پاکستانتازہ ترین

ٹیلی کام آپریٹروں کے خلاف مفاد عامہ کی رٹ

اسلام آباد،راولپنڈی (ڈپٹی بیورو چیف) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عطر من اللہ ٹیلی کام آپریٹروں کے خلاف مفاد عامہ کی رٹ کی کل 7-1-15سماعت کریں گے۔ راجہ صائم الحق ستی ایڈووکیٹ نے پانچوں موبائیل کمپنیز ، پانچوں صوبوں کے چیف سیکرٹریز وزارتِ داخلہ ، چیئرمین نیب وغیرہ کو پارٹی بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ٹیلی کام آپریٹروں کی جانب سے تقریباََ5کروڑ کی نہ صرف غیر قانونی اور غیر تصدیق شدہ افغانی اور غیر ملکی سیموں کا اجراء کی وجہ سے پاکستان میں ان نام نہاد بیرونی سرمایہ کارسیکورٹی خطرے کی علامت بن چکے ہیں بلکہ یہ کمپنیاں عام صارفین سے 40%ڈبل ٹیکسیشن اور جعلی اشتہاری مہم وغیرہ کی مد میں لوٹ گھسوٹ کی مرتکب ہو رہی ہیں ۔ان نام نہاد بیرونی سرمایہ کاروں نے سوچی سمجھی سازش کے تحت مختلف نائٹ پیکجز متعارف کروا کے نوجوانوں کے اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کی کوشش کی ، پوری دنیا میں جس طرح پاکستان میں سمز مولیوں اور ٹماٹروں کے طرح بازاروں میں ملتی ہیں اس طرح خرید و فروخت کی کوئی مثال نہیں ملتی اور نہ ہی ایک ہی شخص درجنوں سمیں رکھ سکتا ہے لیکن پاکستان میں یہ سب ممکن ہے آج ملک پاکستان سیکورٹی رسک بن چکا ہے جس میں ان بیرونی سرمایہ کاروں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔اور مذکورہ کمپنیوں کا کسی بھی سطح پر آڈٹ نہیں ہوتا بلکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی بطور ریگولیٹر، قومی احتساب بیورو اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ حکام ان سرمایہ کاروں کو نہ صرف تحفظ فراہم کرتے ہیں بلکہ اُن کے سنگین جرائم پرآنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اگر یہ نام نہاد سرمایہ کار پیشہ وارانہ ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے سیموں کو یقینی بناتے ہیں تو شاید قوم عالیہ پشاور جیسے دل گلداز واقعات نہ رونما ہوتے ۔لہذا عدالت موبائیل کمپنیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز اور انتظامیہ کے خلاف اعانت جرم کے تحت دیت اور قصاص آرڈیننس کے تحت نہ صرف مقدمات کا اندراج کے احکامات صادر کرے بلکہ ایسی نام نہاد بیرونی سرمایہ کاروں جو 26ملین ٹیکس کے ڈیفالٹر ہیں تو وہ متاثرہ کروڑوں صارفین اور اُن کے اہل و عیال جو دہشت گردی کے واقعات میں لقمہ اجل بنے اُن کو ہرجانہ ادا کریں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!