ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

امر یکن سی آئی اے کی تبا ہ کا ریاں

دنیا کے اندر اسلام کش عنا صر کی سربراہ اور دین محمدی کی سب سے بڑی دشمن اورزہر قا تل سے بھی زیا دہ خطرناک ادارے کا نام سی آئی اے﴿CIA ﴾جس کا بنیا دی مقصد اس کا ئنات میں جنگل کا قا نون لا گو کر نا اور کمزور اور پسماندہ طبقوں کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا نہ ہے ۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا سی آئی اے اس قوت کا نام ہے جو باا لخصو ص مسلم کمیو نٹی کی پسپائی اور تنزلی کو ٹا رگٹ کر نے کے لیے با لعموم دنیا کے اندر اقلیتوں اور تر قی پذیر ریا ستو ں پر اپنی حکومتیں قائم کر نے کے لیے قائم ہو ئی ہے ۔20 ستمبر 1945 کو صد ر ہنری ٹر ومین نے ایک حکم کے تحت امریکہ کی زمانہ جنگ کی جا سوس تنظیم ختم کردی ۔ آفس آف سٹر ٹیجک سروسز ﴿او ایس ایس ﴾ نے پو رے یو رپ، اسکنڈے نیو یا ، بلقا ن ، بحیرہ روم ، شمالی افریقہ ، جنو بی ایشیائ اور جنو ب مشرقی ایشیا ئ بھر کے مقبو ضہ علا قو ں میں خفیہ آپر یشن کیے تھے ۔ اس مشن میں اسے مقا می مز احمتی تحریکو ں کا تعا ون حا صل تھا ۔ جون 1944میں او ایس ایس کے ایجنٹو ں نے نا ر منڈی کے جیڈبرا آپر یشن میں حصہ لیا ۔ جنو بی ایشیائ میں ۰۰۳ افراد پر مشتمل یو نٹ بھیجا گیا جو بر ما میں کام کر تا تھا اور اس کی نگرانی بھا رت سے کی جا تی تھی ۔ بر ما میں اس سے جا پا نیو ں کے خلا ف جا سو سی اور گو ریلا کا روائیوں کیلیے ۰۱ ہزار کا چین قبائل کی فو ج تیا ر کی اس دوران او ایس ایس نے سیام اور ہند چینی میں بھی تھائی اور ویٹ منہہ کی مز احمتی تحریکو ں کی مدد کی ۔ جنگ کے اختتام تک اس کے ارکان کی تعداد 12ہزار تھی ۔ اور اسے خفیہ انٹیلی جنس اور کا روائیوں کا وسیع تجربہ بھی حا صل ہو چکا تھا ۔ او ایس ایس کے خا تمے کے فو را بعد اس کی خفیہ انٹیلی جنس بر انچ محکمہ خا رجہ کے سپرد کر دی گئی جبکہ غیر روا ئیتی جنگ کا شعبہ محکمہ دفاع کو مل گیا جس نے اسے سٹرٹیجک سروسز یو نٹ ﴿ایس ایس یو ﴾ کا نام دیا ۔ 1946 میں صدر نے اس کی جا نشین تنظیم جنرل انٹیلی جنس گر وپ ﴿جی آئی جی ﴾ تشکیل دی ۔ اسی سال ایس ایس یو بھی محکمہ جنگ سے ﴿جی آئی جی ﴾ کو مل گیا جس نے اسے آفس آف سپیشل آپر یشنز ﴿او ایس او ﴾ کا نام دیا ۔ اس کے ارکان کی تعداد ۰۰۸ کردی گئی ۔ 1947 میں نیشنل سکیو رٹی کو نسل قائم کر دی گئی ۔ 8 ستمبر 1947 کو جی آئی جی کا نام تبدیل کرکے سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ﴿سی آئی اے ﴾ رکھ دیا گیا ۔ یو ں دنیا میں پہلی دفعہ ، بد امنی ، دہشتگردی ، لڑا ئی جھگڑوں ، جنگ و جدل، دنگا فساد اور افراتفری پھیلا نے والے ایک منظم اور بد نام زمانہ ادارے CIA کا قیام عمل میں آیا ۔ اس کی ذمہ دا ری بنیا دی طور پر نیشنل سکیورٹی کونسل کو مشورے دینا ، انٹیلی جنس کے حوا لے سے سفا رشات تیار کر نا ، رپو رٹیں اور تخمینے تیار کرنا ، حکو متی محکمو ں کو مشترکہ معاملا ت سے متعلق اضا فی خدما ت فراہم کر نا ۔ اور سکیورٹی کو نسل کی ہدا یا ت پر انٹیلی جنس سے متعلق کچھ دوسرے آپریشن سرانجام دینا تھا ۔ 1948 میں صدر ٹرو مین نے سی آئی اے کو نفسیاتی جنگ اور نیم فو جی کا روائیاں کر نے کا وا ضح اختیا ر دے دیا اس کے حکم میں کہا گیا تھا کہ ان کا روائیو ں میں پر و پیگنڈہ ، اقتصا دی جنگ ، پیشگی راست اقدام ، جس میں سبو تا ژ ، تبا ہی اور انخلا ئ کے اقدامات بھی شامل ہیں ۔ دشمن ریا ستو ں کے خلا ف تخریب کا ری میں زیر زمین مز احمتی تحریک کی حد کے علا وہ گو ریلا اور مہا جروں کے آزادی گر وپ بنا نا بھی شامل ہیں ۔ تا ریخ گو اہ سے کہ شروع دن سے ہی امریکہ نے اپنا اثر و رسوخ اور حکومت قائم رکھنے کے لیے ہر حربہ آزما یا ہے جہا ں طا قت اور جبر کی ضرورت آئی وہا ں بھی کو ئی کمی نہیں ہو نے دی اور جہا ں پر رو پے پیسے سے کام چلا نا پڑا تو اس میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ امریکہ کی یہ خو اہش ہے کہ پو ری دنیا اسکی محتا ج بن کر رہے اور کو ئی بھی اس کے سامنے سر اٹھا نہ سکے پاکستان اس کی آنکھ میں اس لیے بھی بہت زیا دہ کھٹکتا ہے کہ پو رے عالم اسلام میں واحد پا کستان ہی مضبوط طا قت ور ایٹمی ملک ہے جو ایٹمی ٹیکنا لو جی میں در حقیقت اول پو زیشن پر آچکا ہے ۔ امریکہ اپنی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے زریعہ سے اس کے وسائل اس کی قیمتی معدنیا ت اور ایٹم پر اپنا قبضہ جما نا چا ہتا ہے ۔ تا کہ دنیا میں کوئی بھی اس کی آنکھو ں میں آنکھیں ڈال کر با ت بھی نہ کر سکے لیکن پا کستان کی سپیشل انٹیلی جنس آئی ایس آئی﴿ISI ﴾اورخفیہ اداروں کی بد ولت وہ کبھی بھی ان مقروح عزائم میں نہ تو کا میاب ہوا ہے اور نہ ہی کبھی ہو سکے گا ۔ پو ری دنیا میں بسنے وا لے امریکی سی آئی اے کا با ضا بطہ حصہ ہیں اور اپنے ملک کے خلا ف ہو نے و الی ہر بغا وت ، عدا وت اور شرارت کا ہر جہد میں خیال بھی رکھتے ہیں اور اس کے تدارک کے لیے ہر ممکن کو شش بھی کرتے ہیں چا ہے اس کے لیے انہیں غیر قا نونی کا روائیا ں ہی کیو ں نہ کرنا پڑیں جبکہ اس کے بر عکس ہما رے ملک کے چند بے ایمان اور غدار وطن محض پیسے کی چا ہت اور اپنے ذاتی مفا دات کے حصول کے لیے اپنے ہی ملک و قوم کے خلا ف چل پڑتے ہیں اور سی آئی اے کا ایجنٹ بن کر اس ملک کو ہر سطح پر نقصا ن پہنچا تے اور اس کی چھا ئو ں میں رہنے کے با وجود اس کی سا لمیت اور بقائ کو دائو پر لگا نے کی کوشش میں ملو ث رہتے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے ملک اور اپنے ادارے آئی ایس آئی کے ساتھ وفا داری نبھا ئیں اپنی وطن پر ستی اور دھرتی ماں پر آنچ نہ آنے دیں اور اس کی سرحدو ں کی فکر و عمل سے حفا ظت کا بھر پور حق ادا کریں کیو نکہ مل

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker