بین الاقوامیتازہ ترین

غربت نے فرق مٹادیا، بھارتی بچہ کتیا کے دودھ پر پلنے لگا

نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں غربت انسان کو اِس سطح پر لے آئی ہے کہ وہ کتیا کے دودھ پر گذر اوقات پر مجبور ہوگیا ہے ۔مشرقی بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ کی غریب بستی میں کتیا کے دودھ پر پلنے والے ایک بچے چھوٹو کمار کی منظرِعام پر آنے والی اُس ویڈیو فلم نے پوری دنیا کو انگشت بداندان کردیا ہے جس میں بِن باپ چھ سالہ چھوٹوکمار بڑے اطمینان سےکتیا کا دودھ پی کر پُرسکون انداز میں بتاتا ہے کہ بھوک مٹانے کیلئے وہ کُتیا کا دودھ پیتا ہے ،وہ اس سے بہت پیار کرتی ہے، کبھی کاٹتی نہیں اور مجھے بھی اپنے پِلوں میں سے ایک سمجھتی ہے ،مین کتوں کو پسند کرتاہوں اور اپنا دوست سمجھتا ہوں ،کُتیا کا دودھ اسلئے پیتا ہوں کہ بھوک مٹانے کیلئے گھر میں فاقوں اور اس کتیا کے سوا کچھ بھی دستیاب نہیں۔ چھوٹو کا باپ چار سالپہلے مرگیا تھا اور فاقوں نے اس غریب گھرانے میں مستقل دیرا ڈال لیا تھا ،۔ چھوٹو کی سالہ ماں شانی چاریدیوی اور 60سالہ دادی دن بھر جنگل میں لکڑی اور جنگلی خوراک چنتی ہیں لیکن پھر بھی ہرروزروٹی ترکاری کا انتطام نہیں ہوپاتا ۔اس کی دادی کا کہنا ہے کہ جب بچے کو کھانے پینے کیلئے کچھ نہیں ملے گا تو کیا کرے گا؟ اسے تو خوراک اور دودھ چاہئے خواہ وہ کتیا کا ہی ، زندہ تو رہنا ہے ۔ چھوٹو سے بڑے اس کے بھائی کو زبردستی ایک مقامی ڈھابے پر کام کیلئے بھیجا جاتا ہے جہاں سے وہ ماہانہ 1200روپے کماتا ہے ۔ باپ کی موت کے وقت چھوٹو دوسال کا تھا ۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس بھوکے بچے کو بلکتے دیکھ کر کُتیا نے دودھ پلانے کیلئے خود پہل کی ، اس کی ماں یا دادی نے مجبوراً ایسا کیا یا پھر بھوکے بچے نے خود ہی یہ راستہ نکالا؟ویڈیو میں چھوٹو نے کُتیا کی ٹانگیں پکڑیں اور اس کے ساتھ لاڈ کرتے ہوئے دودھ پیا جس دوران کُتیا برے سکون سے لیٹی رہی ۔مقامی سرکاری سرجن کا کہنا ہے بچے کی بھوک مٹانے کیلئے دودھ اور خوراک چاہئے ۔ یہ دودھ اس کی ماں ، بھینس ، بکری یا کُتیا کا ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہ دودھ اس بچے کی صحت کیلئے مضر بھی نہیں ہے۔یہ ویڈیو سامنے آنے پر بھارتی حکومت کی طرف سے کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا گیا ، نہ نوٹس لیا گیا اور نہ ہی کسی نے اس خاندان کی مالی اعانت کے بارے میں بات کی البتہ یہ ویڈیو فلم دیکھ اور خاندان کی کہانی سن کر اہلِ دل کی دھرکن ضرور تیز ہوجاتی ہے مگر مقامی رکن اسمبلی نے بڑے سکون کے ساتھ کہا ہے کہ غربت انسان کو یہاں تک لے آتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button