اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

انسانی حرمت کا عالمی دن اور بد بخت انسانیت !

اقوام متحدہ نے10دسمبر1948کو دنیا بھر کے انسانوں کے لئے انسانی حرمت کو یکساں طور پر ضروری قرار دیا۔دنیا بھر کے انسانوں کے لئے ایک ہی معیار کے مطابق انسانی حرمت کی تقدیس کا سفر جاری ہے  لیکن بدقسمتی سے سفر جاری ہونے کے باوجود اس مقصد کے حصول میں پیش رفت ہوتی نظر نہیں آتی۔دنیا کے اکثر ممالک میں مذہب،رنگ و نسل ،زبان کی بنیاد پر انسانوں کو حقارت،تعصب اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا تاہے۔انسانی حرمت کی تقدیس کے عالمی منشور کے مطابق انسان آزاد پیدا ہوتا ہے اور برابر کے احترام اور حقوق کا مستحق ہے،ہر ایک کو زندہ رہنے کا حق ہے،کوئی شخص بھی تشدد ،ظلم،غیر انسانی اور نچلے درجے کے سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا،کسی کو بھی صوابدیدی حراست،قیدیا جلاوطنی کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا،عوام کی مرضی حکومت کی اتھارٹی کی بنیاد ہو گی،جہاں یہ ضروری ہو کہ اگر انسانوں کو ذرائع میسر نہ ہوں ،ظلم وجبر کے خلاف آخری حربے پر مجبور ہوں تو بھی ان کے انسانی حقوق کو محفوظ بنانا لازم ہے۔
دنیا میں فلسطین اور کشمیر کی طرح کے کئی علاقے ہیں جہاں کے لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق تو دور ،ان کے حق آزادی کو بھی بندوق کی نوک پر مغلوب رکھا گیا ہے۔دہشت گردی کی جنگ کے نام پر مذہب ،نسل،علاقائیت کی بنیاد پر غیر انسانی سلوک کے مظالم قانونی حق کے طور پر زیر کار ہیں۔جنوبی ایشیا کی طرح کے پسماندہ،ترقی پزیر ممالک میں مضبوط طبقاتی بالادستی کے نظام کے ہوتے ہوئے انسانی حرمت کا تحفظ تو دور،اس سوچ سے بھی محرومی نظر آتی ہے۔اس اہم عالمی دن کے موقع پر یہ حقیقت بھی یاد رکھنی چاہئے کہ دنیا کا ہر مذہب اور فرقہ انسانی احترام کی بات کرتا ہے لیکن آج کی دنیا کے طاقتور نظام بھی برابری کی بنیاد پر انسانی حرمت کے لئے نقصانات اور بڑے خطرات کے موجب ہیں۔
ایک دوست دریافت کرنے لگا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب میں کشمیر کے حوالے سے کیا تقریر کی جائے؟دوست کو جواب دیا کہ کشمیر پر تقریر تو ایک مشترکہ ،آزمودہ فارمولہ ہے۔پہلے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی بات کرو،کشمیریوں پر ظلم کرنے والے بھارت کو برا بھلا کہو،عالمی برادری کی خاموشی کولتاڑو اور پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کی   ” بے مثال” مددو حمایت پر خراج تحسین پیش کرو،  ہو گئی کشمیر کاز پر ایک شاندار تقریر۔
آج کسی نامعلوم شخص کا ٹیلی فون آیا،تحکمانہ انداز میں کہنے لگے کہ تم کشمیر پر بہت لکھتے ہو،مجھے کشمیر پر کافی معلومات ہے،لیکن یہ سمجھ نہیں آیاکہ انڈیا پلیٹ مار کر کشمیریوں کو اندھا کیسے کر دیتا ہے؟میں نے عرض کی کہ جناب وہ پلیٹ نہیں پیلٹ گن کا تذکرہ ہے۔یہ پیلٹ گن بھی نہیں بلکہ چھروں والی شاٹ گن ہے جو کشمیری مظاہرین پر فائر کر کے اس کے چھروں سے شدیدزخمی،اندھا کیا جاتا ہے۔وہ صاحب برا مان گئے اور کہنے لگے کہ بڑے کشمیر کے چیمپئن بنتے ہو،اتنا بھی معلوم نہیں،میرے پاس پلیٹ ہی لکھا ہوا ہے۔میں نے پھر عرض کیا کہ جناب مجھ جیسے کم عقل سے کیوں پوچھتے ہیں،کسی ڈونگے یا چمچے سے ہی معلوم کر لیا ہوتا کہ انڈیا پلیٹ مار کر کشمیریوں کو اندھا کس طرح کر دیتا ہے۔
آخر میںانسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے کشمیر کے حوالے سے ایک معصوم سوال ،  بھارتی مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے کیا فرق ہے؟  عوامی جواب  ،  وہی جو زبر دستی رکھی گئی عورت اور ایک رکھیل میں فرق ہوتا ہے۔انسانی حقوق کے تحفظ کے عالمی دن کی مناسبت سے دنیا میں انسانی حقوق کی ابتر ترین صورتحال پر ابن انشاء کا یہ شعر یاد آ جاتا ہے ،
پھر  آنکھوں  میں  خواب  انشاء جی
اجتناب ، اجتناب،اجتناب  انشاء جی

یہ بھی پڑھیں  سنجھورو:کرپشن کےالزام میں فوڈانسپکٹر غلام سروربھٹوکوگرفتار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker