ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

انسانی حقوق کا عالمی دن مگر حقوق ہیں کدھر؟

aqeeانسان اشرف المخلوقات ہے۔انسان زمین پر خدا کاخلیفہ ہے۔ انسان کو آدم کی مناسبت سے اردو عربی اور فارسی میں آدمی بھی کہا جاتا ہے اور اس کے لیے بشر کا لفظ بھی مستعمل ہے۔ آدمی اور بشر کی طرح انسان کا لفظ بھی اردو میں عربی زبان سے آیا ہے ۔ قرآن میں ارشاد ہے ’’اور جب تیرے رب نے انسان کو پیدا کرنا چاہا تو فرشتوں کو آگاہ کیا فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں اس کو پیدا کرے گا جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا؟ اللہ نے فرمایا: بے شک مجھے وہ معلوم ہے جو تم نہیں جانتے‘‘۔انسان کو دنیا میں لانے کا مقصد اللہ سے بہتر کوئی نہیں جانتا اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں مگر آج جو کچھ اس زمین پر انسان انسان کے ساتھ کررہا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ آج ایک انسان دوسرے انسان کا دشمن بنا ہوا ہے۔ رشتے دار، عزیز و اقارب میں حسن سلوک نہیں پایا جاتا۔ایک دوسرے کو نقصان پہچانے کے در پر تُلے ہوئے ہیں۔ بھائی بھائی کادشمن بنا ہواہے۔کیا آج کے دور میں انسانیت بلکل ختم ہوچکی ہے۔
1950سے ہر سال 10 دسمبر کودنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ بھی ہے کہ ایک انسان کے ہاتھوں دوسرے انسان پر ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف آوازاٹھائی جاسکے ۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے چارٹر اور قرارداد کی رو سے دنیا بھر کے انسانوں کو ہر طرح کے حقوق حاصل ہیں۔ جن میں جینے کا حق، برابری کا حق، اظہار رائے کی آزادی، معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق ، روزگار، سماجی تحفظ، تعلیم، صحت، حق خودارادیت اور دیگر حقوق شامل ہیں۔اس وقت بھی دنیا کے کئی ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال تسلی بہت خراب ہے ۔ان ممالک میں سب سے زیادہ متاثر مسلم ممالک ہیں۔ بھارت، صومالیہ، افغانستان، فلسطین اورکئی دیگر ممالک شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور انسانی حقوق کے چارٹر پر دستخط کرنے والے ممالک پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو یہ تمام حقوق نہ صرف فراہم کریں بلکہ انہیں مقدم جانیں۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ متعلقہ ملک اس چارٹر پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کررہا اور ایسے ممالک کے بارے میں وقتاً فوقتاً جاری ہونے والی رپورٹس جا ئزوں اور تجزیوں میں اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے ۔یہ الگ بات ہے کی ان پر تنقید کا اثر نہیں ہوتا کیونکہ صرف زبانی کلامی باتوں سے لاتوں کے بھوت نہیں مانتے۔
انسان کو اپنی مرضی سے سوچنے اور اس کا اظہار کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے یا ہونی چاہئے ،اس بات کا چرچا آج کل دنیا بھر میں زوروشور سے جاری ہے، مہذب معاشروں میں اس بات کی نہ صرف پرچار کی جاتی ہے بلکہ بچوں کی اس حوالے سے باقاعدہ تعلیم اور تربیت فراہم کی جاتی ہے،کیوں کہ انسان کو یہ آزادی فطرت کی طرف سے ملی ہوتی ہے اور دنیا بھر کے مروجہ قوانین، کنونشنز اور آ ئین بھی اسے اس بات کا حق فراہم کرتے ہیں ۔
یہی نہیں ہمارا مذہب اسلام انسانی حقوق کاسب سے بڑا علمبردار ہے۔ اسلام نے ہی سب کے حقوق اجاگر کیے ہیں۔اسلام نے ہی سب سے پہلے عورت کو حقوق دیے ورنہ اسلام سے قبل لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ماں باپ ، بہن بھائی، دوست ، رشتے دار، ہمسائے، بڑے چھوٹے سب کے حقوق کا اسلام میں واضح درس ملتا ہے ۔اسلام میں انسانی حقوق کی بنیاد توحیدی فکر و سوچ پر استوار ہے ۔ اسلام انسانی حقوق کو انسانی عزت و کرامت کا لازمہ سمجھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے بنی آدم کو کرامت عطا کی ہے اور انہیں خشکی اور دریاؤں میں سواریوں پر اٹھایا ہے اور انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا ہے اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سوں پر فضیلت دی ہے۔
جواصول جو آج مغربی انسانی حقوق کے ارکان کو تشکیل دیتے ہیں، اسلام کے بنیادی اصول ہیں۔ دین اسلام کا ظہور دنیا میں امتیاز اور تسلط کی نفی سے شروع ہوا ۔اللہ کے پیغمبروں نے انسانوں کے حقوق کو پورا کرنے اور معاشروں میں امن و انصاف قائم کرنے کے لیے کوششیں کیں۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ اقوام متحدہ جو تمام ملکوں کوایک ساتھ لیکر چلنے کا دعویدار بنتا ہے آج وہ بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آنکھیں بند کرکے بیٹھا ہوا ہے؟ کشمیر میں بھارت کی قتل وغارت،فلسطین میں اسرائیلیوں کا ظلم و ستم کیا وہاں کے انسانوں کو کوئی حقوق حاصل نہیں۔ کیا وہ انسان انسان نہیں؟ آج جہاں جہاں مسلمانوں پر ظلم و ستم ہورہا ہے یو این او(اقوام متحدہ) ان ممالک کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کررہی۔ غیر مسلموں پر تھوڑا سا برا وقت آئے تو یواین او کی فورس تک میدان میں آجاتی ہے ۔کیا مسلمان انسان نہیںیا غیر مسلم انسان ہیں ؟ کیا اسی لیے اقوام متحدہ بنایا گیا تھا؟ اقوام متحدہ میں مسلم اور غیر مسلم سب ریاستوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں پھر مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کیوں؟اگراقوام متحدہ انسانی حقوق کا علمبردار بنتا ہے تو پھر کشمیر کے مسئلے پر آج تک اپنی قراردادوں پر عمل کیوں نہیں کرایا؟فلسطین میں کیوں دوسرے دن ظلم وستم ہورہا ہے؟
مسلمانوں کو سوچنا ہوگاکہ یہ اقوام متحدہ کیا مسلمانوں کے ساتھ ٹھیک کررہا ہے؟ ہر سال تمام مسلم ممالک کے سربراہان جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے تو پہنچ جاتے ہیں مگر کبھی انہوں نے اکٹھے ہوکر مسلمانوں کے حقوق کے لیے اقوام متحدہ کو مجبور کیا کہ وہ مسلمانوں کو ان کا حق دلوائیں۔آج کے دن پوری دنیا میں انسانی حقوق پر سیمینار ، ریلیاں اور کنونشن ہونگے مگر یہ صرف میڈیا کے حدتک ۔ غریب آج بھی امیر سے اپنا حق مانگ رہا ہے۔ عوام اپنے حکمرانوں سے اپنا حق مانگ رہی ہے۔ ایک ملک دوسرے ملک سے اپنا حق مانگ رہا ہے۔ سب اسی طرح دنیا میں مانگتے مانگتے ایک دن اس دنیاکو چھوڑ کر چلے جائیں گے ۔ حقوق کی جنگ ایسے ہی جاری رہیگے۔ کوئی کسی کو کچھ نہیں دیگا اگر دینے والا ہے تو وہ صرف اللہ کی ذات ہے ۔ جس نے اللہ کو پالیا وہ تمام انسانیت کا حق دے گا۔ جو حاکم اللہ کے تابع ہوگیا وہ کبھی کسی دوسرے ملک کا حق نہیں مارے گا۔آئیے آج عہد کریں کہ ہم کسی انسان کے ساتھ زیادتی نہیں کریں گے ۔ہم ایک دوسرے کی حق تلفی نہیں کریں گے بلکہ اپنے حق کے لیے اپنے رب کی مہربانی سے ظالم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنیں گے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button