پاکستانتازہ ترین

مفکرپاکستان علامہ اقبال کا 138واں یوم پیدائش عقیدت واحترام سے منایاجارہا ہے

لاہور(پاک نیوز)مفکرپاکستان علامہ محمد اقبال کا ایک سو اڑتیسواں یوم پیدائش آج عقیدت واحترام سے منایا جارہا ہے۔۔ علامہ سر محمد اقبال نو نومبر اٹھارہ سو ستتر کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ اٹھارہ سو نناوے میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ایم اے کا امتحان پاس کیا اور پھر تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ انیس سو پانچ میں وہ یورپ چلے گئے جہاں انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وطن واپسی کے بعد آپ وکالت کے پیشے سے کل وقتی طور پر وابستہ ہوگئے۔ علامہ اقبال کی شاعری کا آغاززمانہ طالب علمی ہی سے ہوچکا تھا۔ ابتدا میں انہوں نے داغ دہلوی سے اصلاح لی۔ انیس سو دس کی دہائی میں آپ نے شکوہ، جواب شکوہ، شمع اور شاعر اور خضر راہ جیسی یادگار نظمیں تحریر کیں۔ اسی زمانے میں آپ کی فارسی مثنویاں اسرار خودی اور رموز بے خودی شائع ہوئی۔ انیس سو بائیس میں حکومت برطانیہ نے آپ کو سر کا خطاب عطا کیا۔ انیس سو تیس میں آپ نے الٰہ آباد کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے جو خطبہ دیا اس میں مسلمانوں کی ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ پیش کیا جس کا نتیجہ بالآخر قیام پاکستان کی صورت میں برآمد ہوا۔ علامہ سر محمد اقبال کا انتقال اکیس اپریل انیس سو اڑتیس کو لاہور میں ہوا۔ آپ کو بادشاہی مسجد کی سیڑھیوں کے پاس سپرد خاک کیا گیا۔علامہ اقبال کے شعری مجموعوں میں بانگ درا، ضرب کلیم، بال جبرئیل، اسرار خودی، رموز بے خودی، پیام مشرق، زبور عجم، جاوید نامہ، پس چے چہ باید کرد اے اقوام شرق اور ارمغان حجاز کے نام شامل ہیں۔ انہیں بیسویں صدی کا سب سے بڑا اردو شاعرتسلیم کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  لوگوں کے ریلیف کیلئے ضلعی انتظامیہ آخری حد تک جائے گی . ڈپٹی کمشنر عثمان علی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker