تازہ ترینکالم

انسانیت کے تقاضے

rao nasirاسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسانیت کی فلاح کا ضامن ہے اور انسانی رشتوں کی اہمیت اجاگر کرتا ہے ۔دنیا کی کسی چھوٹی سے چھوٹی قوم کا بھی ہر فرد پرفیکٹ نہیں ہوسکتا ۔آج دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ا اربوں میں ہے لہذا مسلمانوں کا شمار دنیا کی بڑی قوموں میں ہوتا ہے ،اربوں افراد میں جہاں بہت اچھے انسان موجود ہیں وہیں پر برے بھی ہے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پوری قوم ہی باعمل ہے۔لیکن اگر قیادت کرنے والے لوگ یعنی حکمرانسانیت کے تقاضوں سے اچھی طرح واقفیت رکھتے ہوں تو ان چند برے لوگوں کو ریاستوں کا امن و امان تباہ کرنے سے روکا جاسکتا ہے ۔لیکن یہ ممکن اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب حکمران باعمل مسلمان ہوں اور دین کوزیادہ سے زیادہ سمجھتے ہوں پھر ہی ممکن ہے کہ وہ انسانیت کے تقاضے پورے کرسکیں۔خُدا کرئے امت مسلم کو پھر سے حضرت عمرؓکے نقش قدم پر چلنے والے حکمران نصیب ہوں اور معاشرے میں امن و انصاف کی فضا پھر سے بحال ہو ،مظلوم کو انصاف ملے ،بھوکے کو پیٹ بھر کھانا ملے ،بے روزگار کو باعزت روزگار ملے،مختصر کے دنیا میں چاروں طرف انسانیت کی فضا قائم ہو۔ہرطرف امن ہی امن ہوکہیں بھی کسی ماں ،بہن ،بیٹی کی عزت پامال نہ ہو۔(آمین)یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت عمرفاروقؓ رات میں اُٹھ کرمدینہ منورہ کی گلیوں میں گشت کیاکرتے تھے تاکہ اگر کوئی ضروت مند ہو تو اس کی مدد کرسکیں ۔ایک رات وہ دوران گشت مدینہ شہر کی فصیل کے پاس پہنچے تو اس کے دروانے بند ہوچکے تھے ۔آپؓ نے اپنے غلام اسلمؓ جوہمراہ تھے اس کہا چلودیکھتے ہیں چلودیکھتے ہیں کہ دروازہ بند ہونے کی وجہ سے کوئی قافلہ باہر نہ رک گیا ہواور وہ ضرورت مند بھہ ہو،آپؓ نے دروغہ شہر سے فصیل کا دروازہ کھلوایا تو دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ کا الاؤجل رہا ہے۔آپؓ نے کہا اسلم لگتا ہے کوئی قافلہ ہے ۔چلودیکھتے ہیں کسی کو کوئی ضرورت نہ ہو،جاکر کیا دیکھتے ہیں ایک خاتون ہے اور دوچھوٹے بچے ہیں اوروہ رورہے ہیں آپؓ نے رونے کی وجہ پوچھی تو خاتون نے بتایابھائی میں ایک مسافر ہوں دیر سے پہنچی توشہر کے دروازے بند ہوچکے تھے،میرے پاس زادے راہ ختم ہوچکا ہے اور بچے بھوکے ہیں ،میں نے آگ پرایک برتن چڑھارکھا ہے ہے جس پانی اور پتھر پکنے کے لیے ڈالرکھے ہیں ،اور بچوں کو یہ کہہ کردلاسہ دے رہی ہوں کہ ابھی کھانا پک رہا ہے تھوڑی دیر کی بات ہے ۔تاکہاسی طرح صبح ہوجائے اور شہر پہنچ کر ان کو کچھ کھانے کے لیے لے دونگی۔حضرت عمر قاروقؓ وہاں سے تیر کی ماند نکلے اور بیت المال پہنچ کر جریب آٹے کا اور کچھ کھجوریں اور کچھ دیگر کھانے کاسامان غلام اسلم کے بار بار منع کرنے کے باوجود اپنی پیٹھ پر لاد کر فوری طور پر خاتون اور اس کے روتے بچوں کے پاس پہنے اور آگ سلگانے لگے ۔آپؓ کے غلام اسلم فرماتے ہیں قسم خُدا کی آگ جلاتے اور پھونکیں مارتے مارتے آپؓ کی ریش مبارک میں راکھ پھنس گئی ۔آپؓ نے خود کھانا پکایا اور خود اپنے ہاتھوں سے بچوں کو کھانا کھلایا۔جب بچے کھانا کھا چکے توآپؓدیر تک بیٹھے رہے۔پھراٹھے اور خاتون کومخاطب کرتے ہوئے فرمایا بہن جی اب مین چلتاہوں ،خاتون نے روتی آنکھوں سے کہا بھائی خلیفہ تو آپؓ کو ہونا چاہئے عمرؓ تو ناحق خلیفہ بناپھرتا ہے ۔کہابھائی صبح کوآپؓ سے ملناہوتوکہاں ملاجاسکتا ہے ؟آپؓ نے کہا مسجد نبوی پرآجانا میں وہیں آپ کو چلتا پھرتا نظرآجاؤگا۔واپسی آنے لگے تو ااپؓ کے غلام اسلم نے آپؓ سے سوال کیاآپؓ کا کھانا پکانااور بچون کو کھلانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن دیرتک بیٹھ کربچوں کوکودیکھنااور اچانک اُٹھ جانے کاکیا مقصد ؟آپؓ نے فرمایااسلم جب مین گیاتو بچے رورہے تھے لیکن میں بچوں کے مسکرنے کاانتظارکررہاتھا کہ بچے ہنستے ہیں جب بچے ہنس پڑے تومیں اُٹھ آیا۔اور عمرؓ بچوں کوہنسانے میں کامیاب ہوہوا۔اور عمرؓسے روز قیامت بازپرس ہوتی کہ تیری حکومت میں بھوک سے بچہ کیوں رویاتومیں کیا جواب دیتا۔تنقید کرنا مجھے بھی آتا ہے لیکن صرف اتنی اپیل کرنی ہے اپنے حکمرانوں اور عوام سے کہ خُدارا انسانیت کے تقاضے پورے کریں اس بڑھ کے کوئی عبادت نہیں، کوئی خدمت نہیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button