عشق فنا ہے عشق بقاکالم

عشق فنا ہے، عشق بقا (قسط نمبر 1)

اس با ضمیر نوجوان کے نام جس کی طلب عشقِ حقیقی ہے
وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے ڈاکٹر جمیل کی بکواس سن رہی تھی جو نہایت گھٹیا اَندازمیں اُس سے ’’اِظہارِعشق‘‘ کرتا چلا جا رہا تھا۔ وہ اگر نرس ہونے کی وجہ سے اِس وقت ڈیوٹی پر نہ ہوتی تو اَب تک اُس کے منہ پر کئی تھپڑ مار چکی ہوتی۔ ڈاکٹرجمیل اِس کے جذبات سے بے نیاز اِنتہائی سوقیانہ انداز میں اپنی کہے جا رہا ہے جبکہ راحیلہ اُس کے لفظوں سے تعفن محسوس کرتے ہوئے خود میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ وہ جو اَب تک اِس ماحول سے مزاحمت کر تی چلی آرہی تھی‘ اسے لگ رہا تھا کہ یہ ماحول اُسے توڑ کر رکھ دے گا۔ اس نے اَب تک جو خود میں توانائی بچا کے رکھے ہوئے تھی‘ اُسے ڈر تھا کہ اسی قوت کے باعث وہ کہیں پھٹ نہ جائے۔ یوں وہ خود کو تو سزا دے گی ہی لیکن کسی نہ کسی کی جان بھی ضرور لے لے گی۔ اِس سے بچنے کا راحیلہ نے یہی حل تلاش کیا تھا کہ وہ اِس قسم کی بیہودہ گفتگو سنتی رہے مگراِس کے معنی اور مفہوم کو اپنے دماغ تک رسائی نہ لینے دے جبکہ ادھیڑ عمر ڈاکٹر اپنے خباثت زدہ چہرے کے ساتھ کہہ رہا تھا۔
’’دیکھو‘ راحیلہ ! میَں بالکل سیدھا اور صاف گو اِنسان ہوں۔ میَں تمہیں شادی وغیرہ کے سبز باغ نہیں دِکھائوں گا کیونکہ میَں پہلے ہی سے شادی شدہ ہوں‘ میرے دو بچے ہیں مگر میَں تم سے دوستی ضرور چاہوں گا۔ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش بن چکی ہے۔ میری یہ دوستی تمہیں کہاں سے کہاں تک پہنچا دے گی‘ اِس کا تم اَندازہ نہیں کرسکتی ہو۔‘‘ ڈاکٹر جمیل نے اِنتہائی ملائمت اور پیار بھرے لہجے میں دِھیرے دِھیرے سمجھانے کے بعدچند لمحے خاموش ہو کر اِس کی طرف دیکھا رہا تاکہ اُس کے چہرے پر سے اُبھرتے ہوئے تاثر سے اپنی کہی ہوئی بات کا اِندازہ لگالے مگر راحیلہ کا چہرہ سپاٹ رہا۔ وہاں کچھ نہ پا کر اُس نے مزید کوشش کی اور بولا۔
’’میَں جبر کا قائل نہیں اور نہ ہی کسی طرح کی بلیک میلنگ کو اچھا سمجھتا ہوں۔ سیدھی سی بات ہے‘ تم مجھے اچھی لگتی ہو اور میَں تمہارا ساتھ چاہتا ہوں۔ اِس کے عوض تمہارے سارے مسائل حل ہو جانے کی میَں ضمانت دیتا ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر وہ پھر سے خاموش ہو کر اُس کی طر ف دیکھنے لگا مگر راحیلہ کے چہرے پر ذرا سا تاثر بھی ایسا نہیں اُبھرا کہ جس سے ڈاکٹر جمیل کو ہلکا سا بھی اشارہ مل جائے۔ وہ اِس کے تعفن زدہ لفظوں والی بکواس پر کسی بھی قسم کا کوئی ردِّعمل ظاہر نہیں کرنا چاہ رہی تھی لیکن ڈاکٹر جمیل بھی اپنی دُھن کا پکا تھا‘ وہ اِسی طرح کی باتیں کرتا رہا جیسے کسی شکار کو گھیرے میں لانے سے پہلے پوری طرح تھکا دیا جائے۔ ادھیڑ عمر ڈاکٹر اچھا خاصا شکاری معلوم ہورہا تھا۔ راحیلہ کے اندر غبار اُٹھتا چلا جا رہا تھا۔ وہ ہمیشہ اِن باتوں پر چپ سادھے رکھتی‘ کوئی جواب نہ دیتی۔ اپنی ڈیوٹی کرتی اور واپس ہاسٹل چلی جاتی‘ پھر وہاں جا کر اپنے آنسوئوں سے تکیہ بھگوتی رہتی۔ یہاں تک کہ اُس کی روم میٹ نسرین جوزف اُس کی ڈھارس بندھاتی‘ اُسے حوصلہ اور تسلی دیتی—
اِس وقت بھی اُس نے اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی دیکھی‘ ڈیوٹی ختم ہونے میں تھوڑا وقت باقی تھا۔ اُس نے ایک سرد آہ لی اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔ وہ ڈاکٹر جمیل کو پوری طرح نظرانداز کر دینا چاہ رہی تھی مگر وہ باوجود کوشش کے اُسے نظرانداز نہیں کر پا رہی تھی کیونکہ اِس کے بدبودار لفظوں نے ماحول میں سڑاند مچا رکھی تھی۔ اُس نے بے بسی سے اِدھر اُدھر دیکھا تو اُس کی نگاہ کھڑکی سے باہر پڑی جہاں کاریڈور کے آخری سرے پر لوگ آ جا رہے تھے۔ اِس وقت وہ ذہنی اذیت سے گزر رہی تھی۔ ڈاکٹر جمیل اُسے اپنے سامنے بٹھائے مسلسل بیہودہ باتیں کرتے چلا جارہا تھا جبکہ وہ ذہنی اذیت کی اِس حد تک پہنچ گئی تھی جہاں سے بے حسی کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ اُسے ڈاکٹر کی باتیں تو سنائی دے رہی تھیں مگر وہ اِن کا مفہوم سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کر رہی تھی۔ اُس کی نگاہ کھڑکی سے باہر کاریڈور میں اِن مریضوں پر تھیں جو دوسرے ڈاکٹروں سے چیک اَپ کروانے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کھڑکی میں سے کاریڈور کا آخری سرا بھی دِکھائی دے رہا تھا جہاں داخلی دروازہ تھا۔ اُس کی ساری توجہ اِسی جانب تھی کہ اُس داخلی دروازے میں سے چند پولیس والے اندر داخل ہوئے‘ جن کے گھیرے میں ایک لمباتڑنگا نوجوان تھا‘ اِس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی اور پیروں میں بیڑی تھی۔ قدم قدم چلتے ہوئے بیڑی کی جھنکار ایک عجیب خوفزدہ کر دینے والا تاثر پیدا کر رہی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ قدموں سے چل رہا تھا‘ بیڑی کا کنڈا اُس کے ہاتھ میں تھا۔ اگلے چند لمحوں میں وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ اِنہی لمحات میں راحیلہ نے سکھ کا سانس لیا۔ اُسے معلوم تھا کہ پولیس والے ملزم کو لے کر اِنہی کے کمرے میں آئیں گے۔ یوں تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی‘ وہ ڈاکٹرجمیل کی خرافات سے بچ جائے گی۔
کھلے دروازے میں سب سے پہلے ایس ایچ او داخل ہوا‘ پھر ملزم اور اِس کے بعد دوسرے پولیس والے تھے۔ راحیلہ نے محسوس کیا کہ پولیس والوں کی تعداد معمول سے کچھ زیادہ ہی ہے‘ بلاشبہ وہ کوئی خطرناک مجرم ہوگا تبھی اُس نے کمرے کے عین وسط میں کھڑے اِس ملزم کو دیکھا۔ لمبا قد‘ موٹی موٹی لیکن قدرے سرخ آنکھیں‘ ستواں ناک‘ پتلے پتلے ہونٹ جس پر ہلکی ہلکی مونچھیں بہت ہی سج رہی تھیں‘ داڑھی پر اچھی خاصی لوئیں تھیں‘ بے ترتیب اور اُلجھے ہوئے بال کافی بڑھے ہوئے تھے ﴿جاری ہے﴾

یہ بھی پڑھیں  ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کا افشا ء اور قومی سلامتی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker