پاکستان

آئی ایسی آئی کے سابق سربراہ کی عدالت میں طلبی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کی سپریم کورٹ نے سیاست میں خفیہ ایجسنی ’آئی ایس آئی‘ کے مبینہ کردار سے متعلق دستیاب ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو جب سینیئر سیاست دان اصغر خان کی آئینی درخواست کی سماعت شروع کی تو اُن کے وکیل نے کہا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کا بیانِ حلفی خفیہ ادارے کی جمہوری نظام میں مداخلت کو ظاہر کرتا ہے۔اسد درانی نے عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ 1990ء کے عام انتخابات سے پہلے آئی ایس آئی نے اُس وقت کے آرمی چیف اسلم بیگ کی ہدایت پر سیاستدانوں میں بھاری رقوم تقسیم کی تھیں۔چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ اس مقدمے کی گزشتہ سماعتوں کے دوران فریقین کے بیانات کا مکمل ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔اُنھوں نے مقدمے کی سماعت 8 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے اسد درانی کو بھی سپریم کورٹ کے رو برو پیش ہونے کا نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔1990ء کے عام انتخابات کے نتائج کے تناظر میں اصغر خان نے 1996ء میں سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے مبینہ طور پر فوج اور انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی نے اسلامی جمہوری اتحاد ’آئی جی آئی‘ میں شامل سیاسی جماعتوں میں رقوم تقسیم کی تھیں۔مختلف وجوہات کی بنا پر اس مقدمے کی سماعت نا ہو سکی۔ آخری مرتبہ سماعت 1999ء میں کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں  بجٹ میں تنخواہ اور پینشن میں اضافےکی تجویززیرغورنہیں،وزیرخزانہ اسحاق ڈار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker