصل کیے دنیا کی کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی ۔اس حقیت سے انکار کرنا بھی ناممکن ہے کہ وہ علم ہی ہے جس نے انسان کو فرشتوںسے افضل کیا ۔علم ہی کی بدولت انسان اشرف المخلوقات ہے۔اگراللہ تعالیٰ نے انسان کو اضافی علم عطا نہ کیا ہوتاتو دنیا میںصرف حیوان ہی ہوتے انسان کا کہیں وجود تک نہ ہوتا ۔اسلام میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ سرکار دوعالم حضرت محمد (ص) کی اس حدیث مبارکہ سے با آسانی لگایا جا سکتا ہے ۔سرکار دوعالم (ص) نے فرمایا ’’علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے‘‘ اور اسلام میںعلم سیکھنے والے پر فرض کردیا گیا وہ اپنے علم کی روشنی دوسروں تک لازمی پہنچائے تاکہ علم کہیں ایک جگہ ساکت نا ہوجائے ۔قارئین آج میں کچھ ایسے ہی قابل فخر لوگوں کے متعلق بات کرنے جا رہا ہوں ۔جنہوں نے علم کی روشنی کو پاکستان کے کونے کونے میںپھیلانے کا عزم کررکھا ہے ۔ٹی سی ایف کا تھوڑا سا تعارف میں اپنے ایک گزشتہ کالم میں کروا چکا ہوں ۔اور حسب وعدہ آج میں آپ کو ٹی سی ایف کے بارے کچھ مزید بتانے جا رہا ہوں ۔سب سے پہلے میں بات کروں گا ﴿محمد امین﴾ کی ۔محمد امین ٹی سی ایف اسکول یونس سیٹھ کیمپس یوسف گوٹھ 2میں دوپہر کی شفٹ میں زیر تعلیم ہے ۔محمد امین کے والد کا انتقال ہوچکا ہے ۔امین نے چھوٹی عمر سے ہی اپنے خاندان کی کفالت کا ذمہ لیا ہو ا ہے جس میں امین کی بیوہ ماں اور بہنیں شامل ہیں ۔امین منہ اندھیرے سبزی منڈی جاتا ہے، وہ فروٹ کی پیٹیاں اٹھا کر بیرون شہر جانے والے ٹرکوں پر منتقل کرتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ ﴿ٹی سی ایف﴾اسکول کا بھی باقاعدہ طالب علم ہے ۔تہذیب اور شائستگی کا اطوار لئے ہوئے آنکھوں میں تابناک مستقبل کے خواب سجائے ہوئے امین کہتا ہے ۔کہ تعلیم اور باقاعدہ ہنر توہاتھوں میں تھا نہیں اور مالی مشکلات سے چھٹکارا بھی حاصل کرنا تھا اس لئے جو مناسب لگا وہ کرلیا ۔امین محنت کرنے سے کبھی گھبرایا نہیں وہ گھر کی دال روٹی چلانے کے لئے منہ اندھیرے اور رات 9بجے سے صبح 9بجے تک بھی سبزی منڈی میں کام کرتا ہے ۔ٹرالی بھی چلاتا ہے ۔ایک جگہ سے سامان دوسری جگہ منتقل کرتا ہے ۔امین کا کہنا ہے کہ پھلوں ،سبزیوں اور دیگر اشیائ کی خوشبودل ودماغ میں بس گئی ہے ۔اسی خوشبو کی چادر اوڑھ کر ذراسی دیر کے لئے آنکھیں جھپکا لیتا ہوں ۔وہ کہتا ہے، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے با عزت روزگار دیا ۔اور اتنا اچھا اسکول جہاں کے اساتذہ ہمہ وقت سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ زندگی کی مشکلات سے نبردآزما ہونے کا سلیقہ بھی سکھاتے ہیں ۔اور اپنی کوششوں میں کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ وہ اپنی استاد ﴿مس تنزیلہ کوثراور مس راحیلہ خالد ﴾کو قرار دیتا ہے ۔جنہوں نے امین کی مشکلات کو پہچانا اور اپنے رویے سے مثبت تبدیلی کا نمائندہ بنا دیا ۔محمد امین کا کہنا ہے کہ میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ مجھے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا نہیں پڑا۔وہ کہتا ہے کہ ہم نے کبھی اچھے دنوں کے خواب نہیں دیکھے لیکن ٹی سی ایف نے اب ہمیں خواب دکھانا بھی سکھا دیا ہے ۔امین اپنی شخصیت میں مثبت تبدیلی کا ذمہ دار ٹی سی ایف کو قرار دیتا ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ میرا دوسرا گھر میرا اسکول ہے جہاں پرنسپل سے لے کر اساتذہ تک اپنے طالب علموں کی عزت کرتے ہیں ۔قارئین محمد امین کے متعلق لکھتے ہوئے میری آنکھیں نم ہیں ۔اور دل سے ٹی سی ایف اور محمد امین جیسے لاکھوں پاکستانی طالبعلموںکے لئے بہت سی دعائیں نکل رہی ہیں ۔ ٹی سی ایف کی ایک اور خاص بات کہ ادارہ اپنی ٹیم میںشامل اساتذہ کے لئے تربیت کا باقاعدہ انتظام کرتا ہے ۔ایسا ہی ایک تربیتی پیغام حاضر خدمت ہے ۔جوادارے نے اپنے اساتذہ کے نام تحریری طور پرجاری کیا اور ٹی سی ایف اسکول جلکے کی پرنسپل میڈیم فردوس سے میں نے حاصل کیا ۔میڈم فردوس کو میں پچھلے دو سال سے جانتا ہوں ۔میں جب بھی ان سے ملتا ہوں مجھے ان کے روپ میں ایک شفیق بہن ،ایک مہربان ماں اور ایک قابل فخر بیٹی کی جھلک نظر آتی ہے ۔میڈم فردوس کو اپنے اسکول کے تمام بچوں کے نام بچوں کے والدین کے ناموں کے ساتھ یاد ہیں ۔میڈم فردوس جیسے لوگ میرے نزدیک بہت زیادہ باعث فخر اور اس سے بھی زیادہ قابل ہے وہ ادارہ جس نے میڈم فردوس جیسے لوگ ہمارے لئے ہائیر کئے ،ٹی سی ایف کاپیغام کچھ یوں ہے ۔وسائل کا صحیح استعمال اور انہیں ضائع ہونے سے بچانا ہرشہری کا فرض ہے ۔بالخصوص اساتذہ طالبعلموں میں شعور اجاگر کرسکتے ہیں کہ کس طرح وسائل کا استعمال کیا جائے اور جو سہولیات میسر نہیں ان کے بغیر زندگی کیسے گزاری جاے۔اپنے اردگرد دیکھنے پرہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح لو
گ وسائل کا ضیاع کرتے ہیں ۔مثال کے طور پرموجودہ حالات میں ملک میں بجلی کی شدید کمی ہے اور سب اس کمی کا شکوہ بھی کرتے ہیں ۔لیکن جب بجلی دستیاب ہوتی ہے تو اس کا بے دریغ استعمال اور ضیاع کرتے ہیں ۔جہاں دوبلب جلا کر کام چلایا جا سکتاہو وہاں ہم دس دس بلب روشن کرتے ہیں ۔دفتروں ،اسکولوں اور اداروں میں یہ طرز عمل زیادہ ہی عام ہے ۔جہاں اکثر کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا لیکن کیا ہمیں خود اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کرناچاہیے ،عمومی طور پربالغ افراد بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرتے ۔اگر بحیثیت استاد آپ اپنے اندر ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دیں اور طالبعلموں میں بھی یہ شعور اجاگر کریں تو یقینا معاشرے میں مثبت تبدیلی ضرور آئے گی اور اس کی ابتدا اساتذہ کو ہی کرنا ہوگی ۔لہذا آپ اپنے شاگردوں کو یہ بات باور کرائیں کہ ایک اچھے شہری کی انفرادی طور پرکیا کیا ذمہ داریاں بالخصوص اپنے ملک کے وسائل کو ضائع ہونے سے کیسے بچایا سکتا ہے ۔ قارئین اگر ہم سب بھی ٹی سی ایف کے مسلسل بہتری کے نظریے کو اپنا لیں اور معیار زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے کوشاں رہیں ۔تو ہم مشکل سے مشکل معاملات کو باآسانی حل کر سکتے ہیں ۔اگر آپ ٹی سی ایف کے بارے مزید جاننا چاہیں توآپ ٹی سی ایف کی ویب سائیٹ کا وزٹ کرسکتے ہیں ۔www.thecitizensfoundation.org،یااس نمبر پر کال کریں 0092-21-111-823-823.,e.mail.ceo@thecitizensfoundation.org۔﴿پی ایل آئی﴾

یہ بھی پڑھیں  پیپلز پارٹی کی چوتھی بھڑک!

 

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker