پاکستان

افروز کمپنی مالکان کو ادویات کی خرابی کا علم تھا:تحقیقاتی رپورٹ

ڈی آئی جی پنجاب کی سربراہی میں ادویات ری ایکشن کیس کی تحقیقات کےلئے قائم کمیٹی نے رپورٹ تیار کر کے اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی, ملزموں کی جانب سے ملاوٹ کے باعث ہلاکتیں ہوئیں, تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف. پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ادویات کے ری ایکشن سے ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کےلئے قائم کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق افروز فارما کمپنی کے مالکان کو 29 ستمبر 2011ء کو علم تھا کہ ادویہ کا بیچ نمبر 93 خراب ہے تاہم کمپنی نے مبینہ طور پر غفلت کا مظاہرہ کیا اور مضر ادویات کی سپلائی جاری رکھی جبکہ افروز فارما کے پلانٹ انجینئر شکیل احمد نے بھی ادویات کی خرابی کے بارے میں 4 اکتوبر کو انتظامیہ کو اطلاع کر دی تھی لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی. رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افروز کمپنی کی انتظامیہ نے آئیسو ٹیب کے بیج نمبر 93 کو لیبارٹری ٹیسٹ کےلئے بھیجا ہی نہیں تھا. رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئیسو ٹیب کی تیاری میں 6 کیمیکل استعال کئے جاتے ہیں. اگر آئسو ٹیب کی تیاری کے دوران اس میں اینٹی ملیریا پیرامتھین ڈال دی جائے تو دوا مضر صحت بن جاتی ہے. رپورٹ میں اعلیٰ حکام سے سفارش کی گئی ہے کہ ملزموں کی جانب سے ادویات میں ملاوٹ کے باعث ہلاکتیں ہوئیں اس لئے ان کےخلاف مقدمہ درج کیا جائے. واضع رہے کہ جعلی ادویات سے اب تک 150 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں.

یہ بھی پڑھیں  ایگزیکٹ کےدفترسےمختلف جعلی ڈگریاں، دستاویزات اور سرٹیفکیٹس برآمد کرلیے گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker