تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

اسفندیارکاطرزسیاست اوربیگم نسیم کے الزامات

zafarبزرگ سیاستدان اور عوامی نیشنل پارٹی(ولی خان) کی سربراہ بیگم نسیم ولی خان بدستوراپنے سوتیلے بیٹے اسفندیارولی خان جوعوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدرہیں پر تنقیداورالزامات کی بوچھاڑکرتی سنائی دے رہی ہیں البتہ اب کی بارانہوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کوبھی ہدف تنقید بنایاہے کہتی ہیں عمران اور اسفندیارسیاست سے نابلد ہیں۔میڈیارپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے بیگم نسیم ولی خان کاکہناتھاکہ میں باچاخان کی سیاست کی مرید ہوں۔میں نے اپنی سیاسی زندگی میں پیسہ نہیں بنایا۔مجھے دکھ ہے کہ باچاخان کی قوت دو حصوں میں بٹ چکی ہے۔میں چاہتی ہوں کہ اے این پی کے مابین تمام خلفشاردور ہوجائے جبکہ اسفندیار ولی خان مجھے برابھلاکہتے ہیں وہ مجھے اپنی ماں نہیں مانتے۔ان کاکہناتھاکہ ولی خان نے صوبے کانام خیبراور اباسین رکھنے کی تجویزمسترد کر دی تھی وہ صوبے کانام صرف پختونخوارکھنے پربضد تھے جبکہ اسفندیارولی خان نے خیبرپختونخوارکھ دیا۔اصل میں اسفندیار نے ان جگہوں پر قدم ہی نہیں رکھاجہاں سے سیاست سیکھناتھی۔اگرچہ بیگم نسیم ولی خان کی سیاسی خدمات کونظراندازکیاجاسکتاہے نہ ہی ان کے سیاسی قد کھاٹ کو۔ اپنے سسرخدائی خدمتگارخان عبدالغفارخان(باچاخان)اورشوہررہبرتحریک خان عبدالولی خان کی زندگی ہی میں عملی سیاست میں قدم رکھنے والی یہ باہمت خاتون لگ بھگ دودہائیوں تک عوامی نیشنل پارٹی کی بااختیاراورطاقتورترین صوبائی صدررہی ہیں۔ 1990 ء کے عام انتخابات کے بعد صوبہ خیبرپختونخوا( سرحد)میں مسلم لیگ اور اے این پی کی مخلوط حکومت سازی میں ان کاکلیدی کرداررہاتھا اوراسی حکومت میں وہ سینئرصوبائی وزیرکی حیثیت سے بھی فرائض انجام دے چکی ہیں اور اس وقت اگرچہ عددی اعتبارسے کمزورہی سہی مگراے این پی (ولی) کے نام سے الگ سیاسی جماعت کی قیادت کرتے ہوئے سیاسی جدوجہدکرتی دکھائی دے رہی ہیں۔سیاسی حریف اسفندیارولی اور عمران خان کے اندازسیاست اورپالیسیوں پر تنقید کرناان کاجمہوری حق ہے ۔اگروہ اسفندیارولی اور عمران خان کوسیاست سے نابلد قراردے رہی ہیں تویہ ان کی رائے ہے اورکسی کوبھی اپنی رائے دینے سے روکانہیں جاسکتا۔ان کی رائے اپنی جگہ اور ان کی رائے کے مطابق اسفندیاراورعمران سیاست سے نابلد سہی مگرزمینی حقائق یہ ہیں کہ مذکورہ دونوں رہنماء اپنی اپنی جماعتوں کی قیادت کررہے ہیں یہاں سوال یہ بھی جنم لیتاہے کہ کیا سیاست سے نابلد لوگ حکومتیں تشکیل دے سکتے ہیں جبکہ ایک لیڈر کی جماعت پانچ سال تک خیبرپختونخوا کی حکمراں جماعت رہی ہے اور دوسرے لیڈر کی جماعت اس وقت اسی صوبے میں برسراقتدارہے۔اگربیگم نسیم ولی خان واقعی اے این پی میں موجودخلفشاردورکرنے کی خواہاں ہیں توانہوں نے مقابلے میں الگ جماعت کی داغ بیل کیوں ڈالی۔کیابہترنہ ہوتاکہ وہ اسی پارٹی میں رہتے ہوئے اصلاح احوال کے لئے جدوجہدکرتیں۔ بقول ان کے ولی خان مرحوم صوبے کانام اباسین اور خیبررکھنے کی تجویزمسترد کرچکے تھے ۔ولی خان کے ایساکرنے سے کوئی اختلاف نہیں کیونکہ یہ اس وقت کی سیاست کاتقاضاتھامگرسوال یہ اٹھتاہے کہ خیبرکے نام سے اختلاف کیوں اگر اسفندیار نے صوبے کانام خیبرپختونخوارکھاہے تویقینی طورپر شاباش اور دادتحسین کے مستحق ہیں کہ اس صوبے کونام کی پہچان توملی ۔حکومت اور سیاسی جماعت پر تنقید کرنابری بات نہیں مگرتنقیدبرائے اصلاح ہونہ کہ تنقید برائے تنقید۔ اگر وفاق میں مخلوط حکومت کوہمنوا بناکر اسفندیار ولی خان نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبے کے نام کی تبدیلی کا کارنامہ انجام دیاہے تویہ ان کے سیاسی تدبرکی عکاس ہے کیونکہ ہمیں اس حقیقت کونظرانداز نہیں کرناچاہئے کہ قوموں کی تاریخ میں ایسے مواقع باربارنہیں آیاکرتے ۔تذکرہ ہوصوبے کونام دینے کاتواس عمل میں سابق صدرمملکت اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے کردارجس کااسفندیارولی خان کھل کراعتراف کرتے سنائی دیتے ہیں کوبھی سراہنا چاہئے کیونکہ اگران کاتعاون نہ ہوتااور ان کی حمایت حاصل نہ ہوتی توشائد یہ عمل پایہ تکمیل نہ ہوتا۔بیگم نسیم ولی خان کوشکوہ ہے کہ اسفندیارولی خان انہیں برابھلاکہتے ہیں اور انہیں ماں نہیں مانتے۔اگرواقعی ایساہے تو یہ بری بات ہے تاہم ماننے نہ ماننے سے کیاہوتاہے مذہبی اقداراور انسانی رشتوں کی روسے سوتیلی سہی تب بھی وہ اسفندیارولی خان کی ماں ہیں اوراس میں کوئی دورائے نہیں ہوسکتی کہ ایک شخص اگرماں کی قدرنہیں کرسکتاوہ قوم کی قیادت کیاخاک کرے گامگر میںیہ کہنے میں خودکوحق بجانب سمجھتاہوں کہ بیگم نسیم ولی خان تواکثراسفندیارولی پر گرجتی برستی اور سنگین الزامات عائد کرتی سنائی اور دکھائی دیتی ہیں مگراسفندیارولی آج تک بیگم نسیم ولی کے خلاف جلسہ عام سے خطاب اور میڈیاسے گفتگوکے دوران کوئی نازیبابات کرتے سنائی نہیں دیئے۔اس حوالے سے سوشل میڈیاپر ایک پوسٹ بھی اَپ لوڈ کی گئی ہے جسے سردارحسین بابک اور بشریٰ گوہر جیسے رہنماء شیئرکرتے رہتے ہیں۔اگرچہ اسفندیارولی اور بیگم نسیم ولی کے مابین خاندانی اختلافات جو کہ فطری ہوتے ہیں کونظراندازنہیں کیاجاسکتاہے یہ گھرگھرکی کہانی ہے جیساکہ اعظم خان ہوتی اور ان کے والد اعظم خان ہوتی مرحوم کے مابین بھی خاندانی چپقلش کی خبروں نے جنم لیاتھا جبکہ نہیں لگتاکہ اسفندیاراوربیگم نسیم کے مابین براہ راست کوئی اختلاف ہوسوائے باچاخان مرکزکی ملکیت کے تنازعہ کے جس نے پچھلے سال سراٹھایاتھااور بیگم نسیم کی جانب سے اس ضمن میں قانونی چارہ جوئی کرنے کی خبریں سامنے آئی تھیں تاہم اختلافات ہوں تب بھی اسفندیارولی خان ماں کادرجہ دینے کے پابند ہیں بیگم نسیم ولی خان کوجبکہ اسفندیارولی خان اور ان کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کوبیگم نسیم ولی خان کی اس خواہش کانوٹس لیناچاہئے جس کااظہاروہ باچاخان کی قوت کو ایک کرنے سے متعلق کر رہی ہیں کیونکہ کم یازیادہ مگرخان عبدالغفارخان(باچاخان)اور خان عبدالولی خان کے فلسفہ کے پیروکاراور ان کی سیاست کے مرید وہ لوگ بھی ہیں جواس وقت بیگم نسیم ولی خان کے سیاسی ہم سفرہیں اور یہ تواے این پی کے مرحوم قائدین نے کہاتھاکہ ’’لابہ یوکیگوگنی ورکیگو‘‘یعنی ایک ہوں گے ورنہ گم ہوجائیں

یہ بھی پڑھیں  پتوکی: جعلی کرنسی کیس میں گرفتارملزمان سےمیرا کوئی تعلق نہیں ،رانا ممتاز

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker