احمد رضا میاںتازہ ترینکالم

اسلامی۔۔۔ جمہوریہ۔۔۔ پاکستان

ahmad razaبنا تو اسلام کے نام پر تھا ۔مطلب بھی اس کا کلمہ طیبہ تھا۔لیکن ظالم، بے ضمیر، نا اہل، چور، لٹیرے اور بے ایمان حکمرانوں نے اسے کیا سے کیا بنا دیا۔ جو آیا اپنے حصے کا کھایا جو کچھ بچا اُسے بھی سمیٹا اور یہ جا وہ جا۔ کہیں شہیدوں کے خون کے سودے ہوئے تو کہیں اپنی بیٹیاں تک غیروں کو بیچ دیں گئیں۔ نہ ان کے پیٹ بھرے اور نہ ہی کشکول۔قرضوں کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ملک کو مزید قرضوں میں جکڑ دیا گیا۔ کھانے پینے اور لوٹنے کے موقع پر سب دُشمن بھی دوست لیکن جب بات آئی ملکی مفاد کی تو پھر ہرکسی کو ایک دوسرے سے اختلافات۔ کبھی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیئے مل کر نہیں بیٹھے نہ کبھی ہر سال آنے والے سیلاب سے بچاؤ کی کوئی تدبیر سوچی۔نہ بم دھماکے ان کو ایک میز پر لا سکے اور نہ ہی ڈرون حملوں پر انہوں نے کوئی اتحاد قائم کیا۔اگر اتفاق اور اتحاد ہوا تو صرف اپنی وزارتوں کے بچانے پر یا پھر اپنی کالی کرتوتوں پر مٹی ڈالنے پر۔
کبھی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ تو کبھی وزارتوں سے استعفے صرف اور صرف اپنے مفاد کی خاطرلیکن اگر ملک میں خون ریزی ، حالات کی خرابی اور لا اینڈ آرڈر کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر ان سے استعفوں کا مطالبہ کیا جائے تو یہ ملک ان کے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔کسی نے بھتہ خوری شروع کر رکھی ہے تو کسی نے بڑے بڑے قومی اداروں کو تباہ کرنے کا عزم۔ کوئی ٹارگٹ کلنگ کے ریکارڈ بنا رہا ہے تو کوئی خزانے کا صفایا کرنے میں مصروف۔کوئی عدالتی احکامات کا مذاق اُڑا رہا ہے تو کوئی قاتلوں کو بچانے میں سر گرم۔کہیں دہشت گردی سے لوگ مر رہے ہیں تو کہیں بم پروف محلوں کے تحفے دیئے جا رہے ہیں۔روٹی کپڑا اور مکان کا انتظار کرنے والے اب کفن مانگ رہے ہیں۔بڑی بڑی ڈگریوں والے یا تو مزدوری کر نے پر مجبور ہیں یا پھر خود کشی لیکن جعلی ڈگریوں والے ایوانوں میں بیٹھے بد قسمت قوم کی قسمت کے فیصلوں پر مقرر۔جس پر جتنے زیادہ الزامات ہیں وہ اُتنا ہی بڑا عہدیدار ہے۔ لگتا یوں ہے کہ اس حکومت نے جان بوجھ کر ایسے ایسے لوگوں کو وزارتیں دی ہیں جو لوٹ مار اور قتل غارت کے ماہر ہیں اور ملک اور قوم کی پائی پائی تک لوٹ کر اپنے سربراہ کا بینک بیلنس بھر رہے ہیں۔ خوف خدا کا یہ عالم کہ حاجیوں تک کی جیبیں کاٹ لی گئیں۔جینا تو جینا مرنا بھی محال کر دیا ۔وہ وقت دور نہیں جب سانس لینے کے ساتھ ساتھ سانسیں بند ہو جانے پر بھی ٹیکس لگا دیا جائے گا۔کفن پر الگ اور قبر پر الگ۔پانچ سالہ جمہوری حکومت نے چن چن کر عوام سے بدلے لیئے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ اور بے جا کرپشن یہ انتقام نہیں تواور کیا ہے۔ وزیر اعظم صاحب ٹھیک ہی تو کہتے ہیں کہ 65 سالوں میں وہ کام کسی نے نہیں کیئے جو کام ہم نے اپنے 5 سالہ دور حکومت میں کر دکھائے ہیں۔ ایسا شرف کسی کو نہیں حاصل ہوا اور ہماری دعا ہے کہ کسی اور کو حاصل بھی نہ ہو کیونکہ اس 5 سالوں میں جو کچومر عوام کا نکل چکا ہے اب اس میں اتنی سکت نہیں رہی کہ اس پر مزید ظلم ڈھایا جائے۔ کس کس بات کو روئیں اور کس کس ظلم پر ماتم کریں۔یہ پاکستان قاعد اعظم کا پاکستان نہیں رہا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیاہے میرے پیارے وطن کا اور قاعد کی روح کو تڑپا کے رکھ دیا ہے ظالموں نے۔نہ اس کا اسلامی تشخص برقرار رہا اور نہ ہی اس کا وقار۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سے سابقے اور لاحقے دونوں ختم کر کے صر ف اور صرف بچا ہے تو وہ ہے جمہوریت۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button