پاکستانتازہ ترین

لاپتہ افراد حساس ادارے جو مرضی کریں حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا سپریم کورٹ

اسلام آباد(مانٹیرنگ سیل) بادی النظرمیں حساس ادارے ملوث ہیں،لواحقین کی مایوسی بڑھ رہی ہے ،شہریوں کی آزادی کے تحفظ کی ذمہ دارریاست ہے ،جسٹس جواد سب کوپتہ ہے شہری لاپتہ کرنے میں کون ملوث ہے ؟ کوئی نام کیوں نہیں لیتا؟جسٹس امیرہانی،بلوچستان بد امنی و لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دئیے کہ سب کو پتہ ہے کہ شہریوں کولاپتہ کرنے میں کون ملوث ہے ؟لیکن کوئی نام کیوں نہیں لیتا ؟اغواء ہونیوالے ڈاکٹرز تاوان ادا کر کے بازیاب ہوئے ہیں ۔درخواست گزار نے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں3رکنی بینچ کوبتایا کہ بلوچستان کے 90ڈاکٹرز صوبہ چھوڑ کر چلے گئے جبکہ 20ڈاکٹر تاوان ادا کر کے رہا ہوئے اور بازیابی میں حکومت کاکوئی کردار نہیں ۔عدالت نے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن بلوچستان کے نمائندہ کو پیش ہو نے کا حکم جاری کر دیاتاکہ وہ بتائیں کہ ڈاکٹرزکی سکیورٹی تسلی بخش ہے یا نہیں؟ عدالت نے آرڈر میں وائس آف مسنگ پرسن کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ کو بھی پیش ہونے کا نوٹس جاری کردیا اور چیف سیکرٹری کوحکم دیاکہ نصراللہ بلوچ کی حاضری یقینی بنائی جائے جبکہ مزید سماعت 30جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔ دریں اثناء پولیس نے فورٹ عباس سے لاپتہ ہونیوالے خاورمحمودکیس میں تمام ذمہ داری حساس اداروں پرڈال دی جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ کی زیرسربراہی 3رکنی بینچ نے سخت برہمی کااظہارکرتے ہوئے ڈی پی او احسن اسمعیل کو سختی سے حکم دیا کہ جو مرضی کرو، خاور محمود کواگلی تاریخ23جنوری کو ہر حال میں عدالت پیش کیاجائے جبکہ جسٹس جوادنے ریمارکس دئیے کہ بادی النظر میں لاپتہ افراد کے مقدمات میں حساس ادارے ہی ملوث ہیں ،حساس ادارے جو مرضی کریں لیکن حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،لاپتہ افراد کے لواحقین کی مایوسی بڑھ رہی ہے جبکہ آرٹیکل 9اور 10 کے تحت شہریوں کی آزادی کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: منشیات فروش سمیت تین افراد سے چرس ،ناجائز اسلحہ برآمداور 3اشتہاری ملزمان گرفتار، سرکل ڈسکہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker