Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / امتیاز علی شاکر / کراچی میں بھتہ خوری کب تک ؟

کراچی میں بھتہ خوری کب تک ؟

ملک میں روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی ،بد امنی،بے روز گار ی،مسائل کی زیادتی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے عام آدمی کے لئے صحت وتعلیم کا حصول ناممکن ہوچکا ہے ۔کراچی جیسے شہر میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری عام ہے اورقاتلوں بھتۃ خوروں اورڈاکوئوں کو روکنے والا کوئی نہیں ،کراچی کے حالات کا اندازہ کراچی کی کنگ سیاسی پارٹی ایم کیوایم کے رہنما ئ ڈاکٹرفاروق ستار جو کہ سندھ اور مرکز میں حکومت کے اہم اتحادی بھی ہیں ۔کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے ۔جو کچھ دن پہلے کے اخبارات میں شائع ہو ا۔جس میں ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کراچی میں کاروبار اور تجارت تباہ ہو چکے ہیں ،بھتہ وصولی سنگین صورت حال اختیار کرچکی ہے۔فاروق ستار کے اس بیان کے سچے ہونے کی تصدیق اسی دن وزیرداخلہ سندھ منظور وسان کے بیان نے کردی ۔جس میں منظور وسان کا کہنا تھا ۔شہر میں بھتہ خوری روکنے کے لئے ہنگامی اقدامات کریں گے اور کراچی کا امن ہر صورت میں بحال کیا جائے گا ۔کراچی کے رہنے والوں کے لئے اپنے پاس اچھی گھڑی ،اچھا موبائل،یا کسی بھی قسم کا قیمتی سامان رکھناتو دور کی بات ہے۔اب تو لوگ نئے کپڑے پہن کر سفرکرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔قارئین اگرہم بات کریں پورے ملک کی تو پنجاب کے حالات قدرے بہتر ہیں لیکن تسلی بخش نہیں ۔ملک میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی اور بڑھتی ہومہنگائی وبروزگاری کی وجہ سے نا صرف کراچی بلکہ پوری پاکستانی عوام حکمرانوں کے چہروں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ آخر کب کراچی اور پورے پاکستان میں امن قائم ہوگا ؟کب عوام کو باعزت روزگار میسر آئے ؟کب مزدور کے بچے کو صحت و تعلیم کی سہولیات میسر آئیں گی؟کب ملک کے حکمران عوام کا بھلاسوچیں گے ؟جن کی ہٹ دھرمی نے عا م عوام کا جینا ہی نہیں بلکہ مرنا بھی مشکل کردیا ہے۔پاکستانی عوام کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے جیسے یہاں کسی سیاسی پارٹی کا نہیں بلکہ آج ملک میں مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کا راج ہے۔ بجلی و گیس اور سی این جی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بے روزگاری میں روز بروز اضافے نے عام آ دمی کی زندگی اس قدر مشکل کردی ہے کہ وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوچکا ہے ۔مزدور آدمی کوبارہ گھنٹے کام کرنے کے بعد اڑھائی تین سوروپے مزدوری ملتی ہے ۔مزدور کی مہینے بھرکی کمائی سے صرف بجلی کا بل ہی پورا نہیں ہوتاتووہ باقی ضروریات زندگی کہاں سے حاصل کرے ؟اور ایسے میں اہل اقتداراپنی تجوریاں بھرتے،اپنے محلات تعمیرکرتے اور ملک میں ہونے والی کرپشن کی سرپرستی کرتے نظرآئیں اور عوام کے دکھ دردپوچھنے والا کوئی ناہواورجب حکمران اپنی آئینی اوراخلاقی ذمہ د اریوں سے منہ موڑ کرظالموں ،قاتلوں اورزانیوں کا دفاع کرنے لگیں تو پھر عوام کو ان قاتلوں ، بھتہ خوروں،ڈاکوئوں،ظالموں اور زانیوں سے کون بچا سکتا ہے۔ایسے بے حس حکمرانوں کی حکومت میںعوام کاحال کیسا ہوسکتا ؟میرے پاس اس سوال کا کوئی خاطرخواہ جواب موجود نہیں ہے مگر اتنا کہہ سکتا ہو ں کہ ایسے حالات میں انسان پاگل پن کی حد تک پریشان ہوجاتا ہے اوربہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے ۔ چاروں طرف سے پریشانیوں میں گرے عام لوگ اگر بہکی بہکی باتیں نہیں کریں گئے توپھر کیا بہکی بہکی باتیں اہل اقتدار جو عیش وعشرت کی زندگی بسر کررہے ہیں وہ کریں گئے؟میں بھی ایک عام آدمی ہوںاور آج میں کچھ اپنی ،کچھ اپنے جیسے عام لوگوں کیںاور کچھ حکمرانوں کی بہکی بہکی باتیں کرنے جا رہا ہوں ۔بہکی باتوں سے یاد آیاکہ میرے دوست ڈاکٹر محمد اکرام نے مجھے اپنی نانی کی بیماری کاواقع سنایا تھا،ڈاکٹر اکرام بہت مخلص دوست ہیں ،میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ڈاکٹراکرام کہتے ہیں میں ان کی نانی بھی بہکی بہکی باتیں کیا کرتیں تھیں۔ڈاکٹرمحمد اکرام کہتے ہیںکہ میں بچپن سے نانی ماں کی یہ شکایت سنا کرتا تھاکہ ان کے سر میں شدید درد ہے ان کا کہنا تھا کہ ان کے سر میں کوئی جانور پھنس گیا ہے ۔جو ان کے سردرد کا باعث بنا ہواہے۔نانی ماں کی یہ بات نہ تو گھر والوں کی سمجھ میں آتی تھی اور نہ ہی ڈاکٹروں کی سمجھ میں آتی تھی مگر نانی ماں اپنی بات پر بضد تھیں۔نانی ماں کو بہت سے ڈاکٹروں کے پاس لیجایاگیاسب ڈاکٹروں نے بھی نانی ماں کی اس بات کو نامعقول کہا اور ان کی اس حالت کوبڑھاپے کی وجہ قرار دیا۔لیکن نانی ماں کی وفات کے بعد طبی معائنے سے پتہ چلا کے ان کے دماغ میں رسولی تھی ۔سب گھر والوں پر یہ بات سن کر سکتہ طاری ہو گیااور بہت پریشانی ہوئی ۔لیکن ان ڈاکٹروں کو کون پوچھ سکتا تھا جو ایک ہی راگ الاپ رہے تھے کہ سر میں کوئی جانورنہیں گھس سکتا ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ نانی ماںبوڑھی ہوگئی ہیں اس لیے بہکی بہکی باتیں کررہی ہیں۔ڈاکٹر اکرام کہتے ہیںمیں آج تک نانی ماں کی باتوں پر سوچتا ہوں کہ انھوں نے کس طرح محسوس کرلیا کہ ان کے سر میں کچھ ہے ان کو اس بات کا علم تھا کہ ان کے دماغ میں کچھ ہے ضرورلیکن ان کو اس بات کا نہیں پتا تھا کے جوان کے سرمیں گھس گیا ہے وہ کوئی جانورنہیں بلکہ ایک رسولی تھی ۔لیکن نانی کی عقل وشعورکو دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے علم کے مطابق بتا دیا تھا کہ ان کے سر میں کچھ ہے جو سردرد کا باعث ہے ۔لیکن صدقے جائوں ان ڈاکٹروں کے جن کو ان پڑھ بڑھیا کے جتنا شعور نہیں تھا۔ ڈاکٹر اکرام نے کہا کہ نانی ماں تو چلی گئیں لیکن ان کے سر کا جانور آج بھی پاکستان کے سر میں گھسا ہو

یہ بھی پڑھیں  ویلنٹائن ڈے اور اسلام

ا ہے ۔جس کی وجہ سے پوری قوم کے سر میں شدید درد ہے۔پاکستان کا علاج کرنے والے سیاسی ڈاکٹرز، نانی ماں کے ڈاکٹروں سے بھی زیادہ نااہل ہیں ۔دنیا کہاں کی کہاں پہنچ چکی ہے ۔دور جدید سے جدید تر ہوچکا ہے ۔مگر ذرا میرے ملک کے سیاست دنوں کے کارنامے تو دیکھوپچھلے 64سالوں سے قائداعظم محمد علی جناح کے نا م پراور پچھلے 42سالوں سے ذولفقار علی بھٹوکے نام پر سیاست کررہے ہیں ۔قائداعظم محمدعلی جناح کے بعد ذولفقار علی بھٹو ایک ایسی شخصیت ہیں جنھوں نے اپنے دور میں جب تشہیر کے ذرائع بہت کم تھے۔اپنی سیاسی بصیرت اورولولے سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کیا اور ایسا مائل کیا کے آج تک نا صرف پاکستان کے کونے کونے میں بچہ بچہ بھٹوکو جانتا ہے بلکہ ذولفقار علی بھٹوکو عالمی سیاست میںایک غیر معمولی مقام حاصل ہے۔ صد افسوس کے بھٹو کے وارث پچھلے 42سال سے زندہ ہے بھٹوزندہ ہے اور ہر گھر سے بھٹونکلے گا نعرہ لگا کر عوام کے سامنے جاتے ہیں ۔ایک بار پھر افسوس کہ آج تک کبھی بھی کسی پارٹی نے بھی زندہ ہے قائداعظم زندہ ہے اور ہر گھر محمد علی جناح نکلے گا کا نعرہ نہیں لگایا یہ قوم اگر کسی گھر سے محمد علی جناح نہیں پیدا کرسکی تو بھٹو کہاں سے پیدا ہوگا؟ آج قوم کو ایسے جمہوری ڈاکٹر وںکی اشد ضرورت ہے ،جن کے اپنے دماغ ان جانوروں سے پاک ہوںجوآج پوری قوم کے سروںمیںگھسے بیٹھے ہیں۔ان جانورںکے نام کچھ یوں ہیں جھوٹ ،نمائش،لالچ،بڑھتاہواقرض،منافقت،حسد،کرپشن،رشوت،سفارش،اقرباپروریئ،لاسانیت،فرقہ واریت،خوف،خود غرضی،بے ایمانی،دھوکہ دہی،دہشتگردی،ٹارگٹ کلنگ ،راہ زنی،بھتہ خوری ،ڈورن حملے،بم دھماکے،بے روزگاری،لوڈشیڈنگ،بداخلاقی،جنسی بے راہ روی،تکبراوروغیرہ ،وغیرہ ۔نانی کے سر میں صرف ایک جانور تھا لیکن آج ہمارے سروںمیں ان گنت زہریلے جانور موجود ہیں اور موجودہ حکمران بھی نانی کے ڈاکٹروں کی طرح قوم کو دیوانی کہہ رہے ہیں ۔قوم پاگل پن کاشکار ہے اورملک کے سب سے بڑے سرجن ڈاکٹرکی رپورٹ کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے ۔قارئین آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ ملک کا سب سے بڑاسرجن ڈاکٹر کون ہے جی ہاں میری مراد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ہے۔کون نہیں جانتا کہ سینیٹ الیکشن میں کس قدر خریدوفروخت ہوئی ۔لیکن وزیراعظم سینیٹ کے انتخابات کروانے کو اپنا بہت بڑا کارنامہ سمجھ رہے ہیں ۔اپنے کارنامے پرخوش ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ فاخربھی ہیں ،جس کا اندازہ ان کے اس بیان سے باخوبی لگایا جا سکتا ہے جس میں ان کہنا تھا کہ وہ مضبوط وزیراعظم ہیں ،وزیراعظم نے کہا کہ بروقت سینیٹ الیکشن کراکے بہت سی پیش گوئیوں کو غلط ثابت کردیا ہے ۔اب نا نگران حکومت بنے گی اور نا ہی کوئی وزیراعظم اندر جائے گا،ناباہر جائے گا اورناہی اوپر جائے گا۔قائین کوئی اندر جائے گا یانہیں؟ کوئی باہر جائے گا یانہیں ؟ان سوالوں کے جواب توبس خداہی کے پاس ہیں کیونکہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔لیکن جہاں تک بات ہے اوپر جانے کی تو سب کوجانا ہے کوئی وزیراعظم پاکستان ہو یا کوئی اس سے بڑے عہدے پر ہی کیوں نا فائزہو۔وزیراعظم نے اس قدر تکبر سے بات کی کہ جیسے وہ اب قیامت تک وزیراعظم رہنے والے ہیں جبکہ اگلے سال مارچ میں ان کی حکومت کی مدت پوری ہونے جا رہی ہے ۔قائین میرے ساتھ ساتھ آپ بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرئے اوراللہ تعالیٰ یوسف رضاگیلانی اور ان کے تمام وزراکو زندگی عطا کرئے تاکہ کل کویہ لوگ ماضی کی طرح یہ نا کہہ سکیں کے ان کی حکومت کوپانچ سال پورے ہی نہیں کرنے دئیے گئے اگر ان کوپانچ سال حکومت کرنے کا موقع دیا جاتا تو وہ پاکستان کو پرامن اور خوشحال ملک بنادیتے

یہ بھی پڑھیں  آر پی اوشیخوپورہ ذوالفقارچیمہ جرائم کے خاتمے میں سنجیدہ