شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / عراق میں امریکی کاروائی۔خطے کی میں جنگ کا خدشہ

عراق میں امریکی کاروائی۔خطے کی میں جنگ کا خدشہ

امریکہ نے عراق کے دارالحکومت بغداد کے ائیرپورٹ کے کارگو ٹرمینل کے قریب نکلتی سڑک پر دو گاڑیوں پر امریکہ کی جانب سے میزائل حملہ کے بعد ایران پاسداران انقلاب کے سربراہ قاسم سلیمانی کو شہید کر دیا،انٹیلی جنس معلومات پر کئے گئے امریکہ کو اس قافلے کی مکمل حرکات سکنات کا علم تھااس حملہ میں عراقی ملیشیاء کے کماندر ابو مہدی المہدس بھی نشانہ بنے یہ دونوں کمانڈرز ایک ہی گاڑی میں سوار تھے جبکہ دوسری گاڑی میں ان کے باڈی گارڈز نشانہ بنے،عراق کے مطابق یہ حملہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے دو گائیڈڈ میزائل داغ کر گیا گیا،قاسم سلیمانی اس سے قبل کئی عرب ممالک،امریکہ و اسرائیل کی جان سے گذشتہ دو دہائیوں میں کئی حملوں میں محفوظ رہے،انتہائی اہم افراد کی ہلاکت طویل عرصہ سے امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں گھرے ایران کے لئے بہت بڑا دھچکا ہے،جغرافیائی حوالے سے دنیا کے اہم ملک ایران کے ساتھ امریکی تعلقات ہطویل عرصہ سے کشیدگی کا شکار ہیں جنوب مغربی ایشیا کا ملک ایران مشرق وسطیٰ میں واقعہ ہے جو یورپ اور ایشیا کے وسط میں واقع ہے ایران پر امریکی پابندیوں،ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا پر امریکی حملے،وغیرہ سے ہٹ کر یہ عالمی میڈیا،ماہرین و مبصرین کے مطابق یہ واقعہ تیسری جنگ عالمی جنگ کی جانب اہم پیش رفت ہے،امریکہ نے ہمیشہ اس بات کو مد نظر رکھا کہ وہ دنیا بھر میں جو چاہے جہاں چاہے کر سکتا ہے تاہم قاسم سلیمانی پر حملے اور ان کی ہلاکت کا یہ واقعہ انتہائی رخ اختیار کر سکتا ہے،جس پر ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکہ کو سنگین نتائج کی دھمی دیتے ہوئے کہا کہ سلیمان قاسم ایران کے خلاف جارحیت کے سامنے عالمی چہرہ تھاایران اس ظلم کا بدلہ ہر قیمت پر لے گاامریکہ نے ان کی خود مختاری پر براہ راست حملہ کیا ہے ایران میں اس سانحہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا جبکہ اسی روز ہی اسماعیل غنی کو پاسداران انقلاب کا سربراہ مقرر کر دیا گیا،اس حملے کی منظوری براہ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی اور قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ٹویٹ میں پہلے کامیابی کے نشہ میں امرکی پرچم لگایا پھر کہا قاسم سلیمانی کو بہت پہلے مار دینا چاہئے تھا وہ ہزاروں امریکیوں کا قاتل تھا ایران نے کبھی جنگ نہیں جیتی وہ اس خطے میں سعودی عرب،اسرائیل اور دیگر اتحادیوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی کو یہ کہہ کر کم کر سکتے ہیں کہ امریکہ کی دھاک اب بھی موجود ہے، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیپوکے مطابق امریکی فضائی حملے میں ایرانی کمانڈر کو ہلاک کرنے کا مقصد ایک انتہائی حملے کو روکنا تھا جس سے مشرق وسطیٰ میں امریکیوں کو سنگین خطرا لاحق تھے اور یہ خطرہ ہمارے بہت قریب آ چکا تھاتب ہم نے فیصلہ کیا کہ حملے میں انتہائی خطرے کے کردار کو سرے سے ہی ختم کر دیا جائے ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں،پیٹنا گون نے دعویٰ کیا ہے کہ قاسم سلیمانی عراق مشرق وسطیٰ میں امریکیوں کو نشانہ بنانے کی اہم سازش میں متحرک تھے یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی فوج کو محفوظ بنانے کی وجہ سے کیا گیامزید منصوبہ بندی کو روکنا امریکہ کا بنیادی حق تھا،یہ عراق میں امریکی بیسز اور سفارتخانے پر حملہ کی منصوبہ بندی کر رہے تھے،امریکی محکمہ دفاع نے کہا کہ وہ عراق سمیت پورے خطہ میں امریکی سفارتی عملے اور فویوں پر حملوں کے نصوبوں میں ہمیشہ سرگرم رہا، عراق کی پاپولر موبلائزیشن فورسز کے ترجمان احمد الاحدی کے مطابق امریکی اور اسرائیلی دشمن مجاہدین ابو مہدی اور قاسم سلیمانی کے قتل کا ذمہ دار امریکہ ہے،رائٹرز کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایرانی پیرا ملٹری فوسز کے پانچ اراکین بھی شامل تھے قافلے پر تین راکٹ داغے گئے جس سے دونوں گاڑیاں جل گئیں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے،یہ امر بھی حیرت کا سسب ہے کہ آخر ایاس کیا تھا کہ امریکہ اس قدر جارحیت تک پہنچا کیونکہ اس سے قبل ایران نے خلیج میں امریکی آئل ٹینکرز کو تباہ،امریکی ڈرونز کو مار گرایا،سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو تباہ کر دیاشاید یہ سب انہی عوامل کا یکجا رد عمل کسی شدید پریشر کے نتیجہ میں سامنے آیا ہے،دور اوبامہ میں وائٹ ہاؤس میں مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس سے متعلق رابطہ کارخلیب گودون کے مطابق یہ ہلاکت ایک ایسا اعلان ہے اور اس اعلان کے بعد اعلان جنگ ہی باقی رہ جاتا ہے،قاسم سلیمانی کی ہلاکت سیمشرق وسطیٰ میں کیا بلکہ دنیا بھر میں ہر خاص و عام پریشان ہے کہ اس ممکنہ جنگ کے کیا نتائج برآمد ہو ں گے اس ہلاکت کے فوری بعد تیل کی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد اضافہ ہو گیا تیل کی بڑھتی قیمتوں کا انحصار ہمیشہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے جڑا رہتا ہے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے عراق میں موجود 5ہزار سے زائد امریکی فوجی اب ایرانی نشانہ پر ہیں اسی لئے امریکہ نے مزید فوج بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے تاکہ اپنے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے امریکہ اور اس کے اتحادی دفاعی پوزیشن پر کھڑے ہیں امریکہ نے اپنے شہریوں کو عراق سے نکلنے کی ہدایت کی ہے،،اس واقعہ سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا ہے جس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں ایران کی جانب سے متوقع رد عمل اور حملوں سے دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر جا سکتے ہیں،برطانوی ماہر معاشیات جیسن ٹوڈے نے کہااب ہر چیز کا انحصار ایران کے رد عمل پر ہو گاہمیں کدشہ ہے کہ اس پیش رفت سے خطے میں تصادم کا خطرہ بڑھہ چکا ہے پاکستان نے اس واقعہ پر کہا ہے کہ خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا ضروری ہے قوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں پر عمل اور یکطرفہ طاقت کے اقدامات سے چبنا چاہئے،فریقین کا تحمل کا مظارہ کریں،آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وزیر کارجہ کے رابطہ کرنے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے زور دیا ہے کہ تمام فریقین خطے کے امن واستحکام کے وسیع تر مفاداور کشیدگی کو کم کرنے میں مکمل تحمل کا مظاہرہ اور تعمیری روابط قائم کریں جنرل قاسم سلیمانی 11مارچ1957کو ایرانی صوبہ کرمان کے شہر دابر کے علاقہ قنات ملک میں پیدا ہوئے ان کے والد کاشت کار تھے غریب اور عام گھرانے سے تعلق رکھنے والے قاسم سلیمانی نے پہلے پانی کے محکمہ میں ملازمت اختیار کی پھر1980میں بطورسپاہی پاسداران انقلاب میں شرکت کی اپنی بہترین صلاحیتوں کی وجہ سے انہوں نے صرف22سال کی عمر میں صوبہ کرمان میں پاسداران کی41بریگیڈ کی قیادت کی ایران عراق جنگ میں حصہ لیااور یوں وہ ایرانی فوج میں اعلیٰ مقام حاصل کر گئے،1998مین جنرل احمد وحیدی کی جگہ اقدس بریگیڈ کے مرکزی سربراہ مقرر ہوئے اور موت تک وہ اسی عہدہ پر فائز تھے24دسمبر کو انہیں میجر جنرل کے عہدے پر تری دی گئی،وہ پاسدران کی بیرون ملک شاخ کی بھی سرپرستی کرتے تھے اور وہ ملک اور بیرون ملک ایک اہم ترین شخصیت تھے مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثرو رسوخ کی ترویج میں فعال ترین کردار ادا کیا۔شام میں جاری خانہ جنگی میں صدر بشار الاسد کو بھرپور مدد فراہم کر کے پانسہ ہی بدل دیا،ایران میں آیت اللہ علی خامنہ کے بعد اگر کسی شخصیت کو طاقتور سمجھا جاتا تو وہ قاسم سلیمانی ہی تھے وہ در حقیقت ایران کے اصل وزیر خارجہ تھے،انہوں ن ے عراق میں داعش کے خلاف کامیابی سے شہرت پائی،2013میں CIAافیسر جان سکوائر نے انکشاف کیا تھا کہ قاسم سلیمان مشرق وسطٰ میں انتہائی طاقتور شخصیت تھے اس کرشماتی سخصیت کے بارے بڑے بڑے عالمی ماہرین حیرت زدہ تھے، 2019میں میں امریکہ نے قاسم سلیمانی اور ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیا تھا،امریکی سینیٹر ایڈ مارکی نے کہا یہ ہلاکت بری دانستہ تھی جو خطرناک ترین ثابت ہو سکتی ہے،ٹرمپ نے امریکی افواج سمیت خطہ میں موجود لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے،چینی وزارت خارجہ نے کہا ہم نے بین الاقوامی تعلقات میں جارحیت کی ہمیشہ مخالفت کی ہے امریکی حملے کو ایک غیر محتاط قدم کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے پورے خطے میں تناؤ کی کیفیت میں اضافہ ہو گا،روس،ترکی شام نے اس حوالے سے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے،اسرائیلی وزیر اعظم نیتن ہایو نیاس واقعہ کی حمایت کی ہے،برطانیہ نے کہا ہم نے ہمیشہ قاسم سلیمانی کی جانسب سے جارحیت کے خطرے کو مد نظر رکھابرطانیہ نے بھی اپنی سیکیورٹی بڑھا دی ہے،عراقی شیعہ رہنما اور مہدی ملیشیا کے سربراہ مقتدی الصدرنے کہاقاسم کو نشانہ بنانا ملک پر حملے کے متراف ہے لیکن ہمارے عزائم کو کم نہیں کیا جا سکتا،حزب اللہ کے جنرل حسن نصر اللہ کے کہا قاسم سلیمانی کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دینا دنیا بھر میں پھیلے تمام جنگجوؤں کا فرض ہے،پاسدارن انقلاب کے ترجمان بریگیڈئرجنرل رمضان شریف نے کہا امریکہ اور اسرائیل کو سخت رد عمل دیا جائے گاابھی وہ غم کی حالت میں ہیں بھرپور رد عمل سامنے لائیں گے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا،ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکی اقدام کا عالمی دہشت گردی قرار دیاجس کا بدلہ ہر صورت لیا جائے گا اور ایران منتخب وقت پر جواب دینے کا حق رکھتا ہے،عراقی وزیر اعظم نے کہااس جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہیں یہ دونوں داعش کی دہشت گردی کے خلاف فتح کے استعمارے تھے،ایران عرصہ دراز سے گاظوتی طاقتوں کے نشانے پر ہے بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ہمیشہ پابندیوں کا شکار رہااسے عالمی سطح پر دبانے کی ہر ممکن کوشش جاری رہتی ہے مگر یہ ڈٹا رہا،ایران 5لاکھ 30ہزار فوج کا حامل ہے جس میں ساڑھے تین لاکھ روایتی فوج،ڈیڑھ لاکھ فوج پاسداران انقلاب میں شامل ہے 20ہزار ایرانی بحریہ میں بھی پاسداران شامل ہیں یہ اہلکار آبنائے ہرمز میں مسلح گشت کرتے ہیں،پاسداران انقلاب اپنے ملک میں ایک بڑی فوج،سیاسی اور اقتصادی طاقت بن چکی ہے جس نے افغانستان سے آنے والی منشیات کی بھی روک تھام کی،ایرانی فضائی قدرے کمزور ہے مگر اس کی میزائل صلاحیت سے دنیا بھر واقف ہے،1998مین بل کلنٹن نے عراق میں جوہری ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر اسے ملبے کا ڈھیر بنا ڈالا،صدام حسین سمیت لاکھوں شہریوں کا قتل عام کیا،اب ٹرمپ ایک بار پھر ایران کی تباہی جانب مائل ہے امریکی کانگرس نے مشرق وسطیٰ میں کسی بھی جنگ میں سرکاری فنڈز کی منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے مگر اس کے باوجود امریکی فورسز نے دوسرے روز پھر عراق میں ہی ایرانی پیرا ملٹری فورسز کے افسران و اہلکاران کا نشانہ بنا ڈالا ہے جسے کہتے ہیں جلتی پت تیل ڈالنا،ایک طرف امریکی وزیر خارجہ دنیا کے سربراہان و ہم منصبوں کو فون کر رہے ہیں دوسری جانب وہی وطیرہ اپنائے ہوئے ہیں،

یہ بھی پڑھیں  خانیوال : تیز گام ایکسپریس کے مسافر سے دستی بم برآمد

What is your opinion on this news?