شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / بشیر احمد میر / بھارت کی غلط فہمی اور امن کی آشا

بھارت کی غلط فہمی اور امن کی آشا

رواں ہفتہ اسلام آباد میں پاک بھارت مذاکرات کے اختتام پر وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب سے کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ جموں کشمیر سمیت تمام ایشوز پر با ت ہونی چاہئے،پاکستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات کا کوئی موقع گنوانا نہیں چاہتا،پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا کہ منموہن سنگھنے پاکستان آنے کے لئے شرط عائد نہیں کی،پاکستان کے ساتھ تعمیری تعلقات چاہتے ہیں،دہشت گردی امن اور سیکورٹی کے لئے خطرہ ہے۔مذاکرات میں دونوں ممالک نے ویزہ معاہدے پر دستخط ،کنٹرول لائن کے آر پار اعتماد سازی بحال اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا،سمجھوتہ ایکسپریس کی مشترکہ تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
قیام امن کے لئے متنازعہ مسائل کا حل لازمی ہے۔بھارت نے ۱ہمیشہ عالمی برادری کو دھوکا دینے کے لئے مذاکراتی عمل کا جھانسہ دیا جبکہ کشمیر سمیت دیگر مسائل کو پسِ پشت رکھا گیا۔بھارت نے آٹھ لاکھ فوجیوں سے کشمیریوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے اس وقت تک ایک لاکھ سے زائد بے گناہ کشمیری بزرگوں،نوجوانوں ،خواتین اور بچوں کو بے دردی سے شہید کیا ،قیمتی املاک اور تاریخی مقامات کو تباہ کیا،مساجد و مزارات کو نذرِ آتش اور بے حرمتی سے گریز نہیں کیا گیا۔یہ عالمی حقیقت ہے کہ کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور اقوامِ متحدہ کی درجنوں قرار دادیں اس ضمن میں تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔65برسوں سے کشمیر پر طاقت کے بل بوتے سے بھارت ناصرف قابض ہے بلکہ اپنے جابرانہ تسلط کو برقرار رکھنے کے لئے آذادی پسند قوتوں کو کچلنے کے لئے غیر انسانی سلوک روا رکھے ہوئے ہے جس سے عالمی برادری بخوبی آگاہ ہے۔ایک کروڑ پچاس لاکھ نہتے کشمیری بھارتی بر بریت کے خلاف سینہ سپر ہو کر جس جوانمردی سے مقابلہ کر رہے ہیں اس سے آذادی کی شمع ایک دن روشن ہو کر رہے گی۔
ہر ذی شعور یہ بھی جانتا ہے کہ آذادی کی تحریک میں بھارت کے ساتھ ساتھ چند عناصر ایسے بھی رکاوٹ ہیں جن کے ذاتی مفادات حائل ہیں۔ان عصمت فروش عناصر نے اپنے محلات تو بنا لئے،اپنی اولادوں کے لئے روپے پیسے اکھٹے کر لئے،اپنے اقتدار کے لئے محض مسئلہ کشمیر کو استعمال کر کے خوب کمائی بھی کر لی گئی ہے،شہداء کے نام پر اربوں ڈالرز جمع کر کے نام نہاد آذادی پسندی کا مظاہرہ کیا جا رہاہے۔ان وطن فروشوں کو تاریخ کبھی بھی معاف نہیں کر ے گی۔دانا و بینا ان عناصر سے بخوبی آگاہ ہیں۔شہداء کے خون پر ان عیاش عناصر نے جو گھناونا کھیل جاری رکھا ہوا ہے آخر کار ایک دن انہیں بھی بھارت کی طرح رسواء ہو کر کشمیر سے دیس نکالا ہو گا۔
یہ حقیقت ہے کہ کشمیری عوام نے آذادی کے سواء کسی اور آپشن کو قبول نہیں کرنا،بھارت بے شک ظلم و ستم جاری رکھے اور کشمیریوں کو بہکانے کے کئے مادی حربے زیرِ کار لائے مگر ایک روز بھارت نے ہاتھ جوڑ کر کشمیر سے بھاگنا پڑے گا۔
بھارت نے مذاکرات کا جو بے معنی سلسلہ جاری رکھ کر پاکستان دشمنی کا ثبوت دیا ہے اسے بے نقاب کیا جانا ضروری ہے۔اندرونِ خانہ آبی جارحیت کے منصوبوں سے بھی ہمیں بے خبر نہیں رکھا جا سکتا۔بھارت نے راوی،چناب ،جہلم اور دریائے سندھ کا رخ موڑنے کے جو منصوبے بنا رکھے ہیں وہ کسی طور بھی نظر انداز نہیں کئے جا سکتے۔بیس کروڑ پاکستانیوں کو قحط سالی کا شکار کرنے کی سازشوں کا ارتکاب سنگین صورت حال کی عکاسی کر رہا ہے۔گذشتہ ماہ بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے آبی وسائل کو پاکستان کی جانب سے موڑنے کا فیصلہ کر کے کھلے عام پاکستان دشمنی کا اظہار کیا ہے جس کے ردعمل میں آذادکشمیر کی اسمبلی کے لیڈر آف اپوزیشن راجہ فاروق حیدر خان نے فوری طور پر قومی اسمبلی،سینیٹ اور آذاد کشمیر اسمبلی کا اجلاس طلب کئے جانے کا مشورہ دیا جسے بد قسمتی سے کسی نے سنجیدہ نہیں لیا جس سے قومی بے حسی عیاں ہوتی ہے۔
حالیہ مذاکرات میں ویزہ کے حوالے سے بھی سطحی فیصلے کئے گے۔نرمی کی عمر 40سال پوری دنیا میں ہے جبکہ 67سال کی عمر کو نرمی میں رکھا گیا ہے حالانکہ پاک بھارت میں اوسط عمر 40سال ہے۔منموہن سنگھ اور آصف علی ذرداری تو اس نرمی سے مستفید ہو سکتے ہیں مگر دونوں ممالک کے شہریوں کو اس نرمی سے ایک فی صد بھی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔اسی طرح دیگر نکات بھی روٹین ورک کہے جا سکتے ہیں۔بھارت جس روپ میں دنیا کو دھوکہ دے رہا ہے اس سے امن کی کوششوں کو فائدہ کم اور جنگی جنون میں اضافہ ہونا یقینی ہے۔بلوچستان میں جو کھیل بھارت کھیلنا چاہتا ہے اس سے پوری ملت اسلامیہ باخبر ہے۔دہشتگردی کا الزام پاکستان پر لگانے والے جس بے خبری کا شکار ہیں انہیں آنکھیں کھول کر دیکھنا ہوگا کہ کس طرح پاکستان کے عوام اور جواں ہمت سیکیورٹی فورسزان انسانیت دشمنوں کے خلاف بر سرِ پیکار ہیں۔پاکستان ایک سو ارب ڈالرز سے زائد معاشی نقصان کر چکا ہے،کرنسی روز بروز گرنے کی وجہ بھی یہ ہے ،مہنگائی نے عوام کو جس مشکل میں ڈالا ہوا ہے یہ سب دہشت گردی کے نتائج ہیں جس پر غور نہ کیا جانا افسوس ناک امر ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک بھارت تنازعات کو سنجیدہ لیا جائے،کشمیر پر بھارتی تسلط عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ،آبی جارحیت کے بھارتی منصوبے انسانی حقوق سے متصادم ہیں ان مسائل پر مذاکرات کئے جانے از بس ضروری ہیں۔پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں ،جوہری اسلحہ سے لیس قوتوں کی موجودگی خطے کا امن برباد کر سکتی ہیں۔ایسے نہج پر دونوں اطراف کے سنجیدہ حلقوں کو سر جوڑنے کی ضرورت ہے۔الزامات اور دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہو تے بلکہ ان سے بگاڑ پیدا ہو تا ہے۔پاکستان کی امن کوششوں کو کمزوری سمجھنے والے بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔اب پاکستان 1971ء والا نہیں کہ عوام کو اپنے دام میں پھنسا دیا جائے۔جنگ کی صورت پیدا کرنے والے اپنی ایک ارب عوام کی خیر منائیں۔پاکستان ہر سطح پر بہتر تعلقات چاہتا ہے ،بھارت خطے میں اپنی چوہدراہٹ جس انداز سے چاہتا ہے اس سے بقاء امن ممکن نہیں۔امریکہ سمیت عالمی برادری کو ان خطرات و خدشات سے کوتاہ نظری نہیں کرنی چاہئے۔ورنہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیاب ہونا ناممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں  جڑانوالہ:پسند کی شادی کرنے پر بھائی نے بہن کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتاردیا