تازہ ترینعلاقائی

سلامی یونیورسٹی میں’’بہ یاد ضیا جالندھری‘‘کے موضوع پرسیمینار

اسلام آباد ﴿بیورو رپورٹ﴾ بین الاقوامی  اسلامی  یونیورسٹی،  اسلام آباد  کے شعبہ  اردو  کے زیر اہتمام معروف شاعر اور براڈ کاسٹر ضیائ جالندھری ﴿مرحوم ﴾ کی ادبی خدمات کے حوالے سے ’’بہ یاد ضیا جالندھری‘‘ کے موضوع پرایک سیمینار یونیورسٹی کی مرکزی لائبریر ی میں منعقد کیا گیا۔تقریب کی صدارت یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر فتح محمد ملک نے کی جبکہ صدر ڈاکٹر ممتاز احمد اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے چیئر پرسنز ڈاکٹر نجیب جمال﴿طلبہ﴾، ڈاکٹر سعدیہ طاہر ﴿طالبات ﴾ سمیت اساتذہ ، انتظامی افسران اور طلبہ طالبات کی ایک بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی۔ سیمینار میں علی محمد فرشی ، ڈاکٹر ارشد معراج ، محترمہ شیراز فضل داد نے مرحوم کی زندگی اور فن کے مختلف پہلوئوں کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار کیااور اپنے مقالات پیش کئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر فتح محمدملک نے کہا کہ اردو ادب سے وابستگی کی بدولت مجھے ضیائ جالندھری کی شاعری ، فنی عظمت اور طرز فکر سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ با وجود یہ کہ وہ ایک ذمہ دار عہدے پر فائز رہے لیکن انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کو کبھی بھی شاعری کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔ پروفیسر ملک نے کہا کہ ضیائ جالندھری کی تخلیقات شاعرانہ حسن کے ساتھ ساتھ ایک بنیادی مقصد کی جانب راہنمائی کرتی ہیں۔انہوں نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ ضیائ جالندھری کی ادبیاتی سوچ کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں۔پروفیسر ڈاکٹر ممتاز احمد نے کہا کہ ادیبوں اور شاعروں کی پیشہ ورانہ کاوشوں کی بدولت ہی دنیا کے بعض ممالک میں اردو زبان نے اپنی جگہ بنائی ہے۔ انہوں نے کہا متحدہ عرب امارات میں عربی کے بعد اردو واحد زبان ہے جو روزمرہ زبانوں کی طرح بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کی ترقی اور پھیلائو میں سب سے اہم کردار ان دانشوروں کی کاوشوں کا ہے جن کی مادری زبان اردو نہ تھی ۔ مرحوم شاعر ضیائ جالندھری کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایک اعلیٰ ظرف شخصیت کے حامل اور زمانہ شناس انسان تھے۔ اس سے قبل ڈاکٹر نجیب جمال نے تعارفی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب کی تاریخ ضیائ جالندھری کی خدمات کا ذکر کئے بغیر مکمل نہیں ہوتی ۔ انہوں نے کہا ضیائ جالندھری نے ادب میں ادبیات کو تلاش کیا انہوں نے کہا کہ ضیائ جالندھری نے اردو نثر میں جدیدیت کو فروغ دیکر آزاد نظم کی بنیاد رکھی ۔

یہ بھی پڑھیں  شعیب اختر کا دبئی کے ہسپتال میں پتے کاآپریشن ، حالت بہتر

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker