تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

انقلابِ مصطفٰے ﷺ

hakeem karamatآج سے چودہ سو سال قبل سر زمینِ عرب کی حالت ہر لحاظ سے انتہائی خراب تھی۔تہذیب و تمدن نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔لوگ قبیلوں میں بٹے ہوئے۔کسی بڑے چھوٹے کا کوئی لحاظ و مقام نہ تھا ۔جو طاقتور ہوتا وہ ہی سردار ہوتا ۔جو کمزور ہوتا وہ غلام ہوتا۔لڑائی جھگڑوں کا بازار ہر وقت گرم رہتا لوٹ مار زنا نا انصافی کا دور دورہ تھا ۔عورتوں سے جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا تھا ۔غلاموں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جاتا۔مختصر یہ کہ ہر لحاظ سے ہی یہ بگڑے ہوئے لوگ تھے۔جہالت کی تاریکیوں میں عرب کا علاقہ ڈوباہوا تھا ۔
اسی تاریکی و جہالت میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے مقدر جاگے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی۔اور اسی بابرکت ماہ ربیع الاول میں بعض روایات کے مطابق 9 تاریخ اور بعض روایات کے مطابق12 کو سوموار کے دن آفتاب و ماہتاب ہدایت اس کائنات میں تشریف لائے قیصر و کسرا کے محلات میں زلزلے آئے۔اسی دن سے ایک پر امن بھائی چارے اور خلوص والا انقلاب شروع ہو گیا ۔یہ کیسا با برکت انقلاب تھا کہ ایک دوسرے کی جانوں کے دشمن ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے لگے ایک دوسرے کے جان نثار بن گے۔مگر اس انقلاب کو لانے کے لیے کوئی لانگ مارچ نہیں کیا گیا ۔کوئی ریلی نہیں نکالی گئی۔یہ سارا انقلاب اخلاق خلوص پیار محبت اور اعلیٰ کردار کی بدولت ممکن ہوا ۔قبل از نبوت ہی آپ کی زندگی اس قدر پاک اور ہر عیب سے صاف تھی کہ لوگ پکار اٹھے صادق اور امین نے نام سے ۔نوجوانی میں ہی آپﷺ اس قدر مقبول ہوگے کہ مکہ کے بڑے بڑے لوگ اپنے فیصلے کروانے کے لیے آپﷺکے پاس آنے لگے ۔اورآپﷺ حق اور باطل کو الگ الگ کر دیتے ۔اور لوگ باخوشی آپ کے فیصلے کو قبول کر لیتے۔جب حجر اسود کے نصب کرنے کا وقت آیا تو لوگوں میں اختلاف پیدا ہو گیا ۔آخر کار فیصلہ یہ ہوا کہ جو سب سے پہلے صبح حرم میں داخل ہو گا وہ ہی منصف ہو گا وہ ہی فیصلہ کرے گا ۔اگلے دن صبح صبح چاروں قبائل نے دیکھا کہ حرم میں سب سے پہلے آپ ﷺ موجود تھے ۔اور چاروں قبیلے بیک زبان پکار اُٹھے کہ صادق اور امین آگے ہیں ہم کو ان کا فیصلہ منظور ہے ۔آپﷺ نے ایک چادر منگوائی اور حجر اسود کو اس چادر پر رکھ دیا اور چاروں قبیلوں کے سرداروں سے کہا کہ ایک ایک کونہ اُٹھا لیں اور پھر ایسا ہی ہوا جب حجر اسود کو کعبہ کے نذدیک رکھا گیا تو آپﷺ نے اس کو اُٹھا کر خانہ کعبہ کے ساتھ نصب کر دیا تمام قبائل خوش ہو گے اور اور پر امن طریقے سے یہ کام سر انجام پا گیا ۔آپﷺ کے آ جانے سے تاریکیاں ختم ہو گی شمع ہدایت روشن ہو گی ۔آپﷺ کی شخصیت ہر لحاظ سے سب سے اعلیٰ اور عرفہ اور منفرد تھی ۔آپ جمال میں بھی سب سے اعلیٰ تھے آپ کمال میں بھی اعلیٰ حسب میں بھی اعلیٰ نصب میں بھی اعلیٰ ۔ صورت میں بھی اعلیٰ سیرت میں بھی اعلیٰ ۔ آپ کا لایا ہوا انقلاب آج بھی ساری دنیا کے سامنے ہے ۔مگر یہ انقلاب بغیر ریلی کے آیا اس انقلاب کو لانے کے لیے کوئی لانگ مارچ نہیں کی گی ۔
جب نبیﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو مدینہ میں ایک ایسا انقلاب آیا کہ دنیا ششدر رہ گی ۔مدینہ میں انصاریٰ اور مہاجرین بھائی بھائی بن گے صرف لسانی بھائی چارہ نہیں بلکہ عملی بھائی چارہ یہاں تک کہ انصاریٰ نے مہاجرین نے کو وراثت میں حصہ دار بنا لیا note

یہ بھی پڑھیں  وفاقی حکومت کا عید الفطر پر 5 چھٹیوں کا اعلان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker