بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

انقلاب ،ایسے نہیں پھر کیسے۔۔۔؟؟؟

bashir ahmad mirاللہ کا کا کرم رہا کہ کسی نا خوشگوار متوقع خطرات کے باوجود ڈاکٹر طاہر القادری نے ’’لشکر کشی‘‘ 36 گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد لاہور سے اسلام آباد پہنچتے ہی رات 2بجے لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو کہا کہ وہ کل 15جنوری 2013ء دن گیارہ بجے قومی و صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیں ورنہ عوام خود فیصلہ کریں گے،انہوں نے لانگ مارچ کے اختتام اور انقلاب کے آغاز کا اعلان کر تے ہوئے کہا کہ حسینی مشن لیکر آیا ہوں یزیدیت کے خلاف صف آراء ہوں،ملک سے ظلم ،نا انصافی اور جبر کے خلاف نکلا ہوں اور ڈاکوؤں ،لٹیروں اور چوروں کا دور ختم کر کے دم لوں گا انہوں نے شرکاء سے کہا کہ ان کے حکم کے بغیر کوئی اپنی جگہ سے نہ جائے ،انہوں نے سٹیج ڈی چوک منتقل کرنے کے لئے انتظامیہ کو 5منٹ کی مہلت بھی دی ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی کہا کہ ’’اب جینا بھی یہاں اور مرنا بھی یہاں ہوگا‘‘۔
ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد سے اب تک راقم مسلسل قارئین کو زحمت نظر دیتا آیا ہوں اگر اپنے گذشتہ لکھے گے کالمز اسی نسبت سے آگے رقم کروں تو قارئین بہتر انداز سے کسی صحت مند نتیجے پر پہنچ پائیں گے،اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن عزیز بے شمار مسائل اور اندرونی و بیرونی سازشوں میں گھرا ہوا ہے،حالیہ چند دنوں کے واقعات پر نظر دوڑائی جائے تو سانحہ کوئٹہ ،سوات،بلوچستان اسمبلی کی معطلی اور گورنر راج،پاک بھارت سرحدی کشیدگی سمیت ماضی سے ورثہ میں ملنے والے بے شمار مسائل نے عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے،جن پر قابو پانے کے لئے کما حقہ قومی اور صوبائی حکومتیں کامیاب نہیں ہو سکیں،ان حالات کے پیش نظر ڈاکٹر طاہر القادری کے مشن سے انکار نہیں مگر طریقہ کار قطعاً آئین ،قانون اور جمہوری روایات کے بر عکس ہے ۔اس تناظر میں کہیں سے ایک غیر سنجیدہ چنگاری سارے نظام کو بھسم کر سکتی ہے مگر حکومت نے جمہوری انداز سے ڈاکٹر صاحب کو جو انتظامی سہولیات فراہم کیں ہیں اور وہ پہلی بار اسلام آباد کے سنگم میں ڈھیرے ڈالے ہوئے ہیں یہ سب جمہوری کلچر کی بدولت اور قانون و آئین کے مطابق ہونا حکومت کا بے مثل کردار ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کی علمی صلاحیت اور فلاحی خدمات سے انکار نہیں ،اگرچہ ان کے بارے بے شمار الزامات موجود ہیں مگر اس کے باوجود ان کی شخصیت قابل احترام ہے،ایک مخصوص حلقہ ان کی قدر و منزلت ’’مسیحا‘‘ کے طور پر بھی کرتا ہے،لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود انہوں نے جس انداز سے تحریک کو آگے بڑھایا ہے اس میں بہت سی خامیاں ہیں ،جس کی وجہ سے انہیں ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے ،پہلی بات تو یہ ہے کہ موجودہ اسمبلیوں کی مدت اب صرف 60دن رہ گی ہے ،انتخابی تیاریاں ابتدائی طور پر سبھی سیاسی جماعتوں نے شروع کر رکھی ہیں ،حکومت اور اپوزیشن کی مشاورت سے آئین کے مطابق الیکشن کمیشن تشکیل پا چکا ہے اور یقینی طور پر آئین کے دفعات62اور63کے مطابق ہی انتخابی عمل شروع ہو گا،اس سارے آئینی تقاضوں کے پورے ہونے کے باوجود وہ کیا امر باقی ہے جس پر ڈاکٹر صاحب مصر ہیں،پھر یہ کہا جانا کہ وہ یزیدیت کے خلاف صف آراء ہیں ،اس کی کیا مماثلت درست ہے ،مطلب یہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب آئین و قانون سے ماورائے کسی اقدام کی جانب مدد گار بننے کی کوشش کر رہے ہیں جو ’’قومی جرم ‘‘ کے زمرہ میں آتا ہے۔جہاں تک انقلاب کی بات ہے تو اس کی صف بندی کے لئے برسوں کی تیاری کی جاتی ہے موصوف 5برس بیرون ممالک دعوت و تبلیغ میں مصروف رہے جبکہ انہوں نے انقلابی اصلاحات کے حوالے سے کوئی منظم تیاری بھی نہیں کر سکی ،اس سارے عمل سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب موقع شناسی سے عوام کی دکھتی رگ پکڑ کر کسی اور ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں،کیا اسمبلیاں تحلیل ہو جانے کے بعد آئین انہیں اجازت دے سکتا ہے کہ وہ شخصی حکمرانی قائم کر لیں اور جو ان کی پسند میں آئے وہی کچھ ہو،جناب ذمینی حقیقت تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے پاس ان کے سوا کوئی قابل ذکر ایسا شخص بھی نہیں جو آذادانہ انتخابات میں جیت پائے ،حیرت ہوتی ہے کہ چند ہزار بے بس ،بے زبان اور اندھی عقیدت رکھنے والوں کے سوا ان کے پاس کیا ہے ؟انہیں استعمال کر کے سستی شہرت حاصل کرنا کہاں عوام کی ہمددری کہلائے گی۔۔؟
جس وقت یہ کالم تحریر کر رہا ہوں اس لمحہ ڈاکٹر صاحب کے عقیدت مند کنٹینرز ہٹا کر ڈی چوک کی طرف بڑھ رہے ہیں ،لیکن حکومت نے کمال فہم و فراست کے ساتھ ڈی چوک تک انہیں جانے کی اجازت دے دی ہے ،جس سے متوقعہ تصادم ٹل گیا ہے ،دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایسے لانگ مارچ سے ماورائے آئین اقدام کی راہ ہموار کرنے کا قانون اجازت دے گا ،آذاد عدلیہ موجود ہے ڈاکٹر صاحب جیسے حملہ آور ہو رہے ہیں یہ کسی بھی لحاظ سے جمہوری طرز نہیں کہلاتا بلکہ اسے لشکر کشی کہا جا سکتا ہے جو دہشتگردی سے مماثلت رکھنے والا عمل ہے۔۔دراصل ڈاکٹر صاحب ’’do or die‘‘ کی پوزیشن پر آ چکے ہیں ،انہیں ملک کی کسی معروف سیاسی جماعت کی حمایت بھی حاصل نہیں ،مخص اپنے عقیدت مندوں کو بڑی آزمائش میں ڈالنا بھی ظلم سے کم نہیں اب ان کی سیاست کا ٹرن آوٹ ہو چکاہے۔اگر مان لیا جائے کہ کسی تبدیلی کے لئے چند ہزار افراد کو اسلام آباد میں جمع کرنے سے اقتدار مل سکتا ہے تو اس زاویہ سے پی پی پی اور مسلم لیگ ن ان سے کئی گنا زیادہ عوام اکٹھے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،پھر یوں ہی مقابلہ کر کے حکومتیں بدلنا کیا آئین کے مطابق عمل کہلائے گا۔۔؟ کیا یہی آئین کی بالادستی کا تقاضہ ہے کہ جمہوری حکومت کو دھمکیاں دیکر نکالا جائے ،دو ماہ بعد انتخابات آ رہے ہیں سب لوگوں کو اس میں شامل ہونے سے کون روکتا ہے آئیے انتخابات میں عوام کی طاقت سے عوام دشمنوں کو شکست دیں ،ایسے ٹوپی ڈرامے سے ملک کا جمہوری نظام لپیٹنے کی سازش ملک کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔اس سارے کھیل میں واضح ہو تا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کسی منصوبہ بند ایجنڈے یا بنا ء تنظیمی منصوبہ بندی وارد ہوئے ، تا دم تحر یر قادری صاحب اسلام آباد کی یخ بستہ فضاؤں میں اپنے مریدین کے ساتھ ہیں ، ابھی تک حکومت نے طاقت کا اظہار نہیں کیا ،جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ جلد اختتام پذیر ہو جائے گا،مذاکرات ہی واحد راستہ ہے جس سے ان کی عزت سادات بچ سکتی ہے ،کیونکہ عوام کی غالب اکثریت موجودہ نظام سے بے زار ہونے کے باوجود ڈاکٹر صاحب کی مہم سے عملاً لا تعلق ہونا ان کی مہم جوئی کو کمزور کرتی دکھائی دے رہی ہے۔دراصل ڈاکٹر صاحب کو کسی نے غلط فہمی کا شکار کر دیا ہے کہ جیسے ہزارہ شیعہ کے ملک بھر احتجاج سے بلوچستان اسمبلی معطل ہوئی ہے اسی طرح وہ پریشر دے کر قومی و صوبائی اسمبلی کو تحلیل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو ناممکن ہے ۔جہاں تک نظام بدلنے کی بات ہے تو اس کے لئے بنیادی ہوم ورک کی ضرورت ہے جو ابھی تک کسی سیاسی جماعت نے نہیں کی ،اگر ڈاکٹر صاحب کی مہم ناکام بھی ہو جاتی ہے مگر یہ امکانات موجود ہیں کہ عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی ،مایوسی اور زند ہ رہنے کی نا امیدی کسی چنگاری کی منتظر ہے جس کے لئے سب سیاسی زعماء کو سر جوڑنے ہونگے ،ورنہ آنے والے جھونکے پُر خطر ثابت ہو سکتے ہیں۔
بہر حال اب تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مفاہمتی پالیسی کے تحت متفقہ لائحہ عمل سامنے لائیں ،انتخابات کو آذادانہ ،شفاف اور بروقت منعقد کرنے کے انتظامات کریں تاکہ ملک میں جمہوری تبدیلی سے عوام کا مستقبل خوشگوار ہو سکے۔ نیز عدلیہ اور میڈیا کو بھی واضح کردار ادا کر کے قومی فریضہ ادا کرنا ہو گاتا کہ ملک کسی کشیدگی کا شکار نہ ہو سکے اور غیر جمہوری اقدام کا بھی ملک متحمل نہیں ،ذرائع یہ بھی خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ افغانستان اور پاکستان میں موجود تشدت پسندوں کے خلاف ایک بھر پور مہم شروع کرنا چاہتا ہے جو جمہوری حکومت میں ممکن نہیں لہذا ڈاکٹر صاحب کو اس خطرناک مہم کے لئے خام مال کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے ،اگر یہ بات درست ہے تو پھر حکومت سمیت تمام سیاسی قوتوں،با شعور عوام اور عدلیہ و میڈیا کو ملک کی قومی سلامتی اور استحکام کے لئے مشترکہ کردار ادا کرتے ہوئے ایسی ہر سازش کو ناکام بنانا ہو گا جو جمہوریت کے خلاف ہو۔بہرحال ڈاکٹر طاہر القادری کی سادگی اور ان کے پیارے عقیدت مندوں پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ اگر وہ بے چارے کسی سازش کے آلہ کار بن رہے ہیں تو یہ پوری قوم کے لئے بد قسمتی سے کم نہ ہو گا۔اس حوالے سے بہت راز رفتہ رفتہ طشت از بام ہونگے تاہم عاقل کے لئے اشارہ ہی کافی ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں  دنیا کی سب سے بلند عمارت برج الخلیفہ بھی یوم پاکستان کے موقع پر سبز ہلالی پرچم سے منور

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker