تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

اسلام ایک عظیم مذہب ہے

تین سال تک میں افریقہ میں رہا وہاں مجھے کالے رنگ کے قبائل کے شانہ بشانہ چلنا پڑا ان میں عرب بھی تھے بر بر بھی اور وہ یورپین بھی جو مسلمان ہو گئے تھے یہ لوگ یورپ والوں کی طرح نسل کو طبقاتی تقسیم کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے ۔یہاں پہلے مجھے خوش آمدید کہا جاتا تھا اور پھر میری خوبیوں کو دیکھا جاتا ۔ اس کے برعکس یورپی اور امریکی نسل کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرتے ہیں۔ مجھے یہ بات نئی اور بہت اچھی لگی۔مالکم ایکس نے بھی اپنی قوم کی نجات اسلام میں ہی دیکھی۔ کیونکہ یہ ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے معاشرے میں نسلی امتیاز کو ختم کر دیتا ہے۔ میں بھی مادی تہذیب سے فرار کی راہ ڈھونڈ رہا تھا میں روحانی سمت میں جانا چاہتا تھا مگر میرے لئے روایتی راستے بند تھے میرے والد یہودی تھے اور والدہ عیسائی ۔میرے پاؤں دو کشتیوں میں تھے۔
ایک کہتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ قوم ہیں ۔دوسرا اسرار کی بنیاد پر قائم تھا ۔ میں ان دونوں کی حمایت نہیں کر سکتا تھا ۔میں جتنا اس بارے میں سوچتا مجھے اپنے مسلم افریقہ کے تجربات یاد آتے۔1981ء اور 1985ء میں مراکش کے دو دوروں کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ وہاں پر جو متوازن زندگی ہے وہ بر اعظم افریقہ کی وجہ سے نہیں ہے وہ ایک ایسے نظام کی تلاش میں سرگرداں تھا جس کے مطابق میں اپنی بقایا زندگی آرام اور روحانی سکون سے گزار سکوں اس میں ایسے روحانی سکون ہوں جنہیں ہماری زندگی میں استعمال کیا جا سکے ۔ میں نئے مفہوم تک رسائی حاصل کرنا چاہتا تھا۔1981ء کا سفر تو میں نے اس لئے کیا کہ مجھے سفر کی خواہش اور تجسس تھا ۔میری پسندیدہ جگہ مراکش تھی مجھے ایسے مذہب کی تلاش تھی جس کا فلسفے سے ایسا ہی تعلق ہو جیسا کہ فلسفے کا سائنس سے ہے ۔یہ عقل کے دائرے میں محدود نہ ہو اور نہ ہی کوئی پراسرار مذہب ہو جس سے صرف اس کے پادریوں کو خوشی حاصل ہو مقدس چیزوں اور فطرت کے درمیان علیحدگی نہ ہو ۔اپنے جسم کو تکلیف نہ دینے والی کوئی مہم ہو۔یہ انسانوں کے لیے لعنتنہ بن جائے اس میں عبادات بھی ہوں اور سب سے زیادہ کہ اس میں ہر چیز واضح ہو اور آزادی ہو۔ روزمرہ کی زندگی احساسات کو تیز کرے اور دماغ میں نظم و ضبط پیدا کرے۔ میں اسلام کے بارے میں جتنا زیادہ پڑھتا مجھے محسوس ہوتا کہ یہ وہی مذہب ہے جس کی مجھے تلاش تھی ۔ میرے اس سفر کے وقت 450 ملین مسلمان جو 44ملکوں میں اکثریت رکھتے تھے اسلام کی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں ۔اس کے علاوہ 400ملین مسلمان اقلیت کی حیثیت سے یورپ ، ایشیا اور افریقہ میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ نو آبادیاتی نظام کے بعد کے معاشی حالات کی وجہ سے 30 برسوں میں اسلام مغربی یورپ کے بڑے مذاہب میں شامل ہو گیا ہے ۔ اسلام دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک ہے اور اس کے ماننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔میرے دوست اسلام میں میری دلچسپی سے مایوس نظر آتے ہیں ۔
تاریخی اعتبار سے مسلمان اسلام کو آخری دین سمجھتے ہیں جو ابتدائی شکل میں حضرت آدم ؑ پر اترا تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت پر مبنی ہے۔ جیسا کہ یہودی مذہب تھاجس کے نبیوں کو اسلام میں بھی محترم سمجھا جاتا ہے اور جن کا سلسلہ حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت محمدﷺ پر آ کر ختم ہوا۔اسلام اصل میں اللہ کے اس دین کی تکمیل ہے جس کا آغاز حضرت آدم ؑ کو زمین پر بھیجنے سے ہوا۔
یہ الفاظ اس نو مسلم مائیکل وولف کے ہیں جس نے دس سال کے غور و خوض کے بعد کیلفورنیا کی مسجد میں اسلام قبول کیا ۔انہوں نے مسلمان ہونے کے بعد پہلی بار روزے رکھے اور پھر حج کی سعادت حاصل کی ۔ ایک طویل عرصہ مراکش میں رہے ۔وہاں اسلام کی تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔انہوں نے اسلام کو عظیم مذہب پایا ان کی تصنیف’’الحج‘‘ ایک مربوط اور جامع کتاب ہے ۔مائیکل وولف کا کہنا ہے کہ اسلام وہ مذہب ہے جس کی مجھے عرصہ دراز سے تلاش تھی ۔ان کے دادا یہودی تھے اور بیلا روس سے ہجرت کر کے 1890ء میں اوہائیو امریکہ چلے آئے تھے ۔ان کے والد نے قدامت پرست یہودیت سے قطع تعلق کر لیا تھا اور ایک عیسائی خاتون سے شادی کر کے سنسنائی میں رہنے لگے۔مائیکل وولف امریکہ کے مشہور شاعراور ناول نگار ہیں۔ مسلمان ہونے کے بعد مصنف حج کے سفر پر روانہ ہوئے کیونکہ اسلام میں حج فرض ہے ۔ انہیں سفر کا شوق بھی تھا۔ انہوں نے اپنا پہلا رمضان مراکش میں گزارنے کا فیصلہ کیا ۔ ان کی تصنیف ’’الحج‘‘ جو ایک سفر نامہ کے ساتھ ساتھ سوانح عمری بھی ہے پہلی بار 1994ء میں برطانیہ میں شائع ہوئی۔اس کتاب کی تکمیل میں سات برس لگ گئے۔ مائیکل وولف نے 1981ء اور 1985ء میں دو مرتبہ مراکش کا سفر کیا ۔مصنف کے بقول مسلم دنیا کے یہ سفر ان کے لیے یاد گار تھے ۔وہ لکھتے ہیں کہ میں جس قدر اسلام کا مطالعہ کرتا اسی قدر اس میں کشش محسوس کرتا۔
مائیکل نے اپنی کتاب کے دیباچے میں واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کے شہزادہ بن فیصل شیخ خلیل اور سین جوز کے اسلامی مرکز کے پیش امام ڈاکٹر خالد صدیقی کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے اسے اسلام کا راستہ دکھایا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایسے مذہب پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے جسے سب سے کم درجہ سمجھا گیا ۔اب مائیکل وولف کا اسلامی نام عبدالحمید ہے ۔ جسے مذہب اسلام سے دلی لگاؤ ہے اور شب و روز اسلامی تعلیمات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی جستجو ان کے رگ و پے میں سرایت کر چکی ہے اللہ تعالیٰ انہیں استقامت عطا فرمائے۔۔۔۔آمین

یہ بھی پڑھیں  رینجرزاختیارات تاخیرپرچوہدری نثارکاقائم علیشاہ کو خط

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker