بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

انتخاب،احتساب اور انتقام

bashir ahmad mirاللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ بے شمار خدشات و خطرات و شبہات کے باوجود عام انتخابات کا عمل ماضی کی نسبت کافی حد تک شفاف ،غیر جانبدار اور قابل قبول کوششوں سے تکمیل ہوا ۔کامیابی اور نا کامی مقابلے کی دوڑ میں یقینی ہوتی ہے ،آخر کسی نے اس بے رحم کھیل میں ہارنا اور جیتنا تھا ۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن نے انتخابات میں برتری حاصل کر لی ،اب حکومت سازی کس طرح ہوتی ہے اس کی آنے والے دنوں میں واضح شکل سامنے آنے کی توقع ہے ۔ البتہ موصولہ نتائج سے یہ اخذ ہو چکا ہے کہ مرکز اور پنجاب میں ن لیگ،خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اتحادی ،سندھ میں پی پی اتحادی اور بلوچستان میں گریئنڈ الائنس پر مشتمل حکومتیں بنیں گئیں۔ حکومت سازی کے مراحل سے قارئین کو اپ ڈیٹس آئندہ پیش کی جائیں گی ،آج انتخابی نتائج کے حوالے سے بتانا مقصود ہے۔
وطن عزیز میں جمہوری ارتقاء خوش آئند ہے ،جمہوریت انتخاب،احتساب اور انتقام لینے کا ذریعہ ،حیلہ ،وسیلہ اور شوشل کنٹریکٹ کی بنیاد ہے۔ جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ عوام نے کیسا احتساب اور انتقام لیا،لیڈر آف دی ہاؤس نے عوام سے بجلی لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا جھوٹا اعلان اور رینٹل پاور میں غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا اس کی سزا پائی ، کئی اہم شخصیات جن میں صدر پی پی پی صوبہ پنجاب میاں منظور وٹوجو وفاقی وزیر امور کشمیر رہے اور آذادکشمیر میں انجینئرڈ الیکشن کرواکر پارٹی کے تشخص کو پامال کیا وہ اپنی نشست بھی حاصل نہ کر سکے ،سابق وزراء اعلی صوبہ پختونخوا امیر مقام نے پارٹی بدلنے کی سزا پائی ، سابق وزیر اعلی کے پی کے سردار مہتاب عباسی کا افسوس ہوا کہ ان کے حلقہ کے عوام نے ان کی سیاسی قربانیوں کا صلہ نہیں دیا ،یہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اٹک جیل میں اذیت ناک قید کاٹی تھی ، سابق وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کاہرہ بھی ناکردہ گناہ کی شامت میں آئے ،نہ سمجھ میں آنے والی وفاقی وزارت پر براجماں رہنے والی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اربوں روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام بقول انکے غریبوں میں تقسیم کئے تو پھر ووٹ کہاں چلے گے ، سابق وفاقی وزیر ریلولے غلام احمد بلورجن کے سنہرے دور میں ریلوے کا ’’مرن گھاٹ ‘‘ہوا ،انہوں نے اپنی شکست کھلے دل سے تسلیم کر کے اچھی روایت قائم کی ، سابق اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی راجہ ریاض جنہوں نے جگت بازی میں اقتدار کے مزے لئے ،نشان عبرت بنے ۔یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عوام بیدار ہو رہے ہیں اور جمہوری نظام پر ان کا اعتماد قائم ہوا ہے۔پی پی پی کیوں بازی ہار بیٹھی ۔۔؟؟ اس پر بھی آئندہ سیر حاصل بات ہوگی لیکن جب کوئی قیادت عوام کو کچھ Deleverنہ کر سکے تو انہیں نا کامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔عوام نے یہ بھی ثابت کیا کہ اب زبانی دعوؤں اور خوشنما تقاریر سے کچھ حاصل وصول نہیں ہو گا بلکہ جو جیسا بوئے گا ویسے ہی کاٹے گا ۔جن شخصیات کو عوام نے تسلیم نہیں کیا وہ یہ سمجھتے رہے کہ انہوں نے اقتدار کو انجوائے کرنے کے سوائے عوام کے لئے کچھ نہیں کرنا،عوام کو ریوڑ سمجھا گیا آخرکب تک بے معنی دلیلوں اور تاویلوں سے انہیں ہانکا جاتا ۔ عوام نے فیصلہ کسی حد تک بہتر انداز سے دیا اگر جمہوری عمل کا تسلسل قائم رہا تو انشاء اللہ آئندہ انتخابات میں ایسی تطہیر اور چھاننی ہوگی جس کا ابھی تصور کرنا محال ہے۔گذرے جمہوری دور میں کمرتوڑمہنگائی،بے انتہا بے روزگاری ،آمدن و خرچ میں عدم توازن ،بے بسی و بے کسی کے ماحول میں عوام نے جس اذیت ناک انداز میں اس امید پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا کہ5برس گذرنے کے بعد سورج ضروران کی خوشحالی کا پیغام لیکر طلوع ہو گا،جب انہیں یہ حق ملے گا کہ اپنی قسمت کا انتخاب کرو۔۔؟َ ؟آخر کار گیارہ مئی کا سورج پوری آب و تاب سے جب طلوع ہوا تو عوام نے 5سال کا بیعہ نامہ ہوش و حواس خمسہ سے دے دیا، عوام نے جس جمہوری سوچ و فکر کی نئی روایت کو جنم دیا ، اب آنے والوں کو ہوشمندی سے چلنا پڑے گاورنہ عوام عبرت ناک انتقام و انجام سے دوچار کر سکتی ہے ۔ان انتخابات میں شخصیات نے مار کھائی اور سچائی نے فتح پائی ، یہ حقیقت سامنے آ چکی ہے کہ اب عوام کو زیادہ دیر بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔عوام نے ماضی میں بہت زخم کھائے ،کھبی اسلام کے نام پر ووٹ مانگے گے ،کبھی معاشی خوشحالی کا خواب دکھایا گیا ،جو جیتے انہوں نے اقتدار کو گھر کی لونڈی بنایا ،عوام کی خاموشی کو کمزوری سمجھا گیا ،آخر عوام نے کیسا خوب انتقام لیا کہ اب منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہے ۔
انتخابی نتائج سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر وطن عزیز میں جمہوری عمل قیام پاکستان سے مسلسل جاری رہتا تو یقیناًآج ہم ترقیا فتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہوچکے ہوتے مگر ایسا نہ ہونے سے ملک دولخت ہوا اور آج بے شمار مسائل نے ہمیں گھیرا ہوا ہے ۔ ان سب خامیوں اور غلط پالیسیوں کے باوجودآئین و قانون کے تحت انتخابات کروانے میں پی پی پی کا جمہوری کردار واقعی قابل تعریف کہا جا سکتا ہے جس نے 5سال کے بعد انتخابات کو فیصلہ کن بنایا اگرچہ اس کی بھاری قیمت اقتدار سے رخصتی کی صورت میں ملی مگر یہ اعزاز کی بات ہے کہ انتخابات کو شفاف بنانے میں نیک نیتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ہماری تاریخ میں یہ پہلی روایت ہو گی کہ جمہوری حکومت اقتدار کی منتقلی جمہوری انداز سے کرئے گی۔ورنہ ماضی مین جو سازشیں ہوتی رہی ہیں اگر ان کا اعادہ کیا جاتا تو’’ منہ میں خاک ‘‘ آج ہم ایسی دلدل میں پھنس چکے ہوتے کہ ہمیں نکلنے کا راستہ نہ ملتا۔
سیاست میں ہار جیت لگی رہتی ہے ،قابل اصلاح طرز فکر کا ہونا ضروری ہے ۔جو ہارے انہیں بھی پتہ چل گیا کہ انہوں نے پانچ برس کیا کیا ،جو جیتے ان پر اب بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے حریفوں کی ناکامی اور اپنی فتح پر شادیانے بجانے اور منانے کی بجائے عبرت حاصل کرتے ہوئے ملک و قوم کے لئے سوچیں کہ وہ کیسے انہیں ریلیف پہنچا سکتے ہیں ۔کہیں ان کی کوتائی سے ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ’’بے صبری ‘‘عوام ان گنت مسائل سے چھٹکارہ پانے کے لئے پھر میدان سجانے کی تیاری کر لے ۔عوام کی بہت سی توقعات ہیں جن پر غور کرنے اور مربوط و مستحکم منصوبہ سازی کی ضرورت ہے ۔داخلہ و خارجہ امور میں اصلاح احوال از بس ضروری ہے ۔دہشتگردی کا مقابلہ کرنے لئے ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا ،جرائم کے خاتمے کے لئے معاشی و سماجی کمزوریوں کا ازالہ پیش نظر رکھنا پڑے گا ۔نیا پاکستان کا خواب پورا کرنے کے لئے تاریخ ساز اقدامات اٹھانے پڑیں گے ۔آنے والوں پر بہت بھاری ذمہ داریاں ہیں کہ وہ سنجیدہ پن سے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے عوام کو تماشا بنانے کے بجائے انہیں اپنا خاندان اور برادری کا فرد سمجھ کر احساس دلایا جائے کہ واقعی قائم ہونے والی حکومت عوام دوست ہے اگر قصہ پارینہ بننے کی کھائی میں جھک ماری گئی تو پھر نام و نشان تک نہیں رہے گا ۔میاں نواز شریف نے ابتدائی نتائج ملنے کے بعد میڈیا سے جس انداز میں گفتگو کی اور مذاکرات کی دعوت عام کا اعلان کیا اس سے صحت مند سیاسی ماحول پیدا ہوگا۔
بہر حال جیتنے اور ہارنے والوں کو مبارک ہو کہ انہوں نے جمہوری عمل کو جاری رکھنے میں عوام کا سامنا کیا ۔یہ امر خوش آئند ہے کہ اس بار
عوام نے نئی سوچ کو فروغ دیکر تحریک انصاف کو پسندیدہ جماعت قرار دیا ،یہ دو بڑی پارلیمانی جماعتوں کے لئے چیلنج سے کم نہیں ،عمران خان سے لاکھ اختلاف ہو مگر یہ ماننا پڑے گا کہ عوام نے تحریک انصاف کو ’’تبدیلی ‘‘ کی بنیاد پر پذیرائی بخشی ،ابھی عمران خان کا سفر سیاست شروع ہوا ہے بے شک ان کے مطابق 17سال گذر چکے ہیں لیکن اب ان کے لئے بڑی آزمائش کا وقت آن پہنچا ہے کہ وہ کس طرح آئندہ کا سیاسی لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے اپنا کلین سویپ ہونے کا خواب پورا کر تے ہیں۔جہاں تک پی پی پی کا تعلق ہے تو وہ اپنے کئے کی سزا بھگت چکے ہیں۔ انہیں بھی اپنی سیاسی جد و جہد کا رخ بدلنا پڑے گا ورنہ آنے والی نسل انہیں کسی طور قبول کرنے سے رہی ۔note

یہ بھی پڑھیں  پاکستان کرکٹ بورڈ نے بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کا فیصلہ کرلیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker