تازہ ترینکالممسز جمشد خاکوانی

بھارت سے دوستی کس بنیاد پر؟

کشمیری رہنما مذہب کی بنیاد پر ملک کی تقسیم کے خلاف تھے۔اس سلسلے میں وہ قائداعظم کو قائل کرنے کے لیے نئی دہلی میں انکی رہائش گاہ اورنگ زیب روڈ پر ان سے ملے تو بقول شیخ عبداللہ قائداعظم رحمتہ اللہ نے میری باتیں نہایت خاموشی اور صبر و سکون سے سنیں۔ پھر ایک مرد بزرگ کے انداز میں مجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ۔
عبداللہ! میں تمہارے باپ کی مانند ہوں اور میں نے سیاست میں اپنے بال سفید کیے ہیں اور میرا تجربہ ہے کہ ہندو پر کبھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا یہ کبھی آپ کے دوست نہیں بن سکتے۔میں نے زندگی بھر ان کو اپنا بنانے کی کوشش کی لیکن مجھے ان کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی ۔ایک وقت آئے گا جب تمہیں میری بات یاد آئے گی اس وقت تم کف افسوس ملو گے ۔‘‘
قائداعظم نے بڑے شفقت بھرے لہجے میں کہا عبداللہ ! تم ایسی قوم پر کس طرح اعتبار کر سکتے ہو جو تمہارے ہاتھ سے پانی پینا پاپ (گناہ) سمجھتی ہو ۔ان کی سوسائٹی میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں وہ تمہیں ملیچھ سمجھتے ہیں۔‘‘
قائداعظم نے اس سلسلے میں اپنا ایک تجربہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔ ایک بار بمبئی میں وہ دوپہر کا کھانا اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھے کھا رہے تھے کہ اچانک ہوٹل میں پنڈت مدن موہن مالویہ کہیں سے آ نکلے ۔ وہ بھی غالباً لنچ کے لیے وہاں آئے تھے ۔ میں نے انہیں اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی ۔ وہ بولے ۔’’ میں مذہبی وجوہ کی بنا پر ایک ہی میز پر تمھارے ساتھ کھانا نہیں کھا سکتا ۔‘‘
جب میں نے کہا ساتھ والی میز پر بیٹھ کر کھانا تناول فرمائیں تو جانتے ہو انہوں نے کیا جواب دیا ؟ یہ بھی ممکن نہیں کیونکہ مشترکہ قالین بچھی ہوئی ہے اور اس کے ذریعے چھوت آ سکتی ہے ’’ بھئی میں چھوت چھات کا بہت قائل ہوں ‘‘ تب میں نے بیرے کو بلوا کر قالین ہٹوایا اور پنڈت جی کے لیے خشک میوے اور دودھ کا آرڈر دیا ۔‘‘
شیخ عبداللہ لکھتے ہیں مجھے یہ واقعہ سنانے کے بعد قائداعظم نے مجھے فہمائش کے انداز میں کہا کہ عبداللہ! جس قوم کے برگذیدہ لیڈروں کا یہ حال ہو وہ تمہیں کیسے جینے دیں گے ۔‘‘
یہ ایک ایسے لیڈر کی رائے تھی جس کو دنیا قائداعظم کے نام سے جانتی ہے قائد کو الگ ملک لینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟ اسی تعصب کی وجہ سے ۔ کیا بھارت یہ تعصب ترک کر چکا ہے ؟ ہم بھارت سے دوستی اور تجارت کے لیے کیوں بیقرار ہیں ؟ یہ سوال ہی میرے اس کالم کا موضوع ہے ۔
قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان اور بھارت کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم نہیں ہو سکے دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑی وجہ تنازعہ کشمیر ہے اس پر اب تک تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔قیام پاکستان کے وقت سے بھارت پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرتا آیا ہے بھارت نے مغربی پنجاب کو آنے والے پانی کا راستہ اپریل 1948میں ہی روک دیا تھا ۔اس وقت کون سا آمر برسر اقتدار تھا؟ بھارت نے کشمیر میں استصواب رائے کرانے کا وعدہ کیا مگر بعد میں مکر گیا۔آزاد کشمیر کا علاقہ کشمیری مجاہدین نے خود بھارتی افواج کو شکست دے کر آزاد کروایا ۔سرریڈکلف نے مسلم اکثریت کے بعض علاقے ایک سازش کے تحت ہندوستان میں شامل کر دیئے۔مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان ایک ہزار میل کی مسافت حائل تھی ،لاکھوں افراد کا نقل مکانی کرنا ،قتلو غارت ،لُوٹ مار ،کشمیر میں جنگ آزادی،انتظامی مشینری کے مسائل ،بھارت کی طرف سے پاکستان کو اثاثوں میں سے جائز حصہ نہ ملنا،بیروزگاری اور غربت ،یہ سارے عناصر قوم اور اس کے قائد کے لیے بہت بڑا چیلنج تھے ۔بھارت جان بوجھ کر پاکستانی معشیت کو برباد کرنے پر تلا تھا ۔
ریزرو بنک آف انڈیا دونوں ممالک کی بینکنگ کی ضروریات کا ذمہدار تھا ۔لیکن بینک میں ہندووں کی اجارہ داری تھی اور ان سے پاکستان کی ترقی میں کردار کی توقع عبث تھی ۔ یکم جولائی 1948 کو قائداعظم نے ’’ سٹیٹ بینک آف پاکستان‘‘ کی بنیادرکھی ۔قائداعظم نے اس کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ،سٹیٹ بینک آف پاکستان معاشی شعبے میں ہمارے عوام کی حا کمیت کا نشان ہے ۔مغربی طرز معیشت ہمیں فائدہ نہیں دیتا ۔ہمیں انصاف اور مساوات پر مبنی اپنا جداگانہ معاشی نظام لانا ہو گا ۔مغربی معاشی نظام نے تو انسانیت کے لیے کئی دشواریاں پیدا کر دی ہیں۔اگر ہم ایسا کر پاتے ہیں تو ہم مسلم قوم کی حیثیت سے پورے عالم کو ایسا معاشی نظام دے سکیں گے جو انسانوں کے لیے امن کا پیغام بنے گا ۔امن ہی انسانوں کی بقا اور اچھی معیشت کو قائم کر سکتا ہے ۔ قائداعظم کی یہ تقریر ان لوگوں کے منہ پر تمانچہ ہے جو آج بھی ان کو مغرب نواز کہتے ہیں ۔قائد نے سخت مشکلات کے باوجود ’’ریلیف فنڈ برائے مہاجرین ‘‘ قائم کیا جس میں عوام نے دل کھول کر چندہ دیا اس رقم سے انہوں نے مہاجرین کی آبادکاری اور انہیں روزگار مہیا کرنے کا اہتمام کیا یوں ملکی معیشت کو کافی حد تک سہارا ملا ۔بھارت نے لاکھوں افراد کو پاکستان میں دھکیل کر سمجھا تھا کہ معاشی دباؤ اور بحران نوزائیدہ مملکت کو لے ڈوبے گا لیکن پاکستانی قوم نے اپنے قائد کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے مردانہ وار مقابلہ کیا ۔پاکستان کو مضبوط بنانے اور اسے درپیش ابتدائی مشکلات دور کرنے میں عوام کا کردار بہت ہی مثبت رہا اپنے عظیم قائد کی سربراہی میں جرات استقامت اور سخت محنت سے کام لیتے ہوئے اپنے ملک کو ایک اچھی بنیاد فراہم کی ۔
25 مارچ 1948کو قائداعظم نے سرکاری ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ۔آپ اپنے جملہ فرائض قوم کے خادم بن کے ادا کیجیے آپ کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہونا چاہیئے۔ اقتدار کسی بھی جماعت کو مل سکتا ہے آپ ثابت قدمی ،ایمان اور عدل کے ساتھ اپنے فرائض بجا لائیے۔اگر آپ میری نصیحت پر عمل کریں گے تو عوام کی نظروں میں آپ کے رتبے اور حیثیت میں اضافہ ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ قائد کی یہ تقریر پڑھ کے مجھے موجودہ خادم اعلیٰ جناب شہبازشریف کی کاروائیوں پر خوف محسوس ہو رہا ہے کہ وہ یا تہ خود کو خادم اعلیٰ نہ کہلواتے یا پھر ایسے بادشاہوں والے کام نہ کرتے شیخوپورہ میں تقریباً چالیس ہزار لوگوں کے ساتھ جو ظلم روا رکھا جا رہا ہے اس کا جواب تو خیر انہیں دینا ہوگا ۔لیکن انتظامی مشینری کو جس طرح استعمال کیا جا رہا ہے وہ کسی طور ایک جمہوری حکومت کے شایان شان نہیں ۔ابھی تو UBLکے جبری ریٹائر ملازمین کی بد دعائیں ان کا تعاقب کر رہی ہیں کہ شریف برادران نے ایک اور کھاتہ کھول لیا ہے ۔۔۔تفصیل کے مطابق شیخوپورہ کی انتہائی زرخیز زمیں جس میں مونجی کی فصل کی ایکڑ اوسط ستر من اور گندم کی فی ایکڑ اوسط ساٹھ من ہے جہاں پے پلنے والے جانوروں کے دودھ اور گوشت سے پورا لاہور فیض یاب ہوتا ہے ۔وہاں سے ان غریب کاشتکاروں کو جبری بے دخل کیا جا رہا ہے ۔تاکہ وہاں پر گارمنٹ سٹی تعمیر کی جا سکے ۔۔بد دعاؤوں ، واسطوں اور احتجاج کے درمیا ن کسانوں نے جو موقف پیش کیا وہ کسی طور پر بھی نظر انداز کیے جانے کے لائق نہیں ۔روتی ہوئی عورتوں اور پریشان حال مردوں کا موقف تھا ہم نے گارمنٹ سٹی کا کیا کرنا ہے؟
ہم ان پڑھ لوگ ہیں جنھیں واہی بیجی کے سوا کوئی کام نہیں آتا ہمارے اباؤ اجداد بھارت سے ہجرت کر کے آئے یہ زمینیں ہمیں الاٹ ہوئیں ہم نے ان زمینوں کو قابل کاشت کیا ہمارا مرنا جینا ان زمینوں میں ہے تو ہمیں دوبارہ کیوں ہجرت پر مجبور کیا جا رہا ہے ؟ ان لوگوں نے شائد ایک سال سے اسٹے آرڈر لیے ہوئے تھے ،جس کو مصطفی رمدے جو کہ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کے صاحبزادے ہیں نے اپنی آؤٹ آف ٹرن ترقی کو حلال کرتے ہوئے اس اسٹے کو ختم کر دیا اور اے سی اور ڈی سی صاحبان اپنے لاؤ لشکر سمیت ان کسانوں پر ٹوٹ پڑے لیکن وہ لوگ کسی صورت اپنی زمینیں چھوڑنے کو تیار نہیں ۔وہ بار بار کہتے تھے کہ بھارت ہمیں آلو ، پیاز ، ٹماٹر دے رہا ہے تو کیا ہمیں کھانے کو روٹی بھی بھارت دے گا کس سازش کے تحت ایک زرعی ملک کو زراعت سے محروم کیا جا رہا ہے ؟ قارئین! شائد آپ کو یاد ہو کہ میں نے ایک بھارتی صحافی ڈاکٹر پرتاپ ویدک کے بارے میں اپنے کالم میں ذکر کیا تھا کہ وہ لکھتے ہیں آصف علی زرداری بھی بھارت کو موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دینے کو تیار تھے مگر کسان تنظیموں اور کچھ تاجر تنظیموں نے انہیں ایسا نہ کرنے دیا ۔ لیکن انہیں میاں نوازشریف کی حکومت پر مکمل یقین تھا کہ وہ یہ مرحلہ طے کر لیں گے ۔
سو یہ اس کا تسلسل ہے کہ پاکستان کو زراعت سے مکمل طور پر محروم کر دیا جائے ۔ادھر جنوبی پنجاب کے زرعی یونٹ عربیوں کی نذر کیے جا رہے ہیں اور اس طرف کی زمینیں حمزہ شہباز اور مریم نواز کی ملکیت میں دی جا رہی ہیں اب آگے یہ کس کے حوالے ہونگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔حکمران خاندان بڑی تیزی سے تمام کاروبار پر قابض ہوتا جا رہا ہے اپنی پھٹی ہوئی ٹیوب میں پینتیس پینچر لگوا کر وہ جتنا ممکن ہو سکتا ہے اقتدار کی گاڑی کو بھگائے لے جا رہے ہیں اس کی زد میں کون کون آ رہا ہے انہیں مطلق کوئی پرواہ نہیں اور میاں منشا اب بھی ان کے ہم رکاب ہیں،وہی میاں منشا جن کو مزید ادارے اونے پونے سونپے جا رہے ہیں اور جو دولت سمیٹتے تھکتے نہیں جن کے متعلق لوگوں کی رائے ہے کہ شائد انہوں نے اپنے کفن میں جیبیں لگوانی ہیں ۔خیر ہمیں انکی قبر میں جواب دہی نہیں کرنی ہم تو بات کرتے ہیں اپنے ملک کی اور اس ملک پہ جو بھی حکمران ہوگا ہم اس سے جواب طلبی کے حقدار ہیں ۔ہمیں بھارت کی گود میں کیوں ڈالا جا رہا ہے ؟ ہمارے تاجر طبقے کو ایک سازش کے تحت ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے محروم کیا جا رہا ہے ،اگر کوئی اس کی جرات کرتا ہے تو افسر شاہی اسکی راہ میں مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر دیتی ہے اور انہیں ایک ہی نسخہ سمجھایا جاتا ہے کہ اس ملک میں صرف قائداعظم کی تصویر چلتی ہے امید ہے قارئین سمجھ تو گئے ہونگے؟خاص طور پر جو لوگ باہر سے اپنا کچھ سرمایہ لے کر آتے ہیں جو وطن کی محبت سے سرشار ہوتے ہیں جنکے ذہنوں میں دور دور تک یہ تصور نہیں ہوتا کہ پاکستان میں اب دودھ ،انڈے، مرغیوں ،سبزیوں تک کے ریٹ حکومت مقرر کرتی ہے اور پاکستان میں اب ہر کاروبار پر حکومتی بچے قابض ہیں وہ حیران پریشان ہو جاتے ہیں ۔اور ہم جیسے لوگ حیران ہیں کہ شریف برادران نے گذشتہ ادوار سے کچھ بھی نہیں سیکھا ؟ اس دور میں بھی انہوں نے یونہی لوگوں کے کاروبار قبضے میں کیئے ان کے جانور کلووں کے حساب سے بکوائے آج جہاں رائے ونڈ کی سٹیٹ کھڑی ہے ۔یہ بھی کسی کی سٹیٹ تھی جو میاں نواز شریف صاحب کو پسند آ گئی اور انہوں نے ’’ہر قیمت ‘‘ پر حاصل کر لی ۔تب بھی کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا شائد اس بار بھی کوئی کچھ نہ بگاڑ سکے جن پر زمین تنگ کر دی جاتی ہے وہ آخر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو جایا کرتے ہیں ۔نون لیگ کے جاوید لطیف کا نام سامنے آ رہا ہے جو ستر لاکھ روپے ایکڑ والی زمین تیرہ لاکھ روپے ایکڑ میں دینے پر مجبور کر رہے ہیں ہو سکتا ہے وہ لوگ تھوڑے زیادہ پر مان جائیں گے کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی ’’ چارہ ‘‘ نہ ہو غریب لوگ حکمرانوں سے لڑ تو نہیں سکتے ۔سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہاؤسنگ سوسائیٹیاں، یا گارمنٹ سٹیز ‘‘ لوگوں کو روٹی دے سکتے ہیں ؟ایک متاثرہ شخص کا موقف تھا کہ میں اپنی ششماہی فصل سے پانچ لاکھ روپے حاصل کرتا ہوں اپنے ڈھور ڈنگر بھی اس سے پالتا ہوں اپنے خاندان کو بھی اسی زمین سے پالتا ہوں ،کیا حکومت مجھے ایک لاکھ روپے مہینہ تنخواہ دے سکتی ہے؟ جبکہ ہم میں سے کوئی پڑھا لکھا نہیں نہ ہمیں کوئی اور کام آتا ہے ،حالت یہ ہے گیس نہ ہونے کی وجہ سے فیصل آباد کی تمام انڈسٹری بند پڑی ہے ،پہلے والی انڈسٹریاں بجلی اور گیس نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو گئی ہیں لاکھوں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں تو نئی انڈسٹریاں کیسے چلیں گی ؟ یا تو حکومت تسلیم کرے کہ پہلے والی انڈسٹریوں کو ایک سازش کے تحت گیس اور بجلی سے محروم کر کے بند کرنے پر مجبور کیا گیا ۔اوراس بات کا جواب دے کہ نئی انڈسٹری کے لیے گیس اور بجلی کہاں سے آئے گی ؟ لاہور کے تمام مضافاتی علاقے بھارتی خرید رہے ہیں اس خبر میں کہاں تک صداقت ہے ؟بھارت نے پانی بند کیا اور عالمی عدالت میں جان بوجھ کر مقدمہ ہارا گیا ،آپ ایسے دشمن سے دوستی کرنے کو مرے جا رہے ہیں جس نے ہمیں قدم قدم پر نقصان دیا
جو ہماری سا لمیت کے درپے ہے ۔آپ اپنے کسانوں کو زمینوں سے بے دخل کر کے ملک کا کیا بھلا کر رہے ہیں ؟پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ جس کے گھر میں سال کی گندم اور دودھ دینے والا ایک بھی جانور ہو وہ بھوکا نہیں مرتا ،نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے ،کیا آپ بیروزگاری میں اضافہ کرنے جا رہے ہیں ؟
کتنی ہی کسان تنظیمیں ہیں جو دن رات اس حکومت کی جان کو رو رہی ہیں کہ اس زرعی ملک کو بنجر کرنے سے باز رہیں ،بھارت ہمارا کبھی دوست نہیں بن سکتا ،اس سے دوستی اور تجارت کے لیے شہیدوں کے خون سے غداری مت کریں لیکن۔۔۔۔
قیامت کے روز زمین اپنے سب خزانے اگل دے گی مگر کوئی اس کا لینے والا نہیں ہوگا ۔بنی آدم نے جو برے بھلے کام کیے زمین سب ظاہر کر دے گی مثلاً کہے گی فلاں نے میرے اوپر نماز پڑھی ،فلاں نے چوری کی ،فلاں نے اپنے بھائی کا خون ناحق کیا وغیرہ وغیرہ گویا آجکل کی زبان میں یوں سمجھو جس قدر اعمال زمین پر کیے جاتے ہیں زمین میں ان سب کا ریکارڈ موجود ہے قیامت میں وہ پروردگار کے حکم سے کھول دیا جائے گا میدان حشر میں ان کے اعمال دکھائے جائیں گے بدکاروں کو رسوائی اور نیکو کاروں کو سرخروئی حاصل ہو گی ۔اللہ اپنی عبادات میں کوتاہی تو معاف فرما دے گا مگر دوسرے کا حق مارنے والا اس وقت تک معاف نہیں کیا جائے گا جب تک مظلوم معاف نہ کرے گا ۔۔۔
سو اے حکمرانو ہوش کے ناخن لو چند روزہ زندگی کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب مت خریدو! مسزجمشید خاکوانی ‘‘

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!