تازہ ترینطارق خان سواتیکالم

انسانی درندگی کو کیسے روکا جائے

Taraiq Swatiآج کے مادہ پرستی دور میں جہاں لوگ صرف دولت ،شہرت اور طاقت کے نشے میں انسانیت اور اپنے محسنوں کو بھول ہی گئے ہیں مگر کچھ اقبال کے شاہین آج بھی ان کی یاداور انسانیت کی بھلائی میں سرگرم ہیں جن میں خاص کر مسلم انسٹی ٹیوٹ کے چےئرمین جناب سلطان احمد علی جنہوں نے یاد اقبال کے لیے ایک ادارہ مسلم انسٹی ٹیوٹ کے نام سے بنایااور اس نیک مقصد میں بہت سارے دیگر افراد کو بھی شامل کیا جس سے ان کی روزی بھی چل رہی ہے اور یاد اقبال سے متعلق کام بھی زور و شور سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں اس مرد مجاہد نے کچھ پروگرام بھی ترتیب دیے جن میں سے ایک پروگرام اسلام آباد ہوٹل میں اقبالیات ویژن کے عنوان سے ترتیب دیا جس پروگرام میں ملک بھر سے نامور سکالرز اور حکمران طبقے نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا اور اس ادارے کے ساتھ مکمل تعان کا یقین بھی دلایا جہاں پر راقم کو بھی جانے کا موقع ملا۔ اس تقریب کے شرکاء کوکچھ کتابیں بھی دی گئیں جن میں ایک چھوٹی سی کتاب Openion Pieceکے نام سے بھی تھی جس کا عنوان ہے انسانی درندگی کو کیسے روکا جائے؟۔ راقم نے یہ سوچ کر کہ اس چھوٹی سی کتاب کو تو چند لوگوں نے ہی پڑھا ہو گا جن کے ہاتھ میں آئی یا پھر کچھ نے حسب روایت جا کر گھر میں دوسری کتابوں کے ساتھ رکھ دیا ہو گا تو کیوں نہ اسے ایک کالم کی شکل دے کر کافی سارے اخبارات میں چھاپا جائے تا کہ اس نادر کتاب اور اس کے مصنف کے خیالات زیادہ سے زیادہ لوگ پڑ ھ کر اپنی عاقبت سنوار سکیں اور مصنف اور خاکسار کے لیے دعائے خیر بھی کر سکیں ۔ اس کتاب سے اقتباسات حاضر خدمت ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
’’ اس میں شبہ نہیں کہ اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود دنیا کی مظلوم ترین ہستی انسان ہی ہے۔ فی زمانہ اگر کسی جنس کے سر پر منڈلاتے خطرات مسلسل تجاوز پذیر ہیں تو وہ بھی انسان ہی ہے اس کواپنے سے کسی خارجی جنس سے خطرہ نہیں بلکہ یہ خود انسان ہی کی درندگی کا شکار ہوتا آیا ہے اور ہونے جا رہا ہے جس طرح رومی کہتے ہیں!
دی شیخ باچراغ ہمی گشت گردِ شہر
کزدیوودَذ ملولم و انسام آرزوست
اگر چوپایہ درندگی کرنے لگے تو اسے روکنے اور اس سے محفوظ رہنے کے لئے ہتھیار ، آگ اور مختلف طریقہ ہا ڈھونڈے جا سکتے ہیں لیکن جب مخلوقات پر افضلیت کا تاج سر پہ سجائے خود انسان ہی درندگی پر مائل ہو تو سیٹلائٹ و یپانائزیشن اور نیو کلےئر یا دیگر طریقہ ہا اس کی درندگی کا مستقل تدارک نہیں اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی داخلی سطح پر تربیت کا اہتمام کر کے اس کی درندگی کو کچلا جائے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ درندگانہ عمل کیوں کر رہا ہے؟ تو اس کا جواب نفسیات کے اس محاورہ سے ملتا ہے کہ اعضاخواہش کے تابع ہیں نہ کہ خواہش اعضا کے تابع ہے۔ گویا اعضا کی شگفتگی یا درندگی دراصل انسان کے اندر کی شگفتگی یا درندگی کو ظاہر کرتی ہے جب انسان کا باطن شگفتگی سے بے بہرہ و محروم ہو جائے تو اس کی متضاد صفت وہاں اپنا رسوخ قائم کر لیتی ہے جو اس کی عقل اور خواہش کے راستے اس کے اعضا کو اپنے تسلط میں لا کر پتھرا دیتی ہے اور یوں اس کے من کی ویرانی دنیا کو اپنی طرح ویران کرنے پر اکساتی ہے جس کے نتیجے میں انسان اپنی ہی جنس کے خون کا پیاسا ہو جاتا ہے اور قومیت اور لسانیت اور علاقائیت کے ساتھ ساتھ مسلک و نسل کے نام پر مختلف من گھڑت جھگڑے کھڑے کر کے خون آدم کی حرمت کو خاک میں ملا دیتا ہے ۔
لیکن!
اگر انسان اپنے من میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو وہ اپنے اندر کی وسیع کا ئنات کی حقیقت کو پالیتا ہے اور یہ جان لیتا ہے کہ اس کا تقدس اور حرمت اس کے مادی وجود سے نہیں بلکہ اس کے اندر پوشیدہ اس نوری جوہر سے ہے جسے قرآن نے ’’ و نفخت فیہ من الروحی‘‘ کے فرمان میں بیان کیا ہے۔ انسانی وجود کی اسی اٹل حقیقت کے پیش نظر جمیع صوفیا کا پسندیدہ موضوع مطالعہ بذات خود انسان ہی رہا ہے۔ اسی لئے زیادہ تر صوفیانے انسان کو باہر سنوارنے ، سدھارنے ، پڑھانے اور توانا رکھنے کے ساتھ ساتھ باطن کو آباد رکھنے یعنی روح کو بیدار کرنے کی تلقین فرمائی جس طرح سلطان باھو اپنے معروف ابیات میں فرماتے ہیں’’دل کالے تو منہ کالا چنگا جے کوئی اس نوں جانے ھُو‘‘۔ یہ وہ فکر ہے جس کا پرچار صوفیا نے کیا اور اسی فکر کے پرچار کی ضررورت ہے باالخصوص موجود ہ عہد میں۔ کیونکہ انسانی وحشت درندگی کی حد تک خوفناک ہو گئی ہے اور عدم برداشت نے ہماری تمام معاشرتی و مذہبی اقدار کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے جبکہ صوفی یہ پیغام دیتا ہے کہ پہلے اپنا احتساب کرو پھر کسی اور جانب متوجہ ہوں باالخصوص مذہبی فروعی اختلافات میں۔ مثلاََ میرے دادا حضرت سلطان محمد عبدالعزیز (حضرت سلطان باھُو کی آٹھویں پشت) کی خدمت میں ایک عالم دین حاضر ہوئے اور انہوں نے سوال کیا کہ ’’ آپ کی رائے میں حضرت علی کا مؤقف درست تھا یا امیر معاویہ حق پر تھے؟ آپ نے جواباََاستفسار کیا کہ مولانا صاحب قبر میں آپ نے کس کا جواب دینا ہے‘‘تو مولانا نے کہا کہ’’ قبر میں تو میں نے اپنا جواب دینا ہے‘‘ آپ نے فرمایا’’ تو کسی اور کی بجائے اپنی فکر کیجئے‘‘۔صوفیا کے نزدیک دنیا کی تمام وحشت اور دہشت روح کے اس بے خبری سے جنم لیتی ہے جس میں متعدد صوفیا نے سرِ فہرست واقعہ ابلیس کے انکار آدم کا رکھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ میرے نائب کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوائے تمام ملائکہ نے سجد ہ کیا ابلیس نے یہ عذر پیش کیا کہ یہ مٹی سے بنا ہے اور میں آگ سے بنا ہوں۔ لہٰذا میں اس سے بہتر ہوں۔ ابلیس کی نگاہ آدم کے ظاہری خاکی وجود پر ہی اٹک گئی وہ اُس کے نوری وجود یعنی روح سے غافل رہا جس سے اس میں تکبر اور نافرمانی پیدا ہوئی۔ اگر انسان کو من کی حقیقت تک رسائی ہو جائے تو تمام جھگڑے خود بخود مٹ جاتے ہیں کیونکہ انسان کا شعور اسے یہ تفہیم عطا کر دیتا ہے کہ تجھے دنیا میں ’’تسخیر کنندہ پست و بالا‘‘ کا منصب اعلیٰ کیوں نصیب ہے۔ اس نکتہ نظر کی تسہیل کے لئے چند حوالے ملاحظہ ہوں۔
آیت: و نحن اقرب الیہ من حبل الورید (ق۔۱۶)
ترجمہ: اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
حدیث قدسی: لا یسعنی ارضی ولا سمانی ولکن یسعنی قلب عبدی المومن (مرفاۃ المفاتیح۔ کتاب الرفاق)۔
ترجمہ: میں نہ تو زمین میں سماتا ہوں اور نہ ہی آسمانوں میں بلکہ صرف بندہ مومن کے دل میں سماتا ہوں۔
حدیث : قلب المومن عرش اللہ تعالیٰ (مرقدۃ المفاتیح۔ کتاب الایمان)
ترجمہ: مومن کا دل اللہ تعالیٰ کا عرش ہے۔
انسان کو جب یہ ادراک نصیب ہوجاتا ہے کہ میرے تحریم میرے باطن میں جلوہ گر ہستی کی وجہ سے ہے تو اسے اپنے سامنے بیٹھا ہر انسان اس مکین کا مکان نظر آتا ہے کہ جس طرح میرے باطن میں لا محدودلا فانی کا جلوہ ہے میر ے سامنے والا انسان بھی اسی شرف سے نوازا گیا ہے۔ اسے اس تمثیل سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جس مکان میں میں موجود ہوں اگر اس مکان پر کوئی گل پاشی کر رہا ہے تو کیا اس گل پاشی کا اطلاق اس مکان کے درو دیوار پر ہے یا مجھ پر؟ اگر اس مکان پر کوئی دشنام طرازی کرتا ہے تو کیا اس دشنام طرازی کا مخاطب مکان کے سنگ و خشت ہیں یا میں؟ اس مادی مثال کو اس روحانی کائنات میں جا کر منطبق کریں کہ جب کسی انسان کو فروعی عناد کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے اس کے چیتھڑے آڑا دئیے جائیں یا اس کے خون سے ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لئے کھیلا جائے کیا یہ وجودانسان کے گوشت پوست کی توہین ہے یا قلب انسانی کے مکین کی توہین ہے؟ اس فکر کو اپنے اندر اجاگر کرنے کو قرآن نے ’’تزکیہ‘‘ کی اصطلاح دی ہے جسے تابعین نے ’’تصوف ‘‘ کہا ہے اور عہد جدید میں اسے ’’صوفی ازم‘‘ کہا جاتا ہے۔
علامہ اقبال کے نزدیک اگر تزکیہ یعنی روح کو بیدار کرنے میں انسان کامیاب ہو جائے تو وہ اپنی زندگی کو امن، مسرتوں اور شادمانیوں سے آباد کر لیتا ہے لیکن اگر وہ روح کو فقط ایک تصوراتی چیز سمجھ کر اپنے حیواتی حواس سے ہی معرکے سر کرتا رہے تو حضرت ابراہیم کی دعائے امن کی عملی تعبیر ممکن نہیں رہتی۔
’’انسان میں یہ صلاحیت ودیعت ہے کہ وہ اپنے گردو پیش میں متوجہ کرنے والی چیزوں کو نئی صورت میں اور نئی سمت دے سکتا ہے۔ اور جہاں اسے رکاوٹ کا سامنا ہو تو اسے یہ قوت حاصل ہے کہ وہ اپنی ہستی کے اندرون میں زیادہ بڑی دنیا بسا لے جہاں اس کے لئے بے پناہ مسرت اور تحریک کے سرچشمے موجود ہیں۔ گلاب کی پتی سے بھی نازک تر اس وجود کی زندگی مصائب سے بھری پڑی ہے۔ اس کے باوجود بھی حقیقت کی کوئی صورت روح انسانی سے زیادہ با قوت ، خیال افروز اور حسین نہیں ہے۔۔۔ اگر انسان اپنی ذات کے چھپے ہوئے جوہر کو فروغ نہیں دیتا۔ اگر وہ نمو پذیر زندگی کے لئے اپنے اندر کوئی تحریک نہیں پاتا تو اس کی روح پتھر کی طرح سخت ہو جاتی ہے اور انسان خود کو بے جان مادے کی سطح پر لے آتا ہے۔ لہٰذا اس کی زندگی اور اس کی روح کی بالیدگی کا مدار حقیقت سے رابطے پر ہے‘‘۔ (تجدید فکریات اسلام، علم اور مذہبی مشاہدہ)۔

یہ بھی پڑھیں  بہاولنگر:گرم موسم میں لوڈ شیڈنگ کا توڑکرتے ہوئے نہروں اورتلابوں کا رخ کر لیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker