پاکستان

ریلوے بدعنوانی کیس،بڑے مگرمچھوں کوکیوں کچھ نہیں کہا جاتا،سپریم کورٹ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے ریلوے کی جانب سے صرف غریبوں کے گھر گرانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ محکمے کی بے قاعدگیوں کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانون صرف غریب کیلئے ہے امیر آدمی کو کچھ نہیں کہا جاتا۔ ریلوے انتظامیہ نے عدالت عظمیٰ کو آڑ بنا کر غریبوں کے مکانات مسمار کرنا شروع کئے تو قانون ایک بار پھر حرکت میں آگیا۔ ریلوے کی بے قاعدگیوں کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ریلوے انتظامیہ نے عدالت کا ایک بھی حکم نہیں مانا۔ قانون صرف غریب کیلئے ہے امیر آدمی کو کچھ نہیں کہا جاتا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ  فرنٹئیر کور اور ڈیفنس سے اراضی واپس لینے کیلئے کیا اقدامات کیئے گئے۔ ریلوے کے ڈائریکٹر لینڈ تیمور فرخ نے رپورٹ پیش کی کہ یکم فروری سے اراضی واپس لینے کے لئے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ اب تک دوسوستر اریکٹر اراضی واپس لی جاچکی ہے۔ چیف جسٹس نے رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آڈٹ رپورٹ سامنے آئے گی تو سب پتا چل جائے گا۔ کراچی میں ریلوے کی زمین پر تنازعے کھڑے ہیں۔ جسٹس خلجی عارف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی آڑ میں کوئٹہ میں غریب کا مکان گرا دیا گیا۔

جسٹس طارق پرویز نے بھی استفسار کیا کہ ایف سی سے زمین کیوں خالی نہیں کرائی گئی۔ سیکریٹری ریلوے بورڈ نے کہا کہ آپریشن کے دوران کسی قسم کے سیاسی دباؤ کا سامنا نہیں، کبھی کبھار کوئی فون آ جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کسی وزیر کا فون آئے گا تو کیا کارروائی روک دی جائے گی۔ جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیئے  کہ شیخ رشید آج عدالت میں ہیں حکومت میں شامل ہوئے تو نظر نہیں آئیں گے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو انہیں نوٹس بھی جاری نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker