تازہ ترینعلاقائی

عشرت العباد خان کو بحیثیت گورنرسندھ دس برس مکمل ہوگئے

ishratul e badکراچی (نامہ نگار)ڈاکٹر عشرت العباد خان کو بحیثیت گورنرسندھ دس برس مکمل ہوگئے ہیں ۔انھیں 27 دسمبر 2002 ء کو صوبہ سندھ کے 31 ویں گورنر کے طور پر صوبے کے سب سے کم عمر گورنر بننے کا اعزاز حاصل ہوا ، پھر ملک کے کسی بھی صوبے کے سب سے طویل عرصے تک گورنر رہنے کا شرف بھی انہوں نے ہی پایا ۔ آج ہر طبقے کے لوگ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی بہترین صلاحیتیوں ، سیاسی و انتظامی تدبر ، معاملہ فہمی ، بردباری ، صبر و تحمل ، نرم مزاجی ، رواداری اور انتھک محنت کے معترف ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے کریڈٹ میں وہ کام ہیں جو شاید سینئر اور بزرگ رہنما ء بھی نہیں کرسکے ۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی ان مثالی خدمات پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی انہیں اعلیٰ ترین سول ایوارڈ نشان امتیاز سے نوازا۔ جن چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے انہوں نے ملک ، صوبے اور اس کے عوام کو یکجا رکھنے کے لئے کا م کیا وہ ایک مثا ل ہے ۔ مختلف مذاہب ، نسل اور زبان بولنے والوں میں ہم آہنگی قائم کرنے کا ان کا مشن آج بھی جاری ہے ۔ اس ہم آہنگی میں بننے والی ہر رکاوٹ کو دور کرنا ہمیشہ ان کی ترجیحات میں رہاہے ۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے بیرون ملک دورے اور ہر سطح پر رابطے ، ہر مکتب فکر کے نمائندوں کا ان پر اعتماد کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ صوبے اور دنیا کے ساتویں بڑے شہر کراچی کی ترقی کے لئے ان کا وژن اور اس کو عملی صورت دینے کے لئے انفرا اسٹرکچر کی فراہمی اور بے شمار ترقیاتی منصوبے بھی ایک مثال ہے ۔ گزشتہ دنوں معصوم لیلیٰ کی اپیل پر انہوں نے جس طرح فہم اور فراست سے صومالی قزاقوں سے مرچنٹ نیوی عملے کو رہائی دلوائی اس اہم خدمت پر انہیں بین الاقوامی پزیرائی بھی ملی۔اندرون سندھ سے شائستہ عالمانی کی فریاد ہویا معصوم لیلیٰ کی پکار،گورنر ڈاکٹر عشرت العبادخان نے جس طرح داد رسی کی اس نے محمد بن قاسم کی یاد دلادی۔ان دس برسوں کے دوران ڈاکٹر عشرت العبا دخان نے صوبے کو جس طرح سنگین بحرانوں سے خوش اسلوبی سے نکالا اس کی مثال کم ہی ملے گی ۔ہر شعبہ زندگی کے لوگوں سے رابطہ اور ان کے مسائل حل کروانے کے لئے کو شاں رہنا ان کا طرہ امتیاز ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ مسئلہ صنعتی وکاروباری برادری کا ہو یا کسی اور طبقے کا وہ ڈاکٹر عشرت العبادخان سے رابطہ کرتے ہیں ۔انہوں نے جس طرح ہر طبقۂ فکر کے لوگوں کو یکجا کیا بلا تفریق سب سے رابطے رکھے وہ صوبے میں بین المذاہب ،فرقہ ورانہ اور لسانی ہم آہنگی اور اخوت ورواداری کا سبب بنا ۔گورنر ہاؤس میں مسائل کے حل کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس اور ہر سطح پر عوام سے رابطوں نے بڑی قبولیت حاصل کی ہے ۔ مستحق نامور شخصیات کے لئے لیجنڈ (legend ) ٹرسٹ کا قیام ، باغ ابن قاسم ، ترقیاتی کاموں ،جامعات میں تحقیق و تدریس کے شعبوں میں مثالی ترقی، اعلٰی تعلیم کے شعبے میں انرولمنٹ میں دگنا اضافہ اور متعدددیگر خدمات سمیت تعلیم ،صحت، صنعت و تجارت ، کھیل و ثقافت اور خاص طور پر امن کے قیام کے لئے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان کی مثالی خدمات کا احاطہ مختصر طور پر ممکن نہیں ۔گورنر سندھ کی کوششوں سے انٹرنیشنل کرکٹ میچز کا انعقاد اور بین الاقوامی سطح کے سیمینار ، نمائش کے انعقاد سے عالمی سطح پر پذیرائی بھی حاصل ہوئی۔ بلا شبہ ان کی کا میابی کا تمام تر سہرا متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کو جاتا ہے جن کی مسلسل رہنمائی نے گورنر سندھ کے عزم و حوصلے کو متزلزل نہیں ہونے دیا ۔ گورنر سندھ کی رہنمائی اور ہمہ وقت تحریک کے باعث ہی صوبے میں دو مختلف ادوار میں ناظمین نے بہترین ترقیاتی کام و عوامی فلاح کے منصوبے مکمل کئے اور 60 برس کی تاریخ کے ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے ۔ گورنر سندھ نے متحدہ قائد الطاف حسین کی سوچ و فکر اور وژن کے مطابق صوبے میں سیاسی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرائی جس نے صوبے کو ایک بار پھر امن کا گہوارہ بنادیا اس طرح انہوں نے ملک دشمن طاقتوں کو ان کے عزائم میں ناکام بنادیا لیکن یہ طاقتیں موقع پاکر اپنے مذموم مقاصد کے لئے سرگرم رہتی ہیں اور یہ کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے واقع کوبڑھا چڑھا کر اسے لسانی و فرقہ واریت کا رنگ دینا شروع کردیتی ہیں جسے گورنر سندھ دن رات محنت کرکے ان کے عزائم کو ناکام بناتے ہیں ۔ حالیہ عاشورہ کے دوران سخت سیکیورٹی تھریٹس تھے جس پر عوام اور وفاقی حکومت بہت فکر مند تھی سب کی نظریں اور محور گورنر سندھ تھے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور متحدہ قائد الطاف حسین کی ہدایات پر علماء کرام ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کو متحرک کرکے صورتحال کو قابو کیا اور ایک حکمت عملی مرتب کرکے دہشت گردوں کے تمام منصوبے خاک میں ملائے ۔ گورنر سندھ ایک سادہ لوح اور عام آدمی کی طرح زندگی گزارتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کو عام آدمی کا درد اپنا لگتا ہے گورنر سندھ نے عام لوگوں کے لئے گورنر ہاؤس کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے ہیں اور اپنے عملے کو سختی سے ہدایت کررکھی ہے کہ وہ بلا تفریق ہر سائل کے مسئلہ کو اولیت دیں اور ان کے حل کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں ۔

یہ بھی پڑھیں  امیتابھ بچن ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ کی آمدنی پر عدالتی چکر میں پھنس گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker