انور عباس انورتازہ ترینکالم

انتخابات کے نتائج

anwar abasانتخابات کے نتائج نے واقعی سب کو حیران کر دیاہے۔مسلم لیگ نوازپنجاب،پیپلز پارٹی سندھ، تک محدود ہو کر رہ گئیں۔ کہا جاتا تھا کہ پاکستان کے عوام دہشت گردی کے خلاف ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والی جماعتوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔لیکن جب انتخابات کا وقت آٰا تو عوام نے انکی بجائے دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔خیبر پختون خواہ سے امن پسند عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانے پیش کرنے والی جماعت عوامی نیشنل پارٹیاور اسکی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کو خیبر پختونخواہ سے دیس نکالا دیدیا ہے۔اسی طرح پنجاب سمیت پورے ملک میں منتخب نمائندوں کے ذریعے ترقیاتی منصوبے مکمل کروانے کا ریکارڈ رکھنے والی پارٹی کو بھی پنجاب کے عوام اور مقتدرہ قوتوں نے دیس نکالا دے دیا۔حالانکہ پنجاب حکومت نے اپنی اتحادی اور بعد میں اپوزین جماعت پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کے حلقوں میں کسی قسم کے ترقیاتی کام نہیں کروائے تھے ۔اور نہ ہی کسی قسم کے فنڈز جاری کئے گئے۔ایک الیکشن میں پی پی کو پنجاب سے بارہ یا پندرہ نشستین دی گئیں تھیں،مطلب یہ کہ پنجاب کے ہر ڈویژن سے ایک قومی اسمبلی کی نشست پر پیپلز پارٹی کا میدوار کامیاب قرار دیا گیا۔لیکن اس بار تو ’’ کاریگروں‘‘ نے پیپلز پارٹی کوپنجاب سے بالکل اٹھا کر پنجاب کی حدود سے باہر پھینک دیا ہے۔لاہور سے تمام تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ لاہور تحریک انصاف ،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز میں تقسیم ہو جائیگا۔ اورپی پی اس بار لاہور سے دو سے تین نشستیں جیت جائے گی۔لیکن ’’ہنر مندوں ‘‘ نے یہاں بھی پی پی کا ’’ تخم ‘‘ مکا دیا ہے۔لیکن لوگوں کی زبانیں مند رکھنے کے لیے لاہور سے شفقت محمود جیسے شخص کو کامیاب قرار دیا لیکن انکا بھی کافی تردد کے بعد نتیجہ جاری کیا گیا۔ لیکن ’’کاریگروں سے ایک غلطی ہو گئی ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کو ایک عام ورکر سے شکست دلواکر ثابت کیا ہے کہ عمران خاں کی حثیت ہی کیا ہے۔جب اس بات کا پورا پورا خیال رکھا گیا کہ مسلم لیگ نواز کے بھائی جان کہیں سے بھی ناکام قرار نہ دئیے جائیں۔اس بات میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ کہا جائے کہ پیپلز پارٹی کی اس میں کسی قسم کی کوئی غلطی اور کتاہی نہیں ہے۔میرے نزدیک ساری غلطیاں ہی پیپلز پارٹی کی قیادت ہی ہیں۔۔طالبان کی جانب سے تو ابھی انتخابی مہم میں سیاسی جلسوں میں دھماکے کرنے کی دہمکیاں دی گئیں اور پاکستان کے عوام کو خبردار کرتے ہوئے انہیں پیپلز پارٹی،عوامی نیشنل پارٹ اور ایم کیوایم کی انتخابی مہم سے دور رہنے کے ’’احکامات‘]جاری ہوئے ۔لیکن صدر آصف علی زرداری سے لیکر گورنرز صاحبان تک اور وز یر اعظم سے لیکر تمام وفاقی اور صوبائی وزرا کو کس نے روکا تھا کہ وہ پورے پانچ سال تک عوام کے پاس ہی نہ جائیں۔انکی داد فریاد ہی نہ سنیں۔ اور محض ایوان صدر میں بیٹھ کر یا گورنرز ہاوسز میں بیٹھ کر ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرکے سمجھیں کہ انہوں نے اپنا حق ادا کر دیا ہے۔میں اپنے ضلع کی حد تک تو یہ کہہ سکتا ہوں کہ پورے پانچ سالوں میں وزیر اعظم تو بہت دور کی بات ہے ۔کسی ایک بھی وفاقی وزیر نے شیخوپورہ کا دورہ کرنے کی زحمت نہیں کی۔ کسی نے اس طرف دھیاں دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کہ شیخوپورہ جو کبھی پیپلز پارٹی کا منی لاڑکانہ ہوا کرتا تھا اسے دوبارہ حاصل کیا جائے۔انہیں تو بس ایک ہی کام تھا کہ مال کیسے بنایا جائے۔ مجھے یقین ہی نہیں بلکہ پختہ یقین ہے کہ ایسا ہی سلوک پاکستان کے ہر ضلع کے عوام کے ساتھ روا رکھا گیا ہے۔الیکشن کے اگلے روز میری دو کارکنوں سے بات چیت ہوئی ہے ،آپ بھی پڑھیں۔محترم محمد حسنین خاں سے دریافت کیا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتنا برا کیوں ہوا ہےَتو انہوں نے جواب دیا کہ’’جب انتخابی مہم ہی نہیں ہو گی تو یہی ہوگا‘‘ میں نے پھر پوچھا کہ’’انتخابی مہم کس نے چچچچچلانی تھی اور اس نے کیوں نہیں چلائی؟حسنین خاں نے بڑی فراخدلی سے جواب دیا کہ ’’لیڈر کے بغیر انتخابی مہم نہیں ہوتی‘‘انتخابی نتائج کو دیکھ کر روشن خیال اور لبرل حلقے پریشان ہوگے ہیں وہ سوچنے لگے ہیں ،کہ انہیں اب پنجاب میں ہر طرف طالبان،لشکر جھنگوی ،اور سپاہ صحابہ کا راج نظر آتا ہے ۔ْ انکے خدشات کی بنیاد میاں نواز شریف کی طالبان دوست پالیسیاں ہیں۔ایک اور کارکن مرزا الیاس نے پیپلز پارٹی کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا’’ بھائی ہم جو کچھ کر سکتے تھے کیا ہے مگرکسی نے ہماری ایک نہیں سنی۔آپ دیکھیں انتخابات کے دوران کوئی جلسہ اور کوئی جلوس ہی نہیں اور نہ ہی کوئی انتخابی مہم ہے۔میں نے بار بار کال کر کے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔مگر کسی نے بھی کوئی تسلی بخش جواب دینا گوارا نہیں کیا۔مرزا الیاس کہتا ہے کہ مجھے ایسا لگتا تھا کہ لیڈر شپ نے کوئی فیصلہ کر رکھا تھا۔کہ اس بار اس نے کوئی کوشش ہی نہیں کرنی۔میں تو خود حیران ہوں کہ پی پی کے ساتھ ایسا کیوں ہواہے۔مرزا الیاس کا کہنا ہے کہ۔اگر پیپلز پارٹی نے ۔۔۔کرنا ہے تو پیپلز پارٹی میں تبدیلی لانی ہوگی اور تمام پرانی تنظیموں کو ختم کرکے نئی تنظیمیں بذریعہ پارٹی انتخابات منتخب کرنی ہوں گی۔تمام فیصلے میرٹ پر ہوں۔اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق میڈیا چینج لانا ہوں گی۔نیچے سے لیکر اوپر تک تمام لیڈر شپ انتخابات کے ذریعے منتخب کی جائے۔’’زرداری صاحب کی کریڈیبیلٹی پارٹی کے لیے بڑا مسلہ ہے‘‘پارٹی کی طرف سے اختیار کی گئی پالیسی کو دیکھتے ہوئے پی پی کے جیالے اور ان کے حامی ووٹر گھر وں سے باہر نہیں نکلے۔دوسرا لیپ ٹوپ اور سولر انرجی پینل کی تقسیم سمیت دوسرے پروگراموا8 نے بھی عوام کو گمراہ کرنے میں کائی کسر نہیں چھوڑی۔ پی پی پی کی نچھلی سطح کی قیادت سے لیکر اعلی سطح تک سب نے انتخابات جیتنے کی کوشش نہیں کی ،اسکی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سارا تکیہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت فیض یاب ہونے والی خواتین کے گھرانوں پر کر رکھا تھہ۔ان کا خیال تھا کہ قومی اسمبلی کے ہر ایک حلقے میں آٹھ سے دس ہزار خواتین بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستضفیض ہو رہی ہیں۔انکا تخمینہ تھا کہ ہر خواتین کے گھر والے پیپلز پارٹی کو ہی ووٹ دیں گی۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔مخالفین نے یہ پروپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ فنڈ کے پیسے پنجاب حکومت دے رہی ہے ۔مخالفین کا یہ ہتھیار کار گر ثابت ہوا۔پی پی پی کی اس بری شکست کی ایک بڑی وجی پارٹی ٹکٹوں کی فروخت کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔راجہ پرویز اشرف ،یوسف رضا گیلانی اور میاں منظور وٹو سمیت محترمہ فریال تالپور تک سب کو پنجاب میں جلسے اور جلوس کرنے چاہئیں تھے ۔اگر انہیں اپنی جانیں پیاری ہیں تو پھر سیاست کرنی چھوڑ دیں۔پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ کسی پارٹی کو اسکی قیادت نے اتنا مجبور اور لاچار چھوڑا ہو۔ایک بات اور بھی قابل توجہ ہے کہ امریکہ نے جب بھی ہمارے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر صاف مشفاف الیکشن کا انعقاد چاہا ہے اور اسکے لیے تعاون بھی کیا ہو تو ایسے ہی نتائج آتے ہیں۔پیپلز پارٹی کو اس سلوک کا مستحق اس لیے بھی سمجھا گیا ہے کہ اس نے تمام تر دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایران سے گیس پائپ لائن منصوبے پر دستخط کیے اور گوادر پورٹ کا انتظام بھی امریکی خوائش کے برعکس چین کے سپرد کیا ۔یہ دونوں کام ذوالفقار علی بھٹو شہید کے ایٹمی پروگرام سے کسی طور بھی کم نہیں ۔ایران سے گیس پائپ لائن منصوبہ سے ہمارے اسلامی برادر ملک سعودی عرب کو بھی پسند نہیں ہے۔آگے آپ خود اندازہ لگا لیں کہ پی پی پی کو اس انجام سے کیوں دوچار کیا گیا ہے۔اب دیکھنا ہوگا کہ کیا میاں نواز شریف گیس پائپ لائن منصوبے کو جاری رکھتے ہیں یا اپنے امریکی دوستوں کی خوائشات کا احترام کرتے ہوئے اسے ختم کر دیتے ہیں۔کیونکہ بلوچستان میں ان کے اتحادی بلوچ رہنماؤں کو گوادر پورٹ کا انتظام چین کے سپرد کرنا ایک آنکھ نہیں بھاتا۔میاں نواز شریف کا یہ بھی ایک امتحان ہوگا ،کہ وہ نواب طلال بگٹی،میر اختر مینگل ،سردار عطا ئاللہ مینگل کو اس مسلہ پر ساتھ لیکر چلتے ہیں؟note

یہ بھی پڑھیں  سبی:ہمارے پڑے لکھے امیدوار کونسلر صاحبان کے کارنامے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker