تازہ ترینطارق خان سواتیکالم

انصاف پریس کلب کی دیواروں سےنہیں ملتا۔۔۔؟

tariq sawatiانسان انصاف حاصل کرنے کے لئے کیا کیا جتن کرتا ہے۔ کبھی روڈز بلاک کر کے انصاف مانگتا ہے کبھی ظالموں کے پاؤں میں گر کر اور کبھی بھوک ہڑتال کے ذریعے انصاف کا متلاشی رہتا ہے۔ اور جب ہر طرف سے مایوس ہو جائے تو پھر اپنے اپنے شہر کے پریس کلب کی دیواروں سے انصاف مانگنے پہنچ جاتا ہے جہاں پر وہ مکمل ڈیرہ ڈال کر بیٹھ جاتا ہے یہ سوچ کر کہ یہاں پر آئے روز کوئی نہ کوئی حکمران آتا ہی رہتا ہے جو ہماری بے بسی دیکھ کر شائد ہم پر ترس کھا لے اور ان طاقتوں سے جا کر ہمارے متعلق بات ضرور کرے گاجو ادارے انصاف دیتے ہیں مگر ان نادانوں کو کیا معلوم کہ جو لوگ ان پریس کلبوں میں آتے ہیں وہ تو صرف خود نمائی کے لیے ہی آتے ہیں جو آپ کو دیکھتے بھی ہیں سنتے بھی ہیں مگر کوئی ایکشن اسلئے بھی نہیں لیتے کہ شائد ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں ارشاد فرمایا ہے (ترجمہ) اور ہم نے ان کے دلوں پر کانوں پر ، آنکھوں پر مہریں لگا دی ہیں جو نہ تو سوچ سکتے ہیں نہ محسوس کر سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں ، نہ سن سکتے ہیں اور نہ بول سکتے ہیں۔ یہ باتیں ایسے مظلوم کیوں نہیں سمجھ سکتے کہ بجائے ایسے گونگے بہروں سے انصاف مانگنے کے اپنے اس مالک سے کیوں نہیں رجوع کرتے جو سنتا بھی ہے اور انصاف بھی کرتا ہے۔ چند روز قبل پریس کلب اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا جہاں ہر طرف متاثرین کے کیمپ دیکھنے کو ملے جو کئی عرصے سے اس پریس کلب کی بیرونی دیوارکے ساتھ انصاف کی طلب میں ڈیرے جمائے بیٹھے ہیں جن سے بات چیت کرنے کے متعلق سوچا کہ چلو ان سے ان کی پریشانیاں دریافت ہی کر لیں باوجود اس کے کہ ہمارے پاس نہ کوئی اختیار ہے اور نہ ہی دولت یا طاقت جس کے بل بوتے پر ہم ان کے آنسو پونچھ سکیں مگر صرف یہ سوچ کر کہ چلو ہمارے پاس قلم تو ہے جس سے ان متاثرین کی پریشانیاں متعلقہ اداروں کے ساتھ ساتھ عوام الناس تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔قلم تو سب کے پاس ہے مگر اس کا استعمال کون کس طرح کرتا ہے یہ صرف خدا ہی جانتا ہے۔ کون دولت کے لئے کون طاقت کے لئے اور کون صرف شہرت کے لئے استعمال کرتا ہے۔ اس کا فیصلہ کرنا ہمارے اختیار میں نہیں کیونکہ اللہ پاک ایسے لوگوں کو کھلی ڈھیل دیتا ہے جو قلم کار ایسے ایسے مظالم دیکھتے ہوئے بھی اپنی قلم کو حرکت میں نہیں لاتے مگر راقم نے تو پوری کوشش کی ہے کہ ان ظلم کی چکی میں پس جانے والے مظلوموں کا حال کم از کم اپنے ان دوستوں تک ضرور پہنچا کر اپنا حق تو ادا کر دوں۔ یوں سب سے پہلے متاثرین کو یت کے کیمپ میں جانے کا اتفاق ہوا جن مظلوموں کے متعلق معلوم ہوا کہ یہ لوگ کویت کی جنگ میں کویت بدر ہوئے تھے جنہیں اقوام متحدہ کے فیصلے کے مطابق معاوضہ ملنا تھا مگر انہیں آج تک نہ مل سکا۔ جو لوگ تیز تراز تھے وہ تو اپنا حصہ وصول کر چکے مگر کچھ سادہ لوح اور لا علم لوگ بروقت اپنے کلیم داخل نہ کروا سکے جو آج تک اسی انتظار میں اسلام آباد پریس کلب کی دیوار کے سائے میں احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے ہیں کہ شائد ان کی کوئی شنوائی ہو سکے۔ ان میں سے چند لوگوں نے یہ بھی گلہ کیا کہ ہمارے اس مسئلے پر جناب چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے سو موٹو نوٹس بھی لیا مگر وہ بھی سرد خانے کی نظر ہو گیا جہاں پر بڑے بڑے مقدمات چل رہے ہیں جن میں این آر او، میمو سکینڈل، ملک ریاض، توقیر صادق جیسے مقدمات وہاں پر ہماری کیا حیثیت ہے۔ ایسے میں راقم نے بھی انہیں یہ یاد دلایا کہ آپ ہی صرف کویت متاثرین نہیں اور بھی ہزاروں لوگ ہیں جو یہاں تک پہنچ نہیں پائے۔ ثبوت کے طور پر عرض ہے کہ راقم کا سگا بھائی حاجی محمد اشرف بھی آپ کی اس صف میں شامل ہے جو ذہنی توازن کھو جانے کی وجہ سے اس دوڑ میں شامل نہ ہو سکا باوجود اس کے کہ وہ بطور ٹیلر ماسٹر بڑے بڑے طاقتور اور مشہور و معروف لوگوں کے پاس کام کر چکا ہے جن میں مرحوم مولانا کوثر نیازی، مرحوم حفیظ پیرزادہ، عمر اصغر خان اور وفاقی محتسب جناب سلمان فاروقی کے علاوہ بڑے بڑے جرنیلوں اور جج صاحبان کے لباس بھی تیار کرتا رہا ہے مگر یہ بدقسمتی کہ وہ بھی آج اس معاوضہ ملنے کی انتظار میں بیٹھا ہے۔ اس کیمپ سے ذرا سا آگے چند لوگ، خواتین اور معصوم بچے جو رو رہے تھے شائد بھوک اور سردی کی وجہ سے ، معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ضلع دادو کے کسی بڑے جاگیردار نے اس خاندان کو جو بیس افراد پر مشتمل ہے کی ستر ایکڑ اراضی پر قبضہ کر کے زبردستی مار پیٹ کر ان کو علاقہ بدر کر دیا ہے۔ اب یہ لوگ اسی اسلام آباد پریس کلب کی دیوار کے ساتھ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ شائد کبھی نہ کبھی ہمیں بھی انصاف مل ہی جائے۔ جب ان سے دریافت کیا کہ آپ کے کھانے پینے کا بھی کوئی بندوبست ہے یا پھر یونہی بھوکے رہتے ہیں جس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اللہ کسی نہ کسی بہانے رزق پہنچا ہی رہا ہے۔ مگر یہاں بھی انہوں نے یک زباں ہو کر ایک ہی گلہ کیا کہ چونکہ یہاں لوگ آتے جاتے ہی رہتے ہیں جن میں ایک روز عمران خان آیا جس نے ہماری کہانی سننے کے بعد ایک ٹائم کا کھانا دینے کا وعدہ کیا جو ایک ماہ تک ملتا رہا مگر بدقسمتی ہماری ہی تھی کہ ایک روز جیو ٹی وی کا اینکر حامد میر یہاں آیا ہمارے دکھ سننے کے لئے جس انٹرویو میں ہم یہ بات بھول گئے کہ عمران خان نے ایک وقت کا کھانادے رہا ہے۔ بس وہ اپنی تعریف نہ سن کر غصے میں آگیا اور ہمارا کھانا بند کر دیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جو اللہ ساری عمر اپنی مخلوق کو رزق عطا فرماتا ہے جو لوگ اس کی بڑائی بیان کرتے ہیں اور جو اس کے نافرمان ہیں وہ تو ان سے بھی رزق کے معاملے میں ناراض نہیں ہوتا مگر یہ کیسے انسان ہیں اس کے جو صرف اپنی مشہوری نہ کرنے پر ناراض ہو کر کسی کا رزق بند کر دیتے ہیں۔ بس اس بات کو سمجھانے کے لیے آج قلم کو تکلیف دی ہے کہ انسان تو وہ ہے جو دوسروں کے دکھ درد کو بغیر کسی لالچ کے حل کرے اور اگر انہیں حل کرنے کی طاقت نہ ہو تو کم از کم ایسے لوگوں کی دل آزاری کا سبب بھی نہ بنے۔ اس میں تو کوئی شک والی بات نہیں کہ ہمارے اس پیارے ملک پاکستان میں آج تک کسی غریب اور کمزور مظلوم کو انصاف ملا ہی نہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں ملتا نظرآ رہا ہے۔ یہ کہانی ان چند لوگوں کی نہیں بلکہ پورا ملک آج ایک اضطراب کا شکار ہے اور انصاف کا طالب ہے۔ اگر واقعی اس قوم پر کچھ مہربانی کرنی ہے تو پھر پہلے کمزور اور غریب اور لاچار لوگوں کو انصاف دو پھر دیکھو نظام کس طرح درست ہوتا ہے۔ بقول شاعر!
منصف ہو تو حشر برپا کر کیوں نہیں دیتے مر جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

یہ بھی پڑھیں  کراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ، دو ڈاکو ہلاک

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker