عشق فنا ہے عشق بقاکالم

عشق فنا ہے، عشق بقا (قسط نمبر 2)

اس با ضمیر نوجوان کے نام جس کی طلب عشقِ حقیقی ہے
سرخ گال اور اِسی طرح ہونٹ‘ جو دائیں طرف سے پھٹا ہوا تھا‘ تنی ہوئی گردن پر دائیں جانب نیل پڑا ہوا تھا۔ مسلی ہوئی شلوار قمیص پر دھبے تھے‘ اُنگلیاں میلی ہو رہی تھی۔ بلاشبہ وہ پولیس تشدد کا شکار ہو چکا تھا۔ اُس نے ملزم کو بہت غور سے دیکھا تھا اور تبھی اُس کے دِل نے لمحے بھر میں گواہی دے دی کہ یہ نوجوان گنہگار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اِس سطح کا مجرم ہے جس طرح پولیس اِسے یہاں لے کر آئی ہے۔ اُس کے چہرے پر ایک مانوس قسم کی معصومیت تھی‘ صرف اُس کی آنکھیں چہرے سے اجنبی دِکھائی دے رہی تھیں جن میں غصہ‘ نفرت اور بے باکی پوری طرح جھانک رہی تھی۔ اُس نے خالی کرسی دیکھی اور اُس پر بیٹھ گیا تو ایک سپاہی نے آگے بڑھ کر اُسے کالر سے پکڑا اور غصے میں بولا۔
’’اوئے! مر رہا ہے تو جو یہاں کرسی پر ڈھیر ہو رہا ہے— اُٹھ‘ کھڑا ہو جا۔ جب تک صاحب نہ کہیںتو کیسے بیٹھ سکتا ہے۔‘‘
اگرچہ اِس کے بیٹھ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا لیکن سپاہی کا یہ حکم محض اِسے ذلیل کرنے کے لئے تھا۔ اِس پر نوجوان نے گھوم کر اُس سپاہی کی طرف دیکھا۔ نوجوان کی نگاہوں سے شعلے برسنے لگے تھے جسے بھانپتے ہوئے ایس ایچ او نے فوراً کہا۔
’’کوئی بات نہیں‘ بیٹھے رہو۔‘‘ یہ کہہ کر اُس نے ڈاکٹر جمیل کی طرف دیکھا جو عینک میں سے ایس ایچ او کو دیکھ رہا تھا‘ دونوںکی نگاہیں ملیں تو اُس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کرتے ہوئے کہا۔’’ڈاکٹر صاحب! اِس کا میڈیکل چاہئے‘ کل اِسے ریمانڈ کے لئے پیش کرنا ہے۔‘‘
’’او‘ اچھا—‘‘ ڈاکٹر نے ساری بات سمجھتے ہوئے نوجوان کو غور سے دیکھااور پھر ایس ایچ او سے پوچھا۔ ’’کوئی ہڈی وڈی تو نہیں ٹوٹی ہے نا‘ اِس کی—؟‘‘
’’آپ خود تسلی کر لیں‘ دیکھ لیں اِسے—‘‘
ایس ایچ او نے کہا تو ڈاکٹر نے اُٹھتے ہوئے اُسے ایک بنچ پر لیٹ جانے کا اشارہ کیا۔ تبھی وہ نوجوان ہاتھ کے اشارے سے اُسے روکتے ہوئے بولا۔
’’بیٹھو‘ ڈاکٹر! پہلے مجھے پانی پینا ہے—‘‘ اِس کے لہجے میں ایسی غراہٹ تھی کہ ماحول میں سناٹا چھا گیا۔
’’اِسے پانی پلائو۔‘‘
ایس ایچ او نے ایک سپاہی کی جانب دیکھتے ہوئے حکم دیا تو نوجوان دھاڑتے ہوئے بولا۔
’’اوئے‘ مجھے تم لے کر آئے ہو‘ تمہی پانی پلائو—‘‘
یہ کہتے ہوئے اُس نے ایک ہی سانس میں کئی گالیاں بک دیں۔ ایک لمحے کے لئے ایس ایچ او کی تیوریوں پر بل پڑے‘ آنکھوں سے غصہ چھلکااورپھر اگلے ہی لمحے وہ بے عزتی برداشت کرتے
ہوئے خود پانی لینے بڑھ گیا۔ اُس نے کونے میں دھرے کولر میں سے پانی کا ایک گلاس بھرا اور نوجوان کے پاس لے آیا۔ تبھی ملزم نے اُس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کی جانب دیکھا اور دونوں ہاتھوں سے گلاس گرا دیا‘ ایس ایچ او کے ہاتھ سے گلاس گر کر چکنا چور ہو گیا۔
’’تمہیں اپنے باپ کو پانی پیش کرنے کی تمیز نہیں ہے؟‘‘
نوجوان ملزم نے کسی گھاک مجرم کی طرح کہا تو راحیلہ کانپ کر رہ گئی‘ اُسے وہ اپنا سارا تاثر ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا جو چند لمحے پہلے اُس نے اپنے تئیں ذہن میں بنایا تھا۔
’’تم یہاں سے چلو‘ تمہیں ساری تمیز میَںسکھائوں گا—‘‘
ایس ایچ او نے دانت پیستے ہوئے کہا جسے بہرحال راحیلہ نے سن لیا۔ ایک لمحے کے لئے تصور میں وہ نوجوان اُسے خون میں لت پت دِکھائی دیا تو وہ لرز گئی۔
’’تمہیں تین دِن ہو گئے ہیں مجھے تمیز سکھاتے ہوئے لیکن اب تک نہیں سمجھا پائے ہو۔ ڈرواِس وقت سے جب تم میری زبان بولو گے‘ بے غیرت!‘‘
ملزم نے غراتے ہوئے سرد لہجے میں کہا تو ایس ایچ او بھنا کے بولا۔
’’تیرے جیسے کئی بھڑوے آئے اور گئے۔ کُتّے کی طرح اپنے تلوے نہ چٹوائے تو میرا نام بھی سلامت خان نہیں— چل‘ میڈیکل کروا۔‘‘ اُس کے لہجے میں نخوت اور غصہ گھل مل گیا تھا۔
’’پہلے پانی—‘‘
وہ طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے حقارت سے بولا۔ اِسی لمحے راحیلہ نے ایک طرف پڑا ہوا گلاس اُٹھایا اور کولر سے پانی بھرنے چل دی۔ تبھی ملزم نے کہا۔
’’نہیں‘ یہی لے کر آئے گا— ‘‘ اِس نے ضدی لہجے میں کہا۔
’’میَں جانتا ہوں کہ تم یہ سب کیوں کر رہے ہو‘ اِس لئے چپ چاپ—‘‘ ایس ایچ او غصے میں کہتے ہوئے خاموش ہو گیا تو وہ بولا
’’مجھے کھول کر دیکھو‘ پھر میَںتجھے بتائوں— ایک دفعہ کھول تو سہی۔‘‘
اُس نے انتہائی غصے میں کہا تو ایس ایچ او بولا۔
’’صبر— صبر‘ میرے بیٹے! صبر کر۔ ابھی جا کے تجھے کھولتا ہوں۔‘‘
’’تم وہاں بھی نہیں کھولو گے مجھے— ایک بندھے ہوئے مرد کو تو پانچ دس ہیجڑے بھی مار سکتے ہیں۔‘‘
ملزم کی آواز میں کسی زخمی چیتے کی سی غراہٹ تھی۔ راحیلہ کو نجانے کیوں وہ اچھا لگ رہا تھا۔ پانی بھر کر وہ آگے بڑھی اور اُس کے بالکل قریب جا کر اُس کاہاتھ پکڑا اور اِس میں گلاس تھماتے ہوئے بولی۔
’’یہ لیں‘ پانی پی لیں—‘‘
راحیلہ کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ اُس نے نگاہ اُٹھا کر اِس کی طرف دیکھا۔ راحیلہ نے اُس کی نگاہوں میں نجانے کتنی جولانیاں دیکھیں۔ مخمور نگاہوں میں کس قدر گہرائیاں تھیں‘ ایک لمحے میں وہ دُور تک ڈوب جانے کے باوجود اندازہ نہیں لگا سکی تھی۔
’’نہیں‘ لے جائو—‘‘
ملزم نے کہا تو وہ اُس کی نگاہوں کے بھنور سے نکل آئی۔ اُس نے خود کو سمیٹا اور پھر دِھیمے سے لہجے میں بڑے رسان سے بولی۔
’’جوش سے نہیں‘ ہوش سے کام لیتے ہیں۔ پھر پہاڑ بھی ہوں نا رستے میں تو وہ بھی رستہ دے دیتے ہیں— پی لو۔‘‘اُس کے یوں کہنے پر ملزم نے اِسے غور سے دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں پہلے حیرت اور پھر ممنونیت اُتری۔ اُس نے دِھیرے سے گلاس پکڑ لیا۔ چند گھونٹ پانی پینے کے بعد اُس نے گلاس واپس کر دیا۔
’’دیکھا‘ دیکھا— اِس بے غیرت کو پیاس نہیں تھی‘ یونہی تنگ—‘‘
ایس ایچ او نے کہنا چاہاتو ملزم نے غراتے ہوئے کہا۔
’’خاموش— خاموش رہو ورنہ ابھی تجھے اپنے جوتے صاف کرنے پر لگا دوں گا۔‘‘
’’اوئے چل‘ سیدھا ہو کر بیٹھ—‘‘ یہ کہہ کر ایس ایچ او نے گویا جان چھڑائی اور ڈاکٹر کو اشارہ کیا۔
’’کیا نام ہے تمہارا—؟‘‘ ڈاکٹر نے سرسری سے معائنے کے بعد ملزم سے پوچھا۔
’’جنید اقبال—‘‘ اُس نے عام سے انداز میںکہا اور پھر تیزی سے بولا۔ ’’اِس رپورٹ کی کوئی وقعت ہوگی یا نہیں مگر تمہارے بارے میں پتہ چل جائے گا کہ تم کیا شے ہو۔ رپورٹ لکھتے ہوئے میری یہ بات ذہن میں رہے۔‘‘
’’اوئے لے چلو اِسے باہر—‘‘
ایس ایچ او نے کہا تو وہ سپاہی اِسے باہر لے گئے۔ ایس ایچ او اپنی پسند کے مطابق رپورٹ بنوانے لگا۔ راحیلہ ایک جانب کھڑی رہی۔ ڈاکٹر اور ایس ایچ او مصروف تھے کہ نسرین جوزف آگئی‘ ڈیوٹی ٹائم ختم ہو چکا تھا۔ اُس نے ڈاکٹر کی قطعاً پرواہ نہیں کی اور وہ دونوں باہر چلی گئیں۔ جنید پولیس کے نرغے میں باہر لان کے ایک کونے میں کھڑا تھا۔ راحیلہ کو نجانے کیا سوجھی‘ وہ اِس کی طرف بڑھ گئی۔ نسرین کو حیرت ہوئی کہ یہ کدھر جا رہی ہے؟— وہ جنید کے پاس جا کھڑی ہوئی اور اِس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے بولی۔
’’خوشی ہو یا اذیت‘ اِسے برداشت کرنے کی صلاحیت اِنسان کے اندر ہوتی ہے— میری عائیں ہے تمہارے لئے—‘‘
اُس نے کہا تو جنید نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔ کتنے ہی لمحے وہ یونہی ساکت رہا۔ راحیلہ آگے بڑھ گئی۔ اِس کے اندر ایک عجیب طرح کی طمانیت اُتر آئی تھی۔
’’کون تھا وہ‘ تم نے کیا کہا ہے اُسے— کیا بات تھی؟‘‘

یہ بھی پڑھیں  دکھ بھری کرکٹ

نسرین ایک ہی سانس میں کئی سوال کر گئی تو راحیلہ نے کہا۔
’’ہاسٹل چلو‘ بتاتی ہوں—‘‘
اُس کے یوں کہنے پر نسرین اُلجھتے ہوئے ا ِس کے ساتھ چلتی چلی گئی‘ اِن دونوں کا رُخ اپنے ہاسٹل کی طرف تھا

یہ بھی پڑھیں  پاکستان آرمی زندہ باد

٭٭
ہر شہر میں ایک مخصوص چوک تو ہوتا ہی ہے جہاں رات گئے تک چہل پہل رہتی ہے۔ اِس چوک میں بھی رات کا دوسرا پہر گزر جانے کے باوجود رونق تھی۔ ٹریفک کا زور بہت حد تک ختم ہو گیا تھا‘ کھانے پینے کی دکانیں کھلی ہوئی تھیں اور لوگ کھانے پینے کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھے۔ ہر جانب سکون محسوس ہو رہا تھا۔ بس ایک پنواڑی کی دوکان پر ریڈیو بج رہا تھا‘ جس کے ساتھ ہی چائے کی دوکان تھی اور کئی لوگوں کے ساتھ وہاں ہمایوں بھی اپنے تین دوستوں کے ساتھ چائے پینے گیا تھا۔ وہ چاروں لائ کے طالبعلم تھے اور اِن دِنوں اِس کے فائنل امتحان چل رہے تھے۔ رات گئے پڑھائی کے بعد وہ یہاں چائے پینے آگئے تھے۔ وہ یہاں آتے تو پنواڑی کی دوکان پر رکھے ریڈیو پر ضرور تبصرہ کرتے۔ پنواڑی نے وہ ریڈیو نشانی کے طور پر اَب بھی رکھا ہوا تھا۔ جب اُس کے باپ نے یہ دوکان شروع کی تھی تب یہ نیا تھا اور اَب دوسری نسل تک منتقل ہو گیا تھا۔
’’دیکھو‘ ریڈیو خاموش ہو گیا ہے۔ اب پتہ نہیں کس بینڈ پر کون سا اسٹیشن لگائے گا؟‘‘ تنویر نے ہنستے ہوئے کہا تو اِتنے میں چائے آگئی۔
’’چل چھوڑ‘ تو چائے پی—‘‘
ہمایوں نے کہا تو وہ چائے کی جانب متوجہ ہو گئے۔ وہ چائے پی رہے تھے کہ اچانک اُن کے قریب ہی ایک پولیس وین آکر رُکی اور اگلے ہی لمحے اِس میں سے چند سپاہی نکل کر آگے بڑھے۔ ایک سب انسپکٹر آگے تھا۔ وہ تیزی سے ساتھ ہی آئس کریم کی دوکان میں گھسے اور جاتے ہی سب انسپکٹر کائونٹر پر کھڑے آئس کریم والی دوکان کے مالک کو گریبان سے پکڑ کر باہر لانے لگا۔ وہ حیرت زدہ سا کچھ کہنے کی کوشش کرنے لگا مگر اِس نے ایک نہ سُنی اور اُسے کھینچ کر دوکان سے باہر لے آیا۔ اِس کھینچاتانی اور مزاحمت میں لوگ اُن کی طرف متوجہ ہو گئے‘ ہمایوں بھی اُسی جانب دیکھ رہا تھا۔ چند ﴿ جاری ہے﴾

یہ بھی پڑھیں  چولستان کی آواز

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker