تازہ ترینکالمملک ساجد اعوان

انصاف کب ملے گا؟

بروز اتوارمورخہ4/11/12کو میں نے روزنامہ ایکسپریس فیصل آباد اخبار میں ایک نوجوان کے ساتھ ہونے والی کہانی پڑھی جس کا عنوان تھا مجھے انصاف کب ملے گا ؟ یہ نوجوان کلر سیداں کا ہے اس نوجوان کی بکری چوری ہوتی ہے اور وہ مانی ٹریڈرزکے نام سے کاروبارکرتاہے اوروہاں چار نوجوان آکر اس کے باپ کو گولی مارکے ہلاک کردیتے ہیں اور وہ بیچارہ خودبھی گولی لگنے سے معذورہوجاتاہے اورایک بوڑھی ماں ہے جو ہر وقت روتی رہتی ہے اس نے کس کس سے انصاف نہیں مانگا پولیس والوں کو بھی4500روپے رشوت دے دی مگر انصاف نہیں ملا ہمارے معاشرے میں اس وقت نہ جانے کتنے انسان ہیں جن کے ساتھ ہونے والے ظلم کا ابھی تک کوئی انصاف نہیں ملا یہ پولیس اور عدالتیں بنانے کا مقصد کیاہے روزانہ اگر عدالتوں کا چکر لگایاجائے تو وہاں پر صرف اور صرف تاریخ ڈال دی جاتی ہے اورکوئی فیصلہ سنائی نہیں دیتا ہمیشہ غریب کے ساتھ ہی زیادتی ہوتی ہے قتل کرتاکوئی ہے اور سزا کسی اور کو ملتی ہے ہر طرف رشوت چوربازاری ہے غریب کے پاس روٹی کھانے کیلئے پیسے نہیں ہوتے اوراگر وہ بیچارہ کسی مسئلے میں پھنس جائے تو پھر رشوت دیئے بغیر اس کی کوئی بات بھی نہیں سنتا اور رشوت دینے کے باوجود کام نہیں ہوتا انصاف کسی کو ملا ہی کب ہے میں خود ایک ایسے کیس کا چشم دید گواہ ہوں جوکہ گزشتہ 25سال سے پیشیوں کی نظرتھا اور صرف ایک چھوٹی سی اراضی کا کیس تھا جس عورت کے حق میں فیصلہ ہوناتھا اس میں 25سال بیت گئے اور جب وہ اراضی اس عورت کے حق میں ہوگئی تو اس عورت کو مرے ہوئے بھی15سال کا عرصہ بیت چکاتھا کیا کیس ومقدمات صرف پیشیاں بھگتنے تک کیلئے ہیں عدالتوں کا کام تحفظ اور عدل وانصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے نہ کہ ذلیل کرنا۔ اب تو عدالتیں سیاسی ڈیرہ کی شکل اختیار کرچکی ہیں جس میں خود ہمارے سیاستدانوں کی پیشیاں اور پھر آگے تاریخ بڑھا کر عوام کی آنکھوں میں مٹی ڈال دی جاتی ہے ایسا کیوں ہوتاہے غریب آدمی کو انصاف کیوں نہیں ملتا اگر واقعی کسی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے توچیف جسٹس صاحب کو فائل بند کرکے غریب کو انصاف فراہم کردیناچاہیئے اورہماری پولیس کو پیسے کو اہمیت دینے کی بجائے اپنے فرائض خوش اسلوبی سے سرانجام دیناچاہیئے کیونکہ اگر ملک کی پولیس اور عدالتیں ٹھیک ہوں گی تو کبھی بھی جرم نہیں ہوگا اور اگر انصاف کا بول بالاہوگا تو ہر طرف امن ہوگا کیونکہ جب بڑے بڑے مجرموں کو سپورٹ ملتی ہے تو وہ کوئی بھی جرم کرنے سے باز نہیں آتے اور مانی ٹریڈرز جیسے کئی نوجوان انکے ظلم کا شکار بنتے ہیں ہمارے لیڈران کوبھی غریب عوام کا خیال کرناہوگا مانی ٹریڈرنے کئی بار اپنے حلقے کے لیڈران سے انصاف مانگا لیکن آج دن تک اسکا کسی نے ساتھ نہیں دیا حالانکہ ڈی پی اور کی کھلی کچہری میں بھی اس کی بات نہ سنی گئی میری تمام عہدیداران اور لیڈران سے درخواست ہے کہ اپنے فرائض خوش اسلوبی سے سرانجام دیں اور مانی ٹریڈرز جیسے نوجوان کو ظلم کا شکار بننے سے بچالیں ورنہ ہرفرد یہ سوچے گا کہ انصاف کب ملے گا؟

یہ بھی پڑھیں  تھرپارکر:چھاچھرو میں زہریلادودھ پینےسے 2بچے جاں بحق،بچی بے ہوش

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker