تازہ ترینسجاد علی شاکرکالم

انڈیا کی آبی دہشت گردی

بدقسمتی سے ہمارا ملک پانی کے بدترین بحران کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ صورتحال اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ ایک مسلسل غفلت اور لاپرواہی پر مبنی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔پاکستان میں کم و بیش آٹھ مہینے گرمی کا موسم رہتا ہے جسکی وجہ سے پانی کا استعمال یقیناً یورپی ممالک کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ بھاری بھر کم آبادی بھی پانی کے استعمال میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ ان سب عوامل کے باوجود پانی کی کمی کی ایک بڑی وجہ پانی کا بے دریغ اور اندھادھند استعمال ہے۔ویسے تو دنیا بھر میں پانی کے حوالے سے مسائل موجود ہیں جبکہ پاکستان میں صورت حال زیادہ سنگین ہے۔ وطن عزیز میں 85فیصد شہری پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ہمارا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو اپنی مجموعی قومی آمدنی کا سب سے کم حصہ صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے لیے خرچ کرتے ہیں۔صاف پانی اور نکاسی آب کا نظام نہ ہونے سے پیدا ہونے والی آلودگی سے پاکستان میں ہر سال 52 ہزار بچے ہیضہ‘ اسہال اور دیگر بیماریوں سے جاں بحق ہوتے ہیں۔پاکستان دنیا میں ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں پانی کا بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے۔اس کا سب سے بڑا سبب انڈیا کی آبی دہشت گردی ہے جس کی وجہ سے یہ ملک ہر سال سیلاب کی صورتحال سے بھی دوچار ہوتا ہے اور ہمارے پانیوں کا رخ موڑے جانے سے یہاں زیر زمین پانی کی سطح بھی خطرناک حد تک نیچے گر رہی ہے جس سے آئندہ چند برسوں میں اور زیادہ سنگین صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔بھارت پاکستان کا ایسا ہمسایہ ہے جس نے دوقومی نظریہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے اس ملک کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیں نقصانات سے دوچارکرنے کی کوششیں کرتاہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھی اس کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔ انڈیا کی پاکستان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اس کی یہی وہ ذہنیت تھی جس کی بناپر قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں تحریک پاکستان چلی اور اللہ تعالیٰ نے انعام کے طور پر یہ آزاد ملک ہمیں عطا کیا۔قیام پاکستان کے وقت حیدر آباد، جوناگڑھ، مناوادر جیسی مسلم ریاستوں کی طرح کشمیر ی بھی پاکستان سے الحاق چاہتے تھے لیکن جس طرح بھارت نے دوسری مسلم اکثریتی ریاستوں پر قبضہ کیا اسی طرح کشمیر میں بھی فوجیں داخل کر کے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا اور پھر وہاں قابض ہو کر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد سے آج تک نہتے کشمیریوں کی قتل و غارت گری، ان کی املاک جلائے جانے اوران کی عزتوں و حقوق کا پامالی کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارت سرکار آٹھ لاکھ فوج کے ذریعہ جہاں کشمیر میں ظلم و دہشت گردی کی نت نئی داستانیں رقم کر رہی ہے وہیں اس نے پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں اور ندی نالوں پرڈیم بنانے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ وہ سرنگوں کے ذریعہ ہمارے پانیوں کا رخ موڑ کر اپنے راجھستان جیسے صحرا آباد اور ہمارے لہلہاتے کھیت کھلیان برباد کر رہا ہے۔ بھارتی آبی دہشت گردی کے سبب پاکستان پچھلے کئی برسوں سے مسلسل سیلابوں کی زد میں ہے۔ ہر سال برسات کے موسم میں جب شدید بارشیں ہوتی ہیں تو انڈیا یہ کہہ کر پانی چھوڑ دیتا ہے کہ چونکہ پانی اتنا زیادہ ہے کہ اس کے کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے اس لئے مجبوری میں وہ لاکھوں کیوسک پانی کے ریلے چھوڑ رہا ہے۔ حالانکہ بارشیں تو ماضی میں بھی ہر سال ہو تی رہی ہیں لیکن ا یسی صورتحال تو کبھی نہیں بنی۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے ایوب خاں کے دور میں کئے گئے سندھ طاس معاہدہ میں پائی جانے والی کمزوریوں سے بہت زیادہ فائدے اٹھائے ہیں۔ معاہدہ میں یہ بات لکھی گئی ہے کہ بھارت بہتے ہوئے پانی کو اپنے استعمال میں لاکر اس سے بجلی پیدا اور باغبانی کیلئے استعمال کرسکتا ہے تاہم اسے روکنے کا اختیار نہیں ہو گا لیکن وہ سارے کے سارے پانی کو اپنے قبضہ میں لینے کی مذموم منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے۔1960کے معاہدہ کے نتیجہ میں سندھ ، جہلم اور چناب کا زرعی پانی پاکستان کے حصے میں آیا جبکہ ستلج، راوی اور بیاس کا زرعی پانی انڈیا کے پاس چلا گیا لیکن صورتحال یہ ہے کہ انڈیا پاکستان کا پانی مکمل طور پر بند کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے۔انڈیا کو معلوم ہے کہ ایٹمی قوت پاکستان سے اب میدان میں مقابلہ کرنا آسان نہیں ہے اس لئے وہ بغیر جنگ لڑے پاکستان کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے اورپاکستانی دریاؤں پر غیر قانونی ڈیم تعمیر کر کے وطن عزیز کو بنجربنانا چاہتا ہے۔ انڈیا کی آبی دہشت گردی کے نتیجہ میں پاکستان میں پانی کی سطح مسلسل نیچے جارہی ہے جس سے کئی طرح کے مسائل کھڑے ہو رہے ہیں۔ انڈس واٹرمعاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ بھارت جہلم، چناب اور سندھ جن بھارتی علاقوں سے گزرتا ہے وہاں اسے پینے کیلئے، ماحولیات کیلئے اور آبی حیات کے لئے پانی لینے اور استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ جب اپنے لئے اسی معاہدے کے تحت یہ تینوں قسم کا پانی جائز قرار دیتا ہے جو پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں سے لیا جا رہا ہے تو ہمارے غیر زرعی استعمال کیلئے ستلج ،بیاس اور راوی سے ماحولیات، آبی حیات اور پینے کا پانی کیوں بند کر رہا ہے؟۔ 1970 کے انٹرنیشنل واٹر معاہدے کے تحت دریا کے زیریں حصے میں خواہ وہ کسی ملک میں ہو 100فیصد پانی بند نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے جو سہولت بھارت سرکار ہماری طرف آنے والے پانیوں سے حاصل کر رہی ہے وہی سہولت بیاس اور راوی میں پانی چھوڑ کر پاکستانیوں کو دی جانی چاہیے۔یہ بہت اہم مسئلہ ہے جس پر بھرپور آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!