پاکستان

اسلام آباد: این آراو عملدرآمد: حکومت سوئس حکام کو خط لکھے، سپریم کورٹ

اسلام آباد (ڈیسک رپورٹر) سپریم کورٹ میں زیر سماعت این آراو عملدرآمد کیس میں وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی ۔۔ جسٹس ناصر الملک نے کہا ہے کہ حکومت سوئس عدالتوں کو خط لکھ دے تو توہین عدالت کی کارروائی پر نظرثانی کی جاسکتی ہے۔ اعتزاز احسن کہتے ہیں سوئس عدالتوں میں صدر کو مکمل استثنٰی صل ہے۔ جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے توہین عدالت کیس کی سماعت کی ۔ جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ عدالتی حکم اس نکتے پر بحث کیلئے تھا کہ صدر کو استثنٰی حاصل ہے یا نہیں۔ جب تک یہ نکتہ ثابت نہ ہو کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نیک نیتی سے سمجھتے تھے کہ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے ۔۔۔ وزیراعظم قانونی نکات کا علم نہیں رکھتے اوروہ  قانون دان رفقاء کے مشورے پر عمل کرتے ہیں ۔۔۔ انہیں سیکریٹری قانون اور وزیر قانون کی سمری پر عمل کرنا پڑتا ہے ۔۔۔ وزیراعظم ماتحتوں کی ایڈوائس پر عمل نہ کریں تو جیل بھی جا سکتے ہیں۔۔ عدالت نے وزیراعظم کو عملدرآمد کیلئے کبھی نوٹس جاری نہیں کیا۔ جس پر جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ حکومت نے کبھی بھی یہ دفاع اختیار نہیں کیا کہ صدر کو استثنٰی ہونے کی وجہ سے خط نہیں لکھا۔  اعتزاز احسن نے کہا کہ عملدرآمد کا معاملہ متعدد بنچز کے سامنے آیا لیکن وزیراعظم پر کبھی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی۔

یہ بھی پڑھیں  اصغر خان کیس، خفیہ دستاویزات عام کرنے پر حکومت سے ہدایت لینے کا حکم

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وزیراعظم نے ڈیووس میں کہا کہ وہ اس معاملے پر جیل جا سکتے ہیں کیا یہ واضح حکم عدولی کا اشارہ نہیں کہ ذمہ دار عملدرآمد کی بجائے جیل جانے کی بات کر رہے ہیں ۔۔ وزیراعظم نے عدالتی حکم پر ماتحتوں کی سمری کو ترجیح دی ۔۔۔

یہ بھی پڑھیں  طالبان کی نامزد کمیٹی کا اسلام آباد میں اجلاس جاری، مذاکرات کے طریقہ کار پر غور

جسٹس ناصر الملک نے  کہا کہ حکومت سوئس عدالتوں کو خط لکھ دے تو توہین عدالت کی کارروائی پر نظرثانی کرسکتے ہیں ۔۔ جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ سوئس عدالتوں میں صدر کو مکمل استثنٰی حاصل ہے ۔۔

جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ فیصلے میں یہ بات بدستور موجود ہے کہ سوئس عدالتوں کو خط لکھا جائے ۔۔اعتزاز احسن نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو ستاسی  کے تحت سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کسی ہائیکورٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ این آر او فیصلے پر عملدرآمد کیلئے کسی ہائیکورٹ کو ہدایات نہیں دی گئیں ۔۔

جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ آرٹیکل ایک سو ستاسی  کا یہ مطلب نہیں کہ ہائیکورٹ کے سوا عمل نہیں ہوسکتا ۔۔ آرٹیکل دو سو چار کی رو سےعملدرآمد نہ کرنا توہین عدالت ہے۔۔

اعتزازاحسن  نے کہا کہ عدالتی  فیصلے پر عملدرآمد کیلئے ہائیکورٹ کا کردار آئین کا تقاضا ہے۔۔

یہ بھی پڑھیں  چودھری برادران کا نوازشریف سے رابطہ،والدہ کےانتقال پر اظہارتعزیت

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ ڈگری نہیں جس پر عملدرآمد کی ضرورت ہو، یہ صرف حکم کی تعمیل کا معاملہ ہے ۔۔۔ وزیراعظم کو جیل بھیجنا نہیں چاہتے، فیصلے پر عملدرآمد چاہتے ہیں ۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالت کا یہ مواخذہ غلط ہے کہ وزیراعظم نے کوئی جرم کیا ہے ۔۔

جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ اگر وزیراعظم نے آرٹیکل دو سو اڑتالیس کا دفاع کیا ہے تو اس کی تشریح ہونی چاہئے۔۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ  توہین عدالت کا معاملہ ہے، فیصلے کی تشریح کا نہیں ۔۔

جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ حکومت نے نظرثانی پٹیشن میں سوئس عدالتوں کو خط لکھنے کا معاملہ نہیں اٹھایا۔۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ عملدرآمد کے حوالے سے حکومت کا موقف تھا کہ نظرثانی پٹیشن کے فیصلے کا انتظار ہے۔۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker