تازہ ترینسائنس و آئی ٹی

انٹرنیٹ کیفیزکی مانیٹرنگ کےلیےجلد قانون سازی کی جائےگی

جدید ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کی وجہ سے جہاں بہت سے فوائد حاصل ہوئے ہیں وہیں اسکے غلط استعمال کی بدولت معاشرے میں بگاڑ بھی پیدا ہورہا ہے۔ اس حوالے سے والدین اور دیگر طبقات زندگی کی جانب سے انٹرنیٹ کیفے کے غلط استعمال کو روکنے کے حکومت کو لاتعداد مرتبہ یاد دہانی کروانے پر آخر کار پنجاب حکومت نے Punjab Cyber and Gaming Cafe Regulations Act 2012 کے نام سے ایک نیا قانون متعارف کروانے کے لیے اسمبلی میں بل پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

امید کی جارہی ہے کہ اس حوالے سے تمام شراکت داروں سے معاملات طے پا جانے کے بعد اسے 2012 بجٹ کے بعد پیش کیا جائے گا۔اطلاعات کے مطابق یہ بل اس سے قبل دسمبر 2011 میں پیش کیا جانا تھا لیکن کیبینٹ ممبران میں اختلاف رائے کے باعث اس پر کام نہ ہوسکا۔

یہ بھی پڑھیں  چاہ کلالانوالہ:کروڑوں روپے سے بننے والاہسپتال عملہ نہ ہونے وجہ سے ویران

پنجاب کے وزیر اعلی جناب میاں شہباز شریف کی جانب سے مختلف ٹی وی چینلز پر انٹرنیٹ کیفے کے غلط کردار پر پروگرامز نشر ہونے کے بعد حکم جاری کیا گیا تھا کہ اس حوالے سے قانون سازی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑا:تمام محکموں کےافسران اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی کومزید بہتربنائیں،DCO

اس بل کے مطابق تمام نیٹ کیفز سے کیبن ختم کردیے جائیں گے اور صارفین کو انٹرنیٹ استعمال کرنے سے قبل اپنا شناختی کارڈ دکھانا ہوگا، نیٹ کیفے مالکان کے ضروری ہوگا کہ وہ تمام صارفین کا ریکارڈ رکھیں اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال پر پابندی لگائیں۔ اس بل کے مطابق نیٹ کیفے کے اوقات صبح 8 بجے سے رات 10 بجے کے درمیان مقرر کیے جاسکیں گے۔

گو کہ اس بل میں اصل خرابی کی نشاندہی کر دی گئی ہے لیکن چند مزید اصلاحات کی ضرورت ہے، جیسے اکثر نیٹ کیفیز پر نوجوانوں کو راغب کرنے کے لیے ’شیشہ‘ اور دیگر منشی چیزیں فروخت کی جاتی ہیں جسکی بدولت نوجوان نسل ان کے نشے کی عادی ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  نندی پور پاور پراجیکٹ کے سیکیورٹی آفس میں اہم ریکارڈ پھاڑ دیا گیا

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی ملک ہونے کے باوجود پاکستان سرچ انجن پرسب سے زیادہ غیر اخلاقی مواد تلاش کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے، انٹرنیٹ کے اسی غلط استعمال کو روکنے کے پی ٹی اے کی جانب سے حال ہی میں 13000 سے زائد غیر اخلاقی ویب سائیٹس کو پاکستان میں بین کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker