امتیاز علی شاکرکالم

پاکستان ہمارا بھی ہے

جمہوریت ہو یا آمریت عوام کو اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ بھرنے کے لیے با عزت روزگار کی ضرورت ہوتی ہے ۔باعزت روزگار یعنی بھیک مانگے بغیرْْاپنی مائوں،بہنوںاوربیٹیوںکی آبروکومحفوظ رکھتے ہوئے ۔حلال رزق کا حصول ہر انسان کے لیے ضروری ہے ۔لیکن جس دور میں انسان کی کوئی قیمت نہ ہووہ دورجمہوری ہو یا آمرانہ ہو کچھ فرق نہیں پڑتا ۔کچھ ایسی جمہوریت اس وقت رائج ہے میرے وطن میں اعلیٰ حکمران اپنے ہی بیان پر قائم نہیں رہتے ۔نام نہاد جمہوریت کے دعوے دار حکمران کبھی کہتے ہیں کہ عوام طاقت کا سرچشمہ ہے ۔ہم عوام کے منتخب نمائیدے ہیں ۔عوام کے ووٹ کی طاقت سے ایون میں آئے ہیں ۔عوام نے ہمیں پانچ سال کے لیے منتخب کیا اس لیے ہم حکومت کی اپنی آئینی مدت یعنی پانچ سال پورے کریں گے اور اپنی کارگردگی کی بنیاد پر دوبارہ عوام کے پاس جائیں گے ۔اور پھر سے عوام کی طاقت سے منتخب ہوکر ایون میں آئیں گے ۔قارئیں اس قسم کے سیاسی بیان تو آپ نے بہت سنے ہوں گے ۔حکمرانوں نے عوام کو طاقت کا سرچشمہ کہہ کر مکھن تو ہمیشہ ہی لگایا ہے ۔لیکن بڑے ہی دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ حکمران جمہوری ہوں یا آمری عوام سے کسی کو کوئی سرکار نہیں سب کے سب امریکہ کے غلام ہیں ۔عوام کو صرف بے وقوف بناتے ہیں یہ لوگ جہاں اعلیٰ ایوانوں کی سیٹیں الیکشن ہونے سے پہلے ہی بانٹ لی جائیں وہاں کیاعوام اور کیا ووٹ کی طاقت ۔جوحکمران خود اعلیٰ عدلیہ کا حکم نہ مانیں وہ کس طرح دوسروں پر ملکی قانون لاگو کرسکتے ہیں۔ لیکن اصل میںحکمرانوںکے دلوں میںعوام کے لیے جو سچے جذبات ہیں ۔ان کی ترجمانی وازیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کے گزشتہ دنوں ﴿سی این این﴾کو انٹرویودیتے ہوئے اس بیان نے کی ہے ۔جس میں وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اگرپاکستانی عوام بے روزگاری،منہگائی اور لوڈشیڈنگ سے تنگ ہیں تو پھر پاکستان چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔بس اتنا ہی نہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو پاکستان چھوڑنے سے کوئی منا نہیں کرتا ۔ان کا یہ مشورہ پاکستانیوں کے لیے ہے لیکن ان کا انٹرویو کرنے والی غیر ملکی رپورٹر ان کی یہ بات سن کر سکتے میں چلی گئی اور اسٹوڈیو میں خاموشی چھا گئی ۔وزیراعظم نے عوام کو ملک چھوڑنے کا مشورہ جس سوال کے میں کے بعددیا وہ بھی پیش خدمت ہے ۔سوال پوچھا گیا تھاکہ حالیہ گیلپ سروے کے مطابق صرف بیس فیصدپاکستانی حکومت کی حمایت کرتے ہیں ۔باقی اسی فیصد پاکستانی بے روز گاری ،دہشتگردی،بدامنی ،کرپشن اور بدانتظامی کی وجہ سے پریشان ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ غیر فعال ہوچکا ہے ۔اس لیے زیادہ تر لوگ ملک چھوڑنے پر غور کررہے ہیں ۔میرے خیال میں یہ سوال بھی بیحودہ ہے اور جو وزیراعظم پاکستان نے جو،جواب دیا وہ سوال سے بھی دو قدم آگے ۔میں یہ بات اس لیے کہہ رہا کیونکہ ساری مشکلات میں ،میں خود بھی مبتلا ہوں لیکن میں یہ بات اللہ کے حکم سے دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کاایک بھی شہری بے روزگاری ،منہگائی ،بدامنی،لوڈشیڈنگ اور وغیرہ وغیرہ کی وجہ سے اپنا پیارے پاکستان کونہیں چھوڑرہا۔ہاں پریشان ہم سب ہیں اور وہ بھی صرف اپنی ذات کے لیے نہیں اپنے پیارے وطن کے لیے ۔اس بات کا اندازہ اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی تو پہلے ہی پاکستان سے باہر ہیں ۔اگر مشکلات کا حل پاکستان چھورجانے میں ہی ہوتا تو پھر ان پاکستانیوں کو ،کوئی پریشانی نہ ہوتی ۔لیکن میں اور آپ اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ جو پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں ۔وہ ہم پاکستان میں مقیم پاکستانیوں سے بھی زیادہ پریشان ہیں اور دن رات محنت مزدور ی کرکے اپنے وطن میں ذریعے مبادلہ بھیج رہے ہیں ۔گزشتہ دن مجھے میرے ایک دوست نے آسٹریلیا سے فون کیا تو میں نے اس کا حال پوچھا تو اس نے کہا اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ،پھرمیںنے اس سے آسٹریلیا کے موسم کے بارے میں سوال کیا تو اس نے بتایا کہ بہت اچھا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے ۔اس روز لاہور کا موسم قدرے گرم تھا جس کی وجہ سے میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا یار تیرے تو مزے ہیں ۔ہمارے پاس تو بہت گرمی ہے آج کل ۔میری یہ بات سن کرمیرے دوست نے کہا یا ر آسٹریلیا میں ویسے تو کوئی پریشانی نہیں لیکن یار اپنا وطن اپنا ہی ہوتا ہے ۔میرے دوست نے بتایا یار ہم بیرون ملک رہنے والے اپنے وطن عزیز کو مشکلات میں دیکھ کربہت پریشان ہیں ۔میرے دوست نے بتا یا کہ میرادل کرتا ہے میں پاکستان واپس آجائوں جیسا بھی ہے میرا اپنا ملک تو ہے ۔ لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ وزیراعظم یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ اس بات میں کوئی حقیقت ہے نہیں کہ پاکستانی عوام ملک چھوڑنا چاہتے ہیں ۔اور کتنے تعجب کی بات ہے کہ وزیراعظم پاکستان سے سوال تو ﴿سی این این ﴾ کی رپورٹر نے کیا تھا لیکن وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جواب پاکستانی عوام کودیا ۔اگر حکمرانوں کا مقصد یہی ہے کہ عوام ملک چھوڑ جائیں تو پھرحکمران زور لگا لیں ۔لیکن ہم پاکستان مرتے دم تک نہیں چھوڑیں گے کیونکہ پاکستان ہمارا بھی ہے :﴿پی ایل آئی﴾

یہ بھی پڑھیں  اے وطن ،اے مری کا ئنا ت سخن

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker