ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

جو ہو نہ عشق مصطفیٰ تو زندگی فضول ہے

اسلام دین فطرت ہے ۔ اسی دین پہ عمل کرنے کے لیے دنیا میں پہلی نظریاتی ریاست پاکستان کے نام سے قائم ہوئی ۔ قیام پاکستان کے وقت عام مسلمان اسلامی تعلیمات پر حقیقی معنوں میں عمل کرنے کا خواہش مند تھا ہو سکتا ہے کسی کے ذہن میں اس پر حکمرانی کا لالچ بھی ہو ۔ پاکستان کی بنیاد اسلام تھی اس لیے اس کا نام بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا۔ اسلامی ملک میں حکمرانوں پر کچھ ذمہ داریا ں بھی عائد ہوتی ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت اور فرمانبرادری کے لیے پیدا کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت اللہ نے انسا ن کو بنایا اور اس کے اختیارات بتائے تو فرشتوں نے بھی اس مخلوق کی مخالفت کی تھی مگر اللہ رب العزت تو سب جانتے تھے کہ یہ انسان اس دنیا میں کیا کارہائے نمایاں سر انجام دے گا ۔
انبیاے و رسل آتے رہے اور لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے رہے ۔ جب پیارے پیغمبر اور ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ تشریف لائے تو دنیا کو چار چاند لگ گئے۔ اُمت محمدیہ کو سب اُمتوں پر فوقیت حاصل ہے ۔آج جب اس اُمت کے سپہ سالار کے خلاف کافر بکواس اور بے ہودہ حرکت کررہے ہیں تو اُمت محمدیہ کو بھی خاموش رہنے کی ضرورت نہیں ۔ آج کسی کو گالی دیں تو اس کے جواب میں گولیا ں چل جاتی ہیں مگر امریکہ اور دیگر غیر مسلم ممالک کے لوگ اپنی حکومتوں کی سرپرستی میں آئے دن اسلام اور نبی مکرم ﷺ پرنشتر چلاتے ہیں مگر ہماری حکومتوں، سیاستدانوں ،وڈیروں ، حقوق انسانی کے علمبرداروں اور نام نہاد مذہبی ٹھیکیداروں کی خاموشی ان کا حوصلہ بڑھاتی ہے۔ سادہ لوح عوام بھی پاکستان کے چپے چپے پر مظاہرے کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں مگر عملی کام نہیں کرتے جس کی وجہ سے غیر مسلم طاقتیں مسلمانوں کو بزدل سمجھ کر جب جی چاہے توہین کرنے سے باز نہیں آتیں۔
کہاں 313 مسلمان اور ان کے قائد اور آج ایک ارب سے زائد مسلمان ۔ کہاں ہیں وہ 313 مسلمانوں کا جذبہ ؟ آج مسلمان تو موجود ہیں مگر ہمارا ایمان اور خدا پر یقین ان جیسا نہیں ۔ وہ مٹھی بھر مسلمان کافروں کو نیست ونابود کردیتے ہیں اور آج ہم سپر پاورہونے کے باوجود کچھ نہیں کر پاتے۔
کچھ دن پہلے ایک غلیظ پادری ٹیر ی جونز نے گھٹیا حرکت کی اور اس نے قرآن پاک کو جلایااس وقت بھی مسلمان بس مظاہرے تک محدود رہے ۔ اس کے بعد نعوذ باللہ اس لعنتی شخص نے حضور ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف فلم بنا دی ۔ پھر اس سے بڑھ کر ظلم یہ کہ کسی غیر مسلم حکومت کو اس پر اعتراض نہیں اور نہ ہی پابندی لگائی۔وہ امریکہ جو دنیا کے کسی بھی حصے میں مداخلت کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے اور کسی بھی ملک کی عوام یا مذہب کی دل آزاری کو برا سمجھتا ہے تو آج تمام اُمت مسلمہ کی دل آزاری پر خاموش کیوں؟ پوری دنیا کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں مگر امریکہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔
21ستمبر کا دن پاکستان کی تاریخ میں نیا باب رقم کر گیاکیوں کہ آج پاکستان کے ہربڑے چھوٹے شہر میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اپنے آقاسے محبت کا اظہار اور اسلام دشمن بے غیر ت امریکیوں سے نفرت کا اظہار کرنے کے لیے سراپا احتجاج ہے۔جس میں علما کرام سے لیکر مختلف سیا سی ، سماجی، مذہبی تنظیموں اور این جی اوزکے نمائندگان نے خطاب کیا۔ کالم نویسوں اور تجزیہ نگاروں کی کونسل کالمسٹ کونسل آف پاکستان کے عہدے داروں اور ممبرزنے پاکستان کے مختلف شہروں میں شرکت کی ۔جہاں ان سب کا ایک ہی موٹو تھا کہ اگر ہم مسلمان اپنے پیارے نبی اکرم ﷺ کی توہین کرائیں گے تو پھر مسلمانوں کو جینے کا کوئی حق حاصل نہیں۔یہ سارا دنیا وی نظام حضور کے لیے بنایا گیا اور اگر ہمارے مسلمانوں کے حکمران اس کی حفاظت نہیں کر سکتے تو پھر بے غیرتی کی زندگی سے موت بہتر ہے۔
یہ حقیقت ہے مسلمانوں کی او آئی سی تنظیم کو اس مرحلے پر بالکل خاموشی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ دو ٹوک الفاظ میں امریکہ اور ان کے حواریوں کو واضح پیغام دینا چاہیے کہ اس ناپاک حرکت پر پادری ٹیر ی جونز کو سزائے موت دی جائے ورنہ تمام مسلم ممالک ان غیر مسلم ممالک کی ہر چیز کا بائیکاٹ کر دیں گے۔ لیبیا جیسے ایک چھوٹے سے ملک نے امریکی سفیر کو مار دیا مگر دوسری طرف پاکستان جیسے ایٹمی طاقت نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا ماسوائے اس کے کہ 21ستمبر کی چھٹی کردی ہے۔
بظاہر چھٹی کے اس اقدا م سے حکومت نے ان لوگوں کا ساتھ دیا ہے تاکہ پورے پاکستان میں ایک دن احتجاج ہوجائے اور ان غیر ممالک کے سفارت خانوں اور ان کے لوگوں کو نقصان بھی نہ پہنچے۔ لیکن اگر حکومت واقعی مسلمان حکومت ہوتی تو اسی وقت سفارتکاروں کو بھگا دیتی ان ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیتی ۔ نیٹو سپلائی فی الفور بند ہو جاتی ۔ لیکن یہاں تو یو ٹیوب پر پابندی بھی عوام کی زبردست اپیل پر لگائی گئی ۔ ہم نہیں کہتے کہ پاکستا ن بھی لیبیا کی طرح امریکی سفارت خانے پر حملہ کرے بلکہ پاکستان امریکہ کے سفیر کو ملک بد ر کرے اور ان کا سفارت خانہ بند کردے اور جب تک اس لعنتی پادری کو سزائے موت نہیں دیتا اور فلم کو تاحیات بین نہیں لگاتا اس وقت تک پاکستان سے نیٹو کی سپلائی بند کردے۔اور اسی طرح دیگر مسلم ممالک امریکی مصنوعات اور اپنے اپنے ممالک میں امریکہ کو دی گئی سہولتوں کو بند کردے اور امریکہ مجبور ہوجائے گا اپنے اس بے غیر ت شہری کو سزا دینے پر۔ کہاں مر گئے وہ حکمران جو ریمنڈ ڈیوس کے حق میں فیصلہ کروا کر اس کو ملک سے بھگا دیتے ہیں ؟ کہاں ڈوب گئے وہ سیاستدان جو عافیہ صدیقی ایمل کانسی اور رمزی یوسف کو دشمنوں کے حوالے کرتے ہیں ؟
مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے حکمران ، سیاستدان اور بکاؤ میڈیا غیر ملکی امداد کی چمک کی وجہ سے ایسا اقدام نہیں اٹھا سکتے ۔ پاکستان کے حکمرانوں نے حکومتی سطح پر ابھی تک امریکی حکمرانوں سے احتجاج تک ریکارڈنہیں کرایا ۔
کیا ہمارے حکمرانوں کی پالیسی میں یہ شامل ہے کہ ہم اپنے مذہب ، اپنے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کروا کے ڈالروں سے اپنا بیلنس بڑھاتے رہیں ؟خدا کی قسم حقیقی مسلمان ہر ایسی شے پر لعنت بھیجتا ہے اس کے نبی کی توہین کرانے سے ملے۔ ہم مسلمان اپنے پیارے رسول اکرمﷺ پر اپنا سب کچھ نچھاور کریں گے تو ہر ایمان مکمل ہو گا ۔ ہم حکومت تو کیا ہر شے قربان کرنے کو تیار ہیں کیوں کہ اسلام ہے تو پاکستان ہے ورنہ پاکستان بھی کسی کام کا نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں  امیتابھ بچن کی جیا بچن 65ویں سالگرہ منائیں گی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker