علاقائی

کراچی:انصاربرنی نےاسلام آباد سے دارالخلافہ واپس کراچی منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا

کراچی ﴿سٹاف رپورٹر﴾انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے انصار برنی ٹرسٹ انٹرنیشنل کے سربراہ انصار برنی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پاکستانی راہنما اور قوم اپنے محسنوں کو بھلا بیٹھی ہے وگر نہ قوم میں کچھ لوگ آج صوبائیت ، لسانیت اور فرقوں کے نام پر انسانیت کا بیدردی سے قتل عام نہ کر رہے ہوتے۔وہ ہفتہ کو انصار برنی ٹرسٹ کے دفتر میں یوم جمہوریہ کے حوالے سے ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔انصار برنی نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان اسلئے نہیں بنایا تھا کہ یہاں فرقوں اور لسانیت کے نام پر سجدوں میں گرے انسانوں کا قتل عام کیا جائے یا معصوم بچوں، عورتوں اور مردوں کو صوبائیت کے نام پر قتل کردیا جائے اور لاشوں پر سیاست کی جائے ۔انصار برنی نے کہا کہ کراچی میں سب سے پہلے لسانیت کے نام پر فسادات جنرل ایوب خان کے دورمیں شروع کئے گئے تھے جب چیف مارشل لائ ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان نے دھاندلی کرکے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کوالیکشن میں ہر وا کر اپنے بیٹے کی سربراہی میں کراچی میں دہشت گردی کا بازار گرم کرادیا تھا اورکراچی کے شہریوں کے سینکڑوں گھروں کو آگ لگا دی گئی تھی اورمحترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دینے پرلسانیت کے نام پر انسانیت کا قتل عام کروایاگیا تھا۔ انصار برنی نے کہا صرف یہی نہیں بلکہ اس فوجی ڈکٹیٹر نے اس سے قبل قائد اعظم کے بنائے ہوئے پاکستان کے سب سے اہم شہرکراچی سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہوئے دارالخلافہ بھی کراچی سے راولپنڈی اسلام آباد منتقل کردیا تھا۔ انصار برنی نے سوال کیا کہ ایک فوجی ڈکٹیٹر نے کس آئین اور قانون کے تحت کراچی سے دارالخلافہ اپنے گھر کے نزدیک راولپنڈی منتقل کرکے پھردھاندلی سے محترمہ فاطمہ جناح کو ہروانے ، کراچی کے شہریوں پر دہشت گردی کرانے اور پھر 1965کی جنگ کراکر کیا ثابت کر نے کی کوشش کی تھی؟انہوں نے کہا اگر دیکھا جائے تو یہ ایک سازش تھی ۔انصار برنی نے کہا کہ قائد اعظم نے کراچی کو کچھ سوچ سمجھ کر ہی دارالخلافہ بنایا ہوگا تو پھر ایک فوجی ڈکٹیٹر کیپٹل کو اپنے گھر کے نزدیک راولپنڈی کیوں لے گیا اور اس کے پیچھے کیا سازش کار فرما تھی۔انصار برنی نے کہا کہ سندھ کا پہلا اور سب سے بڑا احساس محرومی بھی یہیں سے شروع ہوا تھاجو آج تک جاری ہے۔انصار برنی نے کہا کہ لسانیت کی جو آگ کراچی میں ایوب خان نے1965میں لگائی تھی وہ آج بھی بجھائی نہیں گئی بلکہ اس آگ اور لاشوں پر آج بھی سیاست کی جارہی ہے۔انصار برنی نے کہا کہ کراچی کا قصور یہ تھا کہ اس نے ایک فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف الیکشن میں پاکستان بنانے والوں کے ساتھ ملکر محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا جس کی سزائ انہیں آج تک مل رہی ہے۔انصار برنی نے کہا کہ سندھ کا احساس محرومی دور کرنا ہے تو اسے دارالخلافہ کراچی واپس لانے سے شروع کیا جائے اوربلا تفریق رنگ و نسل انسانیت کی بھرپور خدمت کی جائے۔انصار برنی نے کہا کہ وہ صوبائییت یا لسانیت کی بنیاد پر کبھی بات نہیںکرتے بلکہ اصولوں کی بنیاد پر بات کرتے ہیں اور اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یا تو وہ راز بتایا جائے جس کے تحت کیپٹل راولپنڈی منتقل کیا گیایا پھر سندھ کو اس کا حق فوری لوٹایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  پھول نگر:وزیراعظم پاکستان کے حکم پر حلقہ 142کے ہر گھر میں سوئی گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا ۔رانا برادران

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker