تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

انسانیت پرظلم کی انتہا

imran farooqقصور شہر سے 16کلو میٹر دور تھا نہ گنڈا سنگھ والا کی حدودمیں دیپال پور روڈ پر واقع گاؤں حسین والا میں درندوں سے بھی بد تر نوجوانوں کے ایک گروہ نے انسانیت کی دھجیاں بکھیر دیں۔ اس اندو ہناک داستان کا آغاز 2009میں ہوا ۔ حسین خانوالا تقریباً 5000نفوس پر مشتمل گاؤں ہے ۔ اس گاؤں میں زیادہ تر آبادی کا تعلق آرائیں برادری سے ہے ۔ یہاں پر ایک پرائیویٹ سکول واقع ہے جس میں اردگرد کے چھ دیہاتوں سے طالبعلم تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں ۔ اس المناک داستان کا آغاز اسی سکول سے ہوا ۔ تفصیلات کے مطابق ان درندوں نے تقریباً 284 بچے اور بچیوں سے اس انسانیت سوز حرکت کا ارتکاب کیا ہے ۔ جنکے 400ویڈیو کلپس (Video Clips) منظر عام پر آچکے ہیں ۔ حسین خانوالہ کا شازو نادر ہی کوئی گھرانہ بچا ہو گا ۔ ان غنڈو ں نے جب پہلی لڑکی کے ساتھ زیادتی کی اور اس کی ویڈیو بنائی تو اسے بلیک میل کر کے دوسری لڑکی لانے کے لیے کہا اور یوں یہ سلسلہ چل پڑا ۔ مذکورہ پرائیویٹ سکول کے تقریباً تمام طلباء و طالبات کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ۔ تقریباً دو ماہ قبل ایک بچہ کے ساتھ زیادتی کی گئی تو اسکی ویڈیو فلم منظر عام پر آنے کے بعد ایک مجرم کی شناخت ہو گئی ۔ اُس متاثرہ بچہ کے لواحقین نے اس مجرم کی خوب عزت افزائی کی اُس نے سارا کچھ اگل دیا۔ ایک محتاط اندازہ کے مطابق متاثرہ 284لڑکے اور لڑکیوں میں سے لڑکیوں کی تعداد تقریباً 160ہے ان لڑکوں اور لڑکیوں کی عمریں 12سال سے 16سال کے درمیان ہیں ۔ ویڈیو بنانے سے پہلے انہیں نشہ آور اشیاء دی جاتی تھیں ۔ مجرموں نے ویڈیو فلم بنانے کے لیے حسین خانوالہ، قصور اور لاہور میں ا س مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ٹھکانے بنائے ہوئے تھے ۔ درندہ صفت گروہ کے عزیز و اقارب لاہورمیں مختلف محکموں میں ملازم ہیں جو انکی بھر پور مدد کرتے رہے ہیں ۔ علاقہ بھر کے با اثر خاندانوں نے اپنی عزت کی خاطر انہیں بھاری رقوم دی ہیں ۔ یہ با اثر گروہ کروڑوں کی جائیدادوں کے ما لک بن چکے ہیں ۔ متاثرہ بچے اور بچیاں اپنے گھروں سے روپے پیسے اور زیور ات چوری کر کے اِنکو دیتے رہے ہیں ۔ چند سال قبل ان غنڈو ں کی بلیک میلنگ سے تنگ آ کر دو لڑکیوں نے خود کشی بھی کر لی تھی ۔ میری اطلاع کے مطابق اِسطرح کے سفاکانہ واقعات کا دائرہ کار ٹھینگ موڑ کے قرب و جوار کے دیہات تک پھیل چکا ہے ۔ ان دیہات میں چند روز پہلے ہی ایسے واقعات ہو ئے ہیں ۔ اِس طرح کے واقعات علاقائی پولیس کی پشت پناہی کے بغیر رو نما نہیں ہو سکتے ۔ حسین خانوالہ اِس وقت پولیس کے محاصرہ میں ہے ۔ پولیس کی یہ پوری کوشش ہے کہ متاثرہ لڑکے اور لڑکیوں کو قابو میں کر لیا جائے تاکہ معاملہ دبایا جا سکے ۔ ڈی پی او قصو ر نے انتہائی مضحکہ خیز بیان دیا ہے کہ یہ زمین کا تنازعہ ہے ۔ کیا کوئی زمیندار چند ایکڑوں کی خاطر اپنے بچوں سے زیادتی ہونے کا اعلان کر سکتا ہے ؟ اِس اعلان سے تو موت بہتر ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ اِ ن ویڈیو کلپس کے منظر عام پر آنے کے بعد کئی شادی شدہ لڑکیوں کو طلاقیں ہو گئی ہیں ۔ اور کئی لڑکیوں کے رشتے بھی ٹوٹ گئے ہیں ۔ حکومتی سطح پر مقامی ایم این اے اور ایم پی اے ان بااثر غنڈوں کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ جبکہ علاقائی پولیس روپے اورپیسے کی چمک کا شکار ہو چکی ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی گڈ گورننس کہاں ہے؟ وزیر اعلیٰ پنجاب سے التماس ہے کہ اِس واقعہ کا فوری نوٹس لیں حسین خانوالہ کا دورہ کریں اور متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کیلئے فوری راست قدم اُٹھائیں ۔واقعہ میں ملوث پولیس اہلکار وں کو عبرت کا نشان بنا دیں

یہ بھی پڑھیں  دیپالپور:اتحاد پریس کلب دیپالپورکے انتخابات،اقبال فاروق صدرپرنٹ ،چوہدری نوید صدرالیکٹرانک میڈیا منتخب

 

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker