شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / انسانیت کا دوسرا نام وزیر اعظم جیسنڈاآرڈن

انسانیت کا دوسرا نام وزیر اعظم جیسنڈاآرڈن

جنوب مغربی بحر الکاہل کے جزیرہ نما ملک نیوزی لینڈ کے دارلحکومت کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں انتہائی سفاک ،زہریلے اور تعفن زدہ سوچ کے مالک سفید فام انتہا پسند جنونی کے ہاتھوں مسلمانوں کے لہو کا طوفان برپا ہوا تو دنیا بھر میں فضا سوگوار ہو گئی ،یہ اپنی نوعت کے اعتبار سے بہت المناک ،ہولناک ،خوفناک اور لرزہ خیز واقعہ تھا تھااس قیامت پر جہاں پوری مسلم امہ غم سے نڈھال تھی وہاں بیگانوں میں برابر کے شریک تھے صرف انڈیا وہ واحد بد بخت ملک ہے جس کے کچھ انتہا پسند ہندوؤں نے اس واقعہ پر خوشی کا اظہار کیا،چاروں طرف پانی سے گھرا نیوزی لینڈ انتہائی خوبصورت اور پر امن ملک ہے جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر جبکہ تعلیم ،صحت ،آزادی ،معاش جیسی بنیادی سہولیات کی فراوانی اور ماحولیاتی لحاط سے اس قدر پیارا کہ اسے رہنے کے لحاظ سے بہترین نیوزی لینڈ دنیا کا 8واں ملک ہے،2لاکھ 68ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل یہ ملک خوبصورت جھیلوں،پہاڑوں،چھوٹے چھوٹے جزیروں ،جنگلوں ،ساحلوں اورسر سبز و شاداب میدانی علاقوں،شاہراؤں،ریلوے اور فضائی نظام کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے ایک سائیڈ سے اس کی ساحلی پٹی 15ہزار کلومیٹر طویل ہے،،یہاں کے لوگ بہترین ماحول اور خوشحالی کی وجہ سے اوسط عمر80سے85 سال تک کے حامل ہیں جبکہ پاکستان جیسے ممالک میں اوسط عمر 50سال کے لگ بھگ ہے،کھیلوں اور سیاحت کی وجہ سے بھی یہ عالمی شہرت یافتہ ہے،وہاں کی سرکاری زبان انگریزی اور زیادہ تعداد میں عیسائی کمیونٹی رہتی ہے مسلمان کل آبادی کا صرف ایک فیصد ہیں ،کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرہ کا سب سے بڑا شہر ہے جس کی آباد ی تقر یباً4لاکھ جس میں 40ہزار کے قریب مسلمان آباد ہیں کرائسٹ چرچ میں مشہور شاہراہ لین ووڈ کے ساتھ ملحقہ مسجدالنور میں پہلے خون کی ہولی کھیلی گئی اس کے بعد چند کلومیٹر دور ڈینز ایو کے علاقہ میں دہشت گردی کا دوسرا واقعہ رونما ہوا ، یہ قیامت آنی تھی آ گئی مگر دکھ اور صدمے کی ان بد ترین گھڑیوں میں ایک کردار ایسا بھی سامنے آیا جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا کسی بھی غیر مسلم مملکت میں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ وہاں کے حکمران نے اس دکھ کو سب سے بڑھ کر اپنا دکھ سمجھا ہو ،نیوزی لینڈ کی خاتون وزیر اعظم کی سچی سوچ کی بدولت سارا نیوزی لینڈ یک زبان ہو گیا پورے نیوزی لینڈ میں انسانیت نظر آئی ،جیسنڈا آرڈن نے پورا وقت اس سانحہ سے متاثرین کے ساتھ گذارا،بر وقت ایسے اقدامات کئے جیسے اس کے اپنے افراد اس واقعہ میں درندگی کا شکار ہوئے ہوں وان کے چہرے سے غم کی شدت عیاں تھی ان کی آنکھیں ہر وقت نم نظر آئیں دہشت گردی کے بعد پارلیمنٹ کے اجلاس کی کاروائی کا آغاز مکمل طور پر معمول سے ہٹ کر تلاوت قرآن پاک سے ہوا ،خاتون وزیر اعظم نے اپنی تقریر کا آغازاسلام و علیکم سے کرتے ہوئے دنیا کو یقین دلایا کہ حملہ آور دہشت گرد کو نیوزی لینڈ کے قانون کی پوری قوت کا سامنا ہو گا انہوں نے عہد کیا کہ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں حملہ کرنے والے کا نام کبھی نہیں لیں گی حملہ آور کو دہشت گردانہ عمل سے بہت سی چیزیں مطلوب تھیں جن میں سے ایک شہرت بھی تھی اس لئے آپ مجھے کبھی اس کا نام لیتے نہیں سنیں گے وہ دہشت گرد ہے،وہ مجرم ہے وہ انتہا پسند ہے لیکن وہ ہمیشہ بے نام رہے گا، جیسنڈا آرڈن نیوزی لینڈ کی150سالہ تاریخ میں سب سے کم عمر رہنما ء اور تیسری خاتون اور مجموعی طور پر40ویں وزیر اعظم ہیں وہ ملک کی36اپوزیشن لیڈر اور 17ویں لیڈر آف دی لیبر پارٹی اور صدر انٹرنیشنل یونین آف دی سوشلسٹ یوتھ بھی رہیں، 37سالہ وزیر اعظم نیوزی لینڈ کے شمالی جزیرے پر آباد گنجان آباد شہر ہیملٹن میں ایک پولیس آفیسرراس اینڈرسن کے گھر پیدا ہوئیں،ان کی والدہ کیٹرنگ اسسٹنٹ کا کام کرتی تھیںیونیورسٹی آف کاٹو سے کمیونیکیشن اسٹڈیز ان پولیٹیکل انیڈ پبلک ریلیشن میں گریجویشن کی ،برطانوی وزیر اعطم ٹونی بلئیر کے ساتھ بطور پالیسی ایڈوائزر بھی کام کیا مگر بعد میں وطن واپس آ گئیں، انتخابات کے ذریعے وزیر اعظم منتخب ہوئیں انہوں نے اپنی تین ماہ کے بچے کے ساتھ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی جو ایک منفرد بات تھی،ان کا نظریہ ترقی پسند ،سوشل ڈیموکریٹک ہے،جیسنڈ آرڈن کی اپیل پر کرائسٹ چرچ حملے میں شہید ہونے والوں کو خراج تحسین اور لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے النور مسجد کے قریب واقع ہیگلے پارک میں ہزاروں افراد جن میں بہت بڑی تعدادغیرمسلم خواتین کی تھی ،جوان لڑکیوں سمیت سبھی خواتین نے سروں کو اسکارف سے ڈھانپ رکھا تھا خواتین کی ہاتھوں کی زنجیر اور خواتین سیکیورٹی اہلکارون نے اسکارف اوڑھ کر اظہار یکجہتی کیا ، سیاہ لباس میں ملبوس اور حجاب پہنے جیسنڈا آرڈن نے اپنے خطاب کا آغازایک حدیث مبارکہ سے کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلام کے مطابق تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر جسم کے ایک حصہ میں تکلیف ہو تو پورا جسم اس کی تکلیف محسوص کرتا ہے، نیوزی لینڈ میں مقیم مسلم برادری سے کہانیوزی لینڈ آپ کے ساتھ سوگوار ہے ہم ایک ہیں ،وہ اس موقع پر آنسو بہاتی رہیں،ہمدردی کے لئے لپٹتی رہیں ،اسی روز نیوزی لینڈ کی تاریخ میں پہلی بارسرکاری سطح پر براہ راست اذان نشر کی گئی پورا ملک اللہ اکبر کے نام سے گونج اٹھا ایک بج کر32منٹ پر نہ صرف نیوزی لینڈ بلکہ پڑوسی ملک آسٹریلیا میں بھی دومنٹ کی خاموشی اختیار کی گئی جو جہاں تھا وہیں ٹھہر گیااورپھر وہ ہوا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا وزیر اعظم کے ساتھ افراد کی بہت بڑی تعداد مسجد پہنچی اور تاریخ میں پہلی بارغیر مسلموں نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز جمعہ ادا کی،النور مسجد کے اما م جمال فودہ کا خطبہ جمعہ ٹیلی ویژن پر براہ رسات نشر کیا گیا جنہوں نے کہاحملہ آور نے گذشتہ ہفتے دنیا بھر میں کروڑوں لوگون کے دل دکھائے لیکن آج میں اسی جگہ سے محبت ور ہمدردی دیکھ رہا ہوں ہمارے دل ٹوٹے مگر ہم نہیں ٹوٹے،ہم زندہ ہیں ،متحد ہیں اور کسی کو اپنے اندر پھوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے دہشت گرد ی کا کوئی رنگ نہیں ہوتا کوئی مذہب نہیں ہوتا،امام مسجد نے نیوزی لینڈ کی جانب سے بے پناہ محبت پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا نماز جمعہ کے بعدشہید افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی ،اس موقع پر نیوزی لینڈ کے ایک شہری کا بیان سامنے آیا کہ آج کا پیغام بہت گہرا ہے ہمارا گمان تھا کہ معاشرہ ایک روشن خیال ہے لیکن معلوم ہوا کہ ہمارے اندر بھی خامیاں ہیں اس ہولناک واقعہ کے بعداب مثبت تبدیلی آئے گی اور اب ہم دنیا کو بہتر سے بھی زیادہ کچھ دے سکیں گے،پارک میں بڑی سکرین لگائی گئی سکرین پر ہمیں آپ سے پیار ہے اور ان کی مادری زبان میں ہم ثابت قدم رہیں گے جیسی عبارتیں تحریر تھیں،شہیدوں کی آخری رسومات کے موقع پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لئے نیوزی لینڈ کے شہریوں نے پاکستانی لباس پہنچ کراپنی روایت کے مطابق مخصوص رقص کیا،مختلف ٹی وی چینلز کی خواتین نیوز رپورٹرز اینکرز نے اسکارف وڑھ کر اپنے فرائض سر انجام دئیے جو دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئے،نیوزی لینڈ کے میڈیا نے مسلمانوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا ٹی وی اینکرز اسلام فوبیا سے متعلق گفتگو کرتے رہے،نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اپنے لازوال کردار سے دل جیت لئے ہیں دنیا بھر میں انہیں ہمدردی کی شبیہ قرار دیا جا رہا ہے،وہ عظیم عورت تو اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہیں کسی نے اس دور میں انسانیت سیکھنی ہو تو کوئی ان سے سیکھے جو اپنے ملک کے اعلیٰ مقام پر پہنچ کر بھی انسانیت کا منبع ہیں،

یہ بھی پڑھیں  این اے 122ووٹوں کی منتقلی،علیم خان نے ثبوت الیکشن کمیشن میں پیش کردیئے