بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

انسانیت کی تلاش

bashir ahmad mirاللہ کاکرم وفضل رہاکہ عاشورۃ محرم الحرام گلگت بلتستان ،آزادکشمیر سمیت پورے ملک میں مجموعی طور پر پر امن،بہتر انتظامی کارکردگی اور بھائی چارے کی فضاء میں اختتام پذیر ہوا۔اسلام میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو مکمل آزادی اور اجازت ہے کہ وہ اپنے عقائد و رسومات کی بجاوری کریں جبکہ وطن عزیز کے دستور کے مطابق بھی ہر مذہب،مسلک ،فرقہ کو پوری آزادی ہے کہ وہ اپنے تہوار منا ئے اور حدو وقیود میں دعوت و تبلیغ کرئے۔فساد،شر ،قتل و غارت،بم دھماکے،خودکش حملے اور ٹارگٹ کلنگ جیسے انسانیت سوز اعمال باطن کی اسلام اجازت دیتا ہے اورنہ ہی اسلام سے ان اعمال شر کا ذرا سا تعلق ہے۔
کس کا کیا عقیدہ ہے اسے زیر بحث نہیں لائینگے،تاہم سانحہ کے مضمرات اور ہماری قومی ذمہ داری کے حوالے سے پند و نصائح کی حد تک بات بڑھاتے ہیں۔حدیث مبارکہ ہے جس کے حضرت ابن عباس راوی ہیںآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ پانچ گناہوں کے ہولناک انجام سے بچو،ایک۔۔جس قوم میں خیانت عام ہو جائے اس کے دل میں رعب ڈال دیا جاتا ہے،دو۔۔۔۔۔جس قوم میں زنا عام ہوجاتا ہے ان میں اموات کی کثرت واقع ہوتی ہے۔۔تین۔۔۔۔۔جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے ان کا رزق بند کردیا جاتا ہے۔چار۔۔۔۔۔جو قوم حق کیخلاف فیصلے کرتی ہے ، اس میں خونر یزی عام ہوتی ہے۔پانچ۔۔۔۔۔۔۔جو قوم عہد شکنی کرتی ہے اس پر دشمن کا تسلط قائم ہوجاتا ہے۔‘‘ ثابت ہوا کہ خیانت سے دوسروں کا رعب جمنا،زنا عام سے اموات کی کثرت ،ناپ تول میں کمی سے رزق بند ہونا ،حق کے خلاف فیصلے سے خون ریزی عام ،عہد شکنی سے دشمن کا تسلط قائم ہونا کھلی حقیقت ہے۔اب جائیزہ لیں ، خود احتساب کریں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کیا ہونا چاہئے۔۔۔؟؟؟ہماری بد نصیبی کی داستان غم ان خطرات سے دوچار ہے۔خیانت عام ہے جس کے سبب ہم ’’امریکیوں کے تھلے ‘‘لگے ہوئے ہیں،زنا عام ہے جس کی عام مثال سردیوں کے باوجود ڈینگی نے یلغار مچا رکھی ہے اور کئی امراض نے شرح اموات میں اضافہ کر رکھا ہے۔ناپ تول کی کمی سے رزق میں کمی صاف نظر آ رہی ہے۔ آئے روز خود ساختہ نرخوں میں اضافہ ،ذخیرہ اندوزی کی مثالیں کافی ہیں ،حق کی بات کہنے اور فیصلوں کو درست نہ کرنے کی سزا آج پورا ملک بھگت رہا ہے ہر طرف امن دشمنوں نے خونی جنگ شروع کر رکھی ہے۔عہد شکنی ہمارے رگ و پے میں رچی بسی ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن مسلط ہونے کی سازشوں میں لگا ہوا ہے۔
سانحہ راولپنڈی کے حوالے سے زیادہ الزام ڈی پی او،سی پی او ،آر پی او پر لگایا جاتا ہے،بلاشبہ ان کی کمانڈ میں ایسا واقع ہونا ان کی کارکردگی کے لئے سوالیہ نشان ہے۔۔۔؟؟؟جب عوام سے دور ،سٹیٹس کو لائف انجوائے کرنے صرف’’راجر‘‘ تک کمانڈ کرینگے تو یقیناًایسے حوادث ہونا بعید نہیں۔یہ راجر راجر کہتے رہے ادھر خون ناحق گرتا رہا۔۔۔!!!!پویس تو ہماری امن قائم کرنے میں ناکام نہ سہی مگر ان کا جوحشر دیکھا گیا ہے اس سے اس کا رول سامنے آ چکا ہے سچی بات کہوں تو ناراض نہ ہونا ، ڈبل تنخواہ کے باوجودآپ کی پولیس نوے فی صد رشوت خور ہے،پچاس فی صد سے زائد ڈرگ ایٹڈڈ ہو چکی ہے،پچانوے فی صد اہم شخصیات کی سیکیورٹی میں مگن ہیں۔تو پھر مٹھی بھر پولیس دستوں سے کس بات کی خیر مانگیں۔۔۔۔؟؟؟کم تعداد کے باوجود پولیس کے جوانو ں اور آفیسرز نے جان ہتھیلی پر رکھ کر بھر پور کردار ادا کرنے کی کوشش کی مگر بپھرا ہوا ہجوم ان درجن بھر جوانوں سے کب قابو آسکتا تھا،ڈیوٹی پر مامور پولیس کے دستوں کو سلام کہ انہوں نے حقیقی معنوں میں ’’حسینیت‘‘ کا علم بلند کرنے کی پوری جد وجہد کی۔اگر منصوبہ بندی کی گئی ہوتی تو ایسا سانحہ نہ ہوتا۔منصوبہ بندی کون کرتا۔۔؟؟؟ یہ کام پولیس کمانڈر اور انتظامی سر براہ کی ذمہ داری میں تھا اور ہے۔
اپنی خامیوں اور پولیس و انتظامیہ کی کمزوریوں کو ایک طرف رکھ کر سوچا جائے تو ہمارے علماء و ذاکرین کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مصلح کا مرتبہ رکھتے ہیں انہیں اپنی اصلاح کی ہوتی اور ان کے درس و تدریس میں اسوہ رسول ﷺ ترجیج ہوتی تو ہرگز یہ طوفان برپا نہ ہوتا۔آج کا مقرر جو کسی بھی فرقے سے ہو ننانوے فی صد ڈالر کے چکر میں الجھا ہوا ہے ایسی صورت میں نہ معاشرتی طور پر بہتری اور نہ ہی سماجی لحاظ سے اچھائی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ لڑائی جھگڑے اور فسادی عناصر کی تربیت گاہ ہرگز اسلامی مراکز نہیں،بلکہ اس سانحہ میں ملوث عناصر کی شناخت بھی مشکل نہیں کہ انتظامیہ آنکھیں موندلے ،اس سانحہ کے محرکین عام لوگ ہیں جو فطرتاً بد قماش اور عملاً بد کردار لوگوں سے ہیں۔ جنہوں نے سر عام گلے کاٹنے اور ظلم و بربریت کا یزیدی کردار ادا کیا انہیں کیا کہا جائے۔۔؟؟؟عام شہری تو اپنے دماغ کا کم ہی استعمال کرتے ہیں ورنہ تبدیلی نہ آتی۔۔۔!!!
راولپنڈی کے انیس تھانوں کی حدودمیں کرفیو تو لگا دیا مگر جب مشتعل کرفیو کو توڑ دیں تو پھر کیا ہو گا۔۔؟؟ْ اشتعال انگیز صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لئے ضروری ہے جس کے لئے ’’دیر آید درست اید‘‘ کے مصداق اب حکومت کو چند اقدامات کرنا ہونگے نمبر ۱۔۔زخمیوں کا علاج معالجہ مفت کیا جائے،شہداء کے لواحقین کو کم از کم بیس لاکھ روپے فی گھرانہ امداد کی دی جائے،زخمیوں کے لئے فوڈ سپلیمنٹ کے لئے پانچ لاکھ رکھا جائے ،سینکڑوں تجارتی حضرات متاثر ہوئے ہیں انہیں شفاف تحقیق کی روشنی میں نقصان کا پورا پورا معاوضہ دینے کا فوری اعلان کیا جائے نیز اس سانحہ کے ماسٹر مائنڈ اور سپورٹرز کی غیر جانبدارانہ تحقیق کی بنا پر انہیں عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔ سوشل میڈیا نے ہنگامہ آرائی کی فوٹیج ریلیز کی ہیں ان کی معاونت سے انتشار پسندوں کو گرفتار کیا جائے ۔جب ہم سزا و جزا کے فارمولے پر عمل نہیں کریں گے تب تک خون ریزی کم نہیں ہو سکے گی۔بلکہ یہ انتشار بری طرح ہمارے ملک کے لئے خوفناک ہو سکتا ہے۔اس سانحہ کے حوالے سے آئند ’’کریک ڈاؤن‘‘ پڑھنا نہ بھولیئے۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button