بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

انسانی رنگ و روپ

انسان بھی عجب مخلوق ہے۔انتہائی مختصر زندگی جو تقاضہ کرتی ہے اس میں منافقت،غیبت،لغویات،جھوٹ،بہتان بازی،ناحق ظلم،قتل،اغواء ،چوری ،ڈکیتی،بے رحمی،تکبرو غرورسمیت جملہ اخلاق رذیلہ نہ ہوں بلکہ حقوق العباد کا پورا پورا خیال رکھتے ہوئے انسانیت کی حرمت،عزت اور وقار کا اخلاق حمیدہ سے انسانی رنگ و روپ اجاگر کیا جائے۔اسلام امن ،سلامتی اور اخوت کا پرچار کرتا ہے۔دعوت اسلام بھی اس امر کی متقاضی ہے کہ انسانی معاشرہ اخلاقی بلندیوں کو چھوئے۔اسلام میں جہاں مسلمانوں کو زندگی بسر کرنے کے اصول و ضوابط سکھائے ہیں وہیں غیر مسلموں سے بھی بہتر اخلاق کی بھی تاکید کی گئی ہے تاکہ مثالی اخلاق سے متاثر ہو کر غیر مسلم بھی دعوت اسلام کو قبول کر لیں۔مگر ہمارے سماج کی گرتی ہوئی ساکھ سے غیر مسلم تو درکنار مسلم بھی متاثر نہیں ہو رہے ہیں بلکہ سچ کہا جائے تو ہمارے موجودہ کردار سے ہمارے مسلمان بھائی بھی مذہب سے کنارہ کشی میں عافیت سمجھنے لگے ہیں ۔اس کی وجہ آخر کیا ہے ؟ حالانکہ ہمارا مذہب تمام مذاہب سے بالاتر اور مکمل ضابطہ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے مگر اس کے باوجود ہماری معاشرت کیوں دوسری قوموں اور مذاہب سے گرتی دکھائی دے رہی ہے ۔دراصل ہمارا نظام کار فطرت انسانی کے متصادم بنتا جا رہا ہے۔سیاسی،مذہبی ور سماجی طور پر ہم اسلام کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ ہوس پرستی،مادیت پسندی اور حیوانیت نسبتی کا شکار ہیں۔جہاں تک نظام مملکت کا تعلق ہے اس میں بھی انگریزوں اور ماضی کے بادشاہوں کا طرز عمل کار فرما دکھائی دے رہا ہے۔جس سے حاکم و محکوم اور ظالم و مظلوم کی تفریق عیاں ہے۔قانون و ضابطے بھی اسی اصول پر متعین ہیں جن سے افراط و تفریط پیدا ہو چکی ہے ۔ان بنیادی خامیوں اور کمزوریوں کے سبب معاشرتی عدم توازن نے مضبوط جڑیں پکریں ہوئی ہیں جس سے دہشت گردی اور اس سے پیدا شدہ حالات مختلف بحرانوں کی شکل میں مسائل نے ہمارے اردگرد گھیراتنگ کیا ہوا ہے ۔بے روزگاری ، مہنگائی ،بڑھتے ہوئے جرائم اور قانون شکنی سے جنم لینے والے سماج کو سدھارنے کے لئے اب ہر ذی شعور کسی نجات دہندہ کے منتظر ہیں کہ انہیں کہیں سے راہ نجات حاصل ہو سکے۔
اس وقت ملک کے چار اداروں پر بڑی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی بڑے اپ سیٹ سے عوام کو بچانے کے لئے کردار سازی کا آغاز کریں ان میں سب سے پہلا فرض میڈیا پر عائد ہوتا ہے کہ وہ اس گھمبیر صورت حال سے نکلنے کے لئے ہر اول دستہ کا کردار ادا کرئے ۔ایسی خامیوں اور خرابیوں کا کھل کر اظہار کیا جائے جو ہمارے کلی نظام کو متاثر کر رہی ہیں ۔دوسرے نمبر پر سیاسی،مذہبی اور سماجی زعماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرتی عدم توازن کے جملہ محرکات پر نظر رکھتے ہوئے اصلاحی پہلو کو اجاگر کریں ان میں ہمارے عوامی نمائندے بالخصوص منتخب اراکین جنہیں سیاسیات میں مقننہ کا درجہ حاصل ہے ان پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ ان مسائل کے تدارک کے لئے سر توڑ کوشش کریں جو معاشرتی بے راہ روی کا سبب بن رہے ہیں ۔تیسرا ادارہ ہماری انتظامیہ سے ہے جن میں سدا بہار بیوروکریٹس اور نا خدا افسران ہیں جو اپنے فرائض منصبی کی بجا آوری کے لئے ہمارے لئے عذاب جاں بنے ہوئے ہیں ۔چوتھا اہم ادارہ افواج ہیں جن کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ملک و قوم کے جان و مال کا تحفظ یقینی بناکر عوام کو مسائل و مشکلات سے چھٹکارہ دلائیں۔
اگر ان چاروں اداروں کے سربراہ مل کر مضبوط و مربوط حکمت عملی مرتب کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم بے راہ روی اور غیر یقینی فضا سے نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ہمارے اداروں کی حالیہ شکل و صورت یہ ہے کہ ہم ’’سانپ کے گذر جانے کے بعد لکیر کو پیٹنا شروع کر دیتے ہیں‘‘۔ہمیں بیماری کا علاج کرنا پڑے گا نہ کہ بیمار کو دنیا سے اوجھل کرنے میں عافیت تصور کرنے کی روش اختیار کرنی چاہئے ۔گذشتہ ہفتے آذادکشمیر کے ضلع مظفرآباد میں کل جماعتی اتحاد کے رہنماؤں زائد امین ایڈووکیٹ،شیخ عقیل الرحمن کی سربراہی میں ایک وفد نے وزیر اعظم آذادکشمیر سے چار گھنٹوں پر مشتمل مذاکرات میں ضلع بھر کیسی مسائل زیر بحث لائے ۔ان مذاکرات میں ہمارے درپردہ حکمران ’’بیوروکریٹس‘‘ نے جس انداز سے حکومت اور مذاکراتی ٹیم کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کی کوشش کی اس پر زیرک طبع اور باریک بین سیاسی رہنما زائد امین نے بروقت بیوروکریٹک زبان کو بھانپ کر جس جرات سے مسائل کو اجاگر کیا اس سے عوام میں ان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہونا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ جو بھی عوام کی بھلائی کے لئے قدم اٹھائے گا اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اسی نوعیت کا ایک واقعہ ضلع ہٹیاں بالا میں گذشتہ ماہ ہوا تھا کہ میرٹ کی پا مالی کے ردعمل میں اپوزیشن لیڈر راجہ فاروق حیدرخان نے محکمہ تعلیم کے ایک افسر کو تھپڑ رسید کر کے انتظامیہ کو کھلا پیغام دیا کہ اگر آئندہ ایسی بے انصافی کہیں بھی کی گئی تو اس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑے گا۔یہ دو مثالیں اس لئے پیش کی ہیں کہ اگر ہمارے سیاسی رہنما اپنا قبلہ درست کر لیں تو مساوات پر مبنی معاشرہ قائم ہو سکتا ہے ۔ان سطور میں چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کا بھی ذکر نہ کرنا بے انصافی ہوگی۔انہوں نے پہلی بار سی این جی کے نرخوں میں حیرت انگیز طور پر کمی کرنے کا فیصلہ دیا تو ہمارے سماج میں موجود مافیا نے با امر مجبوری اس فیصلے کو قبول تو کر لیا مگر اس کے عمل درآمد میں خلل اندازی سے باز نہیں آئے۔ان حالات میں جب عوام گوناں گوں مسائل کا شکار ہیں قحط رجال نمایاں نظر آ رہا ہے ۔ورنہ سب ہی نے کبوتر کی ماندآنکھیں بند کر کے روایاتی طرزِ عمل اختیار کر رکھا ہے۔جب ہم اصلاح احوال کی جانب توجہ دیتے ہیں تو ہمیں یہ بات پیش نظر رکھنا ہو گی کہ وہ کون سے عوامل ہیں جن سے ہماری معاشرتی ناہمواری نے جنم لے رکھا ہے ۔ان نا انصافیوں کی وجہ سے آج ہم دہشت گردی اور دیگر مسائل کا شکار ہیں ۔اگر احساس ذمہ داری اور جرات و ہمت سے ہم نظام کار کو مثبت انداز سے استوار کر لیں تو پوری دنیا میں جو آج ہماری شناخت’’دہشت گرد‘‘ کے نام سے کی جاتی ہے یہ ہر گز نہیں ہو گی ۔دراصل دہشت گردی حق تلفی کے بعد شروع ہوتی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں پورے نظام کا از سر نو جائیزہ لینا پڑے گا ۔باہمی تنازعات کا فوری حل اور بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔انفرادی سے اجتماعی ملک سے بیرون ملک معاملات کو حسن سلوک سے مستقبل کو تابناک بنانا ہو گا ۔

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:پولیس کا منشیات فروشوں کے اڈے پر چھاپہ، دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے والا آتشین اسلحہ اورڈیٹونیٹرز قبضہ میں لیکر ملزمان کے خلاف مقدمات درج

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. ahan! gud MIR sahab I alz apreciated you but this time you are here wid new stuff so i will b happy to read and share it wid otherz
    Regards:
    Qaiser Mir

  2. ahan! gud MIR sahab I alz apreciated you but this time you are here wid new stuff so i will b happy to read and share it wid otherz
    Regards:
    Qaiser Mir

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker