امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

مسلمانوں ہوش کرو

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا۔﴿پارہ 3،آیت 275سورۃبقرہ﴾قارائین اسلام میں سود کوحرام قطعی قرار دیا ہے ۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے ارد گرد سود کا کاروبار بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی روک تھام کے لیے ہمیں اپنا اپناکردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ورنہ سود کی لعنت ہمیں برباد کردے گی ۔جس جگہ میں رہتا ہوں اس علاقے کا نام کاہنہ نوہے ۔یہ علاقہ لاہور کے نشترٹائون کے مضافات میں واقع ہے،اس علاقے میں بھی سود کا کاروبا عام ہے ۔لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ میرے علاقے میںمعروف کالم نگارایم اے تبسم اورسماجی کارکن مہرشفیق سونا کی خصوصی کاوش کی وجہ سے آج کل علمائ کرام اور شہریوں نے سود کے خلاف علم جہاد بلند کیا ہوا ۔جس میں ڈی ایس پی﴿کاہنہ سرکل﴾ ملک شکیل کھوکھراور ایس ایچ اوکاہنہ چودھری محمد شریف سندھوبھی بھرپور ساتھ دے رہے ہیں ۔کیونکہ عام لوگ سود کے بارے میں کم جانتے ہیں ۔کئی لوگ تو یہ تک نہیں جانتے کہ اسلام میں سود کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔اس لیے عام لوگوں کوسود کے مطلق آگاہ کرنے کے لیے ادارہ صراط مستقیم پاکستان کاہنہ نولاہور کے یونٹ نے ایک مراسلہ شائع کیا ہے جس میں لکھا ہے ۔
توحید رسالت کا نعرہ گھر گھر میں لگانے نکلے ہیں
فاران کی چوٹی کا نغمہ گھر گھرمیں سنانے نکلے ہیں
سجدہ توفقط اللہ ہی کو ہے تعظیم ہے اللہ والوں کے
گلدان عقیدہ میں ہم تو یہ پھول سجانے نکلے ہیں
مسلمانوں ہوش کرو اورسودکی لعنت سے بچو ،بچو،بچو
اور یہ خیال کہ سود سے مال میں اضافہ ہوگا یہ بھی ایک خام خیالی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے ۔سود سے بظاہر تومال میں اضافہ ہوتا ہے لیکن درحقیقت یہ اضافہ دنیا وآخرت کا بہت بڑاخسارہ ہے ۔دنیا میں خسارے کا مطلب یہ ہے کہ سود کی کمائی انسان کے ایسے کاموں میں لگ جاتی ہے جن میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا ایسے امراض اور ناجائز مقدمات نیز مختلف قسم کی جوحادثاتی صورتیں ہیں۔ان میں وہ سودی روپیہ لگ جاتا ہے اور بندے کو مختلف الجھنوں میں پھنسا دیتا ہے۔اورآخرت کا خسارہ یہ ہے کہ سود کا لین دین کرنے والوں کے اعمال مثلا نماز ،روزہ،حج۔عمرہ اور زکواۃ وصدقات سب ضائع ہوجائیں گے ۔اور سودکا گناہ اتنا ہے کہ سرکاردوعالم علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو ماں کے ساتھ زنا کرنے سے بھی بدتر قرار دیا ہے جیسا کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) سے مری ہے کہ رسول اللہ(ص) نے ارشاد فرمایا۔ترجمہ ﴿یعنی﴾ ربا کے تہتر درجے ہیں ان میں سب سے ہلکا درجہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زناکرے ﴿شعب الایمان للبہقی﴾اور پھر اس میںسود لینے والے کوہی تخصیص نہیں بلکہ سود لینے والا،سودی معاملہ کی کتاب کرنے والااور اس معاملہ کا گواہ بننے والاسب برابرہیں نیزان سب پر سرکار دوعالم (ص)نے لعنت فرمائی ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں یعنی رسول اللہ نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سوددینے والے اورسودی معاملہ کو لکھنے والے اور اس کے گواہ بننے والوں پراور فرمایا سب برابر ہیں ﴿صیحح مسلم﴾لہٰذا تمام مسلمانوں پر فرض اعظم ہے کہ خود بھی اس لعنت سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کریں۔سود کی ان بعض صورتوں کو بیان کیا جاتا ہے جو ہمارے ہاں مروج ہیں۔حدیث مبارکہ ہے کہ قرض کے بدلے میں جو نفع اٹھایا جائے وہ سود ہے﴿کنزالعمال﴾﴿1﴾کوئی شخص کسی کو کچھ رقم مثلا دولاکھ روپے قرض دے اس شرط پر کہ دولاکھ بیس ہزارروپے واپس لوں گاتو یہ بیس ہزار رو پے سود ہیں﴿2﴾مروجہ بولی والی کمیٹی﴿3﴾ کوئی شخص کسی کومثلا نوے ہزار روپے اس شرط پر قرض دے کہ تمہاری ایک لاکھ کی کمیٹی جب نکلے گی وہ میں لوں گا﴿4﴾سیل مین یاہول سیل ڈیلر کسی دکان دار سے ایک معینہ یا غیر معینہ مدت تک کے لیے قرضہ لے اور دوکان دار کو چیز سستی بیچے﴿5﴾جس شخص کے پاس قرض کے بدلے دکان یا مکان گروی رکھا گیا وہ اس مکان یا دکان سے نفع اٹھانا﴿6﴾کاروبار کے لیے رقم دے کرنفع معین لینا۔یہ سود کی ان صورتوں کا بیان ہے جو ہمارے یہاں عموما پائی جاتی ہیں ورنہ اس کے علاوہ بھی سود کی بہت ساری صورتیں ہیں۔قارائین جب سے ہمارے علاقے میں علمائ کرام اور شہریوں نے سود کے خلاف آوازبلند کی ہے تب سے سود خور اپنا کاروبار بند کرچکے ہیں ۔اگر کوئی کربھی رہا ہے تو وہ مقامی تھانے کی حدود سے باہر جاکر سود کا کاروبار کرتا ہے ۔جس کی وجہ سے عارضی طور پر تو ہمارا علاقہ سود خوروں سے پاک ہے لیکن اس لعنت کا خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا ۔اگر اس جہاد کو حکومتی سطح پر اٹھایا جائے تو اس لعنت سے جان چھوڑائی جا سکتی ہے ۔جو کہ فی الحال ناممکن لگتا ہے۔ناممکن اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ہماری حکومت تو ہمیشہ سود پر قرض لیتی ہے اور آج بھی ہمارے حکمران کشکول پکڑے آئی ایم ایف کے در پر ماتھا رگڑرہے ہیں۔لیکن شائد اب کی بار مایوس لوٹیں کیونکہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو نیا قرضہ دینے سے انکار کردیاہے۔لندن سے شائع ہونے والے ہفتہ روزہ اخبار﴿ پاکستان پوسٹ﴾ کے مطابق ۔عالمی مالیاتی فندزآئی ایم ایف نے کہا ہے کہ سابق معاہدے کی اصلاحات پر عدم درآمد کے باعث پاکستان کے ساتھ نئے قلیل مدتی قرضے کے معاہدے کا کوئی امکان نہیں ،میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے ان خیالات کا اظہار پاکستان کو11.3ارب ڈالربیل آوٹ پروگرام پر پوسٹ ای ویلیوایشن ڈرافٹ رپورٹ میں کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اصلاحات کے پروگرام پر عمل درآمد کرانے سے قاصر رہا ہے ۔ڈرافٹ رپورٹ اس وقت وزیر خزانہ کی نظر ثانی کے لئے ان کی میز پر موجود ہے۔اسلام آباد کی جانب سے اصلاحات پر عمل درٓمد نہ کرسکنے کے باعث آئی ایم ایف نے 3.4ارب ڈالرکی آخری دوقسطیں روک لی تھیں ۔واضح رہے کہ پاکستان کی خراب ترین اقتصادی صورتحال کے پیش نظر ایک بار پھر آئی ایم ایف کی جانب ہیں۔اخبار مزید لکھتا ہے کہ پاکستانی حکام کو اس بات کی توقع ہے کہ نیٹو سپلائی بحال ہونے کے بعدآئی ایم ایف سے مزید قرضے مل سکتے ہیں ۔تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مزید قرضوں کا مطلب مہنگائی کا نیا طوفان آسکتا ہے ۔پاکستانی حکومت پہلے ہی سٹیٹ بینک سمیت قومی بینکوں سے بھاری بھرکم قرضے لے چکی ہے۔جبکہ معیشت چلانے کے لیے زائد نوٹ چھاپے جارہے ہیں جس سے ملک میں کاغذی قلت کا خدشہ لاحق ہوگیاہے۔قارئین میں تو علمائ کرام سے کل ہی صبح ہوتے ہی ملوں گا اور یہ سوال کروں گا کہ اگر ملکی حکومت سود پر قرضہ لے کر معیشت چلائے تو کیا ملک کی عوام بھی حکمرانو ں کے اس گناہ میں شامل ہوگی یا نہیں ؟؟۔آپ بھی کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں توان نمبر پر رابطہ کرسکتے ہیں۔﴿.03217516351.03217063226۔ادارہ صراط مستقیم پاکستان کاہنہ نو لاہور﴾اور قارئین آخر میں ایک سوال آپ سب سے کہ غور کرکے جواب دیں آخر یہ قرضوں کی رقم جاتی کہاں ہے جو حکومت لیتی ہے ؟یہ سودی رقم ہوتی کیا ہے اس لیے اس سے فوائد حاصل نہیں ہوتے؟؟ْْ ﴿بشکریہ پریس لائن انٹرنیشنل ﴾

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: ڈکیتی و چوری کی چار مختلف وارادتوں میں ٹریکٹر،موٹر سائیکل،موبائل فون ،نقدی اور مویشی چھین کر فرار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker