پاکستانتازہ ترین

بینک ٹرانزیکشن پرودہولڈنگ ٹیکس کی شرح بڑھادی گئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ سیل) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق داڑ کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں کی شرح میں 18 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا، حکومت نے زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کیلئے ایک دوستانہ اسکیم متعارف کروائی تھی، جب کہ گوشوارے جمع کروانے والے تاجر ٹیکس میں رعایت کی سہولت سے استفادہ کر سکیں گے ، گوشوارے جمع نہ کروانے والے کاروباری افراد زائد ٹیکس ادا کرینگے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو ذمہ دارانہ سیاست کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم پر تمام شراکت داروں سے مشاورت کی گئی تھی جن میں کاروباری و صنعتی برادری کے علاوہ سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس سکیم کو متعارف کرنے کیلئے مختلف شراکت داروں سے 5 ماہ تک مشاورتی اجلاس ہوتے رہے اور اپوزیشن کے ساتھ ملکر سکیم کو حتمی شکل دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاسی جماعتوں کی مشاورت پر سکیم کو باقاعدہ بل کی شکل میں متعارف کروایا لیکن اب حزب اختلاف کے بعض ارکان اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں کی شرح میں 18.2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور فروری 2016ءکے دوران اس کی شرح نمو 20 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تاجر برادری اور عوام کو دوستانہ ماحول کی فراہمی کے ذریعے ٹیکس کے دائرہ کار میں لانا چاہتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تاجروں کی آسانی اور سہولت کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے جس کے تحت تاجروں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو فرینڈلی بورڈ آف ریونیو قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کی مشاورت سے گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں 15 مارچ تک توسیع کر دی گئی ہے جبکہ (آج) یکم مارچ سے گوشوارے جمع نہ کرانے والے تاجر اپنی ٹرانزیکشنز پر 0.4 فیصد ٹیکس دینگے جبکہ گوشوارے جمع کروانے والوں کیلئے ٹیکس کی شرح 0.3 فیصد ہو گی۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لئے دوستانہ ماحول کی فراہمی پر یقین رکھتی ہے اور ایف بی آر قانون کے دائرہ کار کے اندر رہ کر اقدامات کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ کے حوالے سے بذریعہ کمپیوٹر منتخب والوں کو ایف بی آر سے تعاون کرنا چاہئے اور آڈٹ لسٹ کا سارا عمل قانون کے مطابق ہو گا چاہے اس میں جو بھی شامل ہو۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ اس حوالے سے آئندہ چند روز میں فیصلہ کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اچھی کوشش کرنی چاہئے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے تاجر رہنما اجمل بلوچ نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کوئی انعامی سکیم نہیں تھی۔ اس لئے تاجروں کو اس سے استفادہ کر کے سہولتیں حاصل کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تاجروں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اجمل بلوچ نے کہا کہ تاجروں کیلئے حکومت سے زیادہ سے زیادہ سہولتیں حاصل کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button