تازہ ترینکالم

اسپین کا ‘اما نت ‘

sohailجو چلتے ہیں وہ رکتے نہیں ہیں ،اور جو رکتے نہیں ہیں وہ آ گے بڑ ھتے رہتے ہیں ، جو آ گے بڑ ھتے رہتے ہیں دنیا ان کی مثا لیں دیتی ہے ۔دینا بنتی بھی ہیں ،ساتھ دوسروں کے لئے اچھا پیغام ہو تا اگر وہ سمجھیں تو ،ساتھ ایک شعر بھی جو بات کو کر ئے گا اور وا ضع ۔۔۔
جنوں نے مجھ کو بنا یا ہے مد عی میرا
ہمیشہ ہا تھ میں میر ے مرا گر یبا ں ہے
زند گی کے سفر میں بہت سے مو ڑ آتے ہیں ،ان مو ڑوں میں بہت سے وا قعا ت رونما ہو تے ہیں ، کچھ ملا قا تیں بھی ہو تی ہیں ، کچھ کے خیا لا ت متا ثر کر تے ہیں ، خا کسا ر ملا قا توں میں ان سے کی گئی باتوں کا اکیلے بیٹھ کر جو س نکلا تا رہتا ہے ، یو رپ کے وزٹ پر ایک ملا قات میں نکلا یاگیا تا زہ جو س میر ے خا ص پڑ ھنے والو ں کے نا م۔ سلسلہ چلا تھا بر طا نیہ سے وہاں کے بعد گھو متے گھومتے فرانس ،اٹلی کے بعد جب اسپین پہنچے تو ایک ایسے شخص سے ہمارے ایک عز یز نے ملا قات کر وا ئی کے اس شخص کی زند گی کے چڑ ھتے روپ سے محسو س ہو ا کہ یہ باتیں اپنی تحر یر کا حصہ بنا ئی جا ئیں تو ہو سکتا ہے بلکے ہو گا کہ بہت سے ایسی مثا لو ں سے زند گی کے امتحا ن کی کا میا بی کے لیے سبق حا صل کر یں گے ۔بر طا نیہ سے جس طر ف بھی گیا بہت سے نام ایسے جن کی مہما ن نو از ی میں کھا نے تو اچھے ملے ہی ہیں مگر ساتھ ساتھ جو سبق آمو ز باتیں ملی ہیں وہ اپنے اند ر جذ ب کر نے والی تھیں ۔ زیا دہ تفصیل یہاں نہیں کیونکہ خا ص مو زوں پر ایک مکمل کتا ب لکھ رہا ہوں جو جلد ہی پا کستان جا کر پبلش ہو گی یہاں بس اسپین کے ایک شخص کا ذکر کر تا چلوں گا جو پا کستان سے بہتر مستقبل کے خو اب لیے بالا آخر اسپین پہنچا ۔ یہاں اس کی فلا ئٹ اتری ہو گی تو سو چا ہو گا کہ ایک فٹ سی جا ب ملے گی وہ بھی آٹھ گھنٹے کی پھر عیا شی ما ریں گے ،مگر یہاں کی حقیقت ایسی تلخ ہو تی ہے جیسے کا لج کے لیول میں کی گئی محبت کی حقیقت ہو تی ۔ جا ب ملی ایک پٹر ول پمپ پر ، اس سے گزارہ نہ ہو ا،سا تھ پا رٹ ٹا ئم بھی فل ٹا ئم ہی تھا مگر دال روٹی پا کستا ن کے لئے کر نی پڑی۔ ایک دو سال کی محنت کے بعد یہ بند ہ اس قا بل ہو ا کہ اپنی چھو ٹی سی شا پ بنا سکا ۔ سلسلہ ایک شا پ تک نہیں روکنا تھا ، اس لئے شاپ کے ساتھ خو د پا رٹ ٹا ئم جا ب جا ری رکھی ، مختصر ۔ صر ف پند رہ بر س کے کم عر صے میں یو رپ کی ایک بڑی کمپنی کے نام سے بیس بائیس شا پ اور بہت سارا بز نس بنا چکا ، یہا ں تک قا رئین سمجھ رہے ہو ں گے راقم کس کی تعر یف کر نے چل پڑ ھ ، تو عر ض کر تا چلوں ان صا حب سے ملا قات اتنی ہوئی کہ سلا م دعا ، پھر یہ معلو مات ۔۔ یہ معلو مات ایک ساتھی نے دی جب ان صا حب کا ذ کر چلا ، ساری تفصیل میں خا ص بات کیا ، کیونکہ میں دنیا میں سب ہی زیر و سے بز نس شر وع کر تے اور بہت آ گے تک جا تے ۔ اب بات کر تے ہیں کہ خا ص بات کیا ، �آ فس پہنچے تو ایک کر سی پر ایک محتر مہ دوسری طر ف منہ کر کہ کسی سے کہہ رہی تھیں کہ ہما رے آفس میں نما ز پڑ ھنے والے بہت ہو گے لہذا اگر جا ئے نماز اور چا ہیے تو کمپنی کے خر چے سے خر ید لی جا ئیں ، یہ سن کر حیرا ن ہو ا کہ یو رپ میں اور وہ بھی ایک پا کستانی کے کا روبار میں نما ز کا اتنا اہتمام ۔حیرا نگی تو ہو نی تھی ، کیو نکہ دیکھ چکا تھا کہ یہاں پا کستا نی اپنے پا کستا نیو ں کے ساتھ کیسا سلو ک کر تے ہیں ۔باتیں شر وع ہو ئیں ۔ تو معلو م پڑ ھا کہ یو رپ میں کبڈ ی جیسے کھیل کے لئے ما حول فراہم کیا جا تا ۔ جو صا حب یہ بتا رہے تھے میں ان کی طر ف ایسے دیکھ رہا تھا جیسے یہ کو ئی لطیفہ سنا رہے ہو ں ۔ یقین ایسے تو آ نا نہیں تھا ۔ تصو یر یں دیکھیں تو پتہ چلا کہ ہاں یہ حقیقت ہے ۔ کبڈی جیسے کھیل کو پا کستا ن میں اہمیت نہیں دی جا تی ۔ حا لا نکہ ایسے تفر یح کے پر و گرا م ہو ں تو بہت سے مثبت نتا ئج حا صل ہو تے ہیں ۔ اپنے وطن کے حکمرا ن اس بات کو نہیں خا طر میں لا تے مگر وہاں سے آ یا ہو ا شخص اس اہمیت سے خو ب وا قف ہے ۔ ایسے اگر ایک فر د کر تا ہے تو اور بہت سے ہا تھ شا مل ہو جا تے ۔ دنیا میں قا فلے ایسے ہی چلا کر تے ہیں ۔
خیر کبڈ ی کا سنا تو سو چ آ ئی کہ وہ شخص بھی پہلو ان ٹا ئپ ہو گا ، جب سا منے آ ئے تو دیکھنے سے ایسے لگا کہ پا کستان سے ایم بی اے کر کہ یہ جو انی کی عمر میں یہاں آ یا ہو گا ۔ بعد میں معلو م پڑھا کہ میرا اندازہ تو ٹھیک تھا مگر یہ نہیں جا نتا تھا کہ اتنی کم عمر میں یہ پا کستا نی یو رپ کی بز نس لا ئن میں اپنا مقام بنا چکا اور ایو رڈ یا فتہ ہے ۔ کہا ں پٹر ول پمپ کہا ں یہ بزنس اور کہا ں یو رپ بزنس ایو اڈ ۔ سب میر ے دما غ میں مکس ہو رہا تھا ۔ مگر میں ایک بات بھو لا نہیں تھا کہ کا میا بی اسی کو ملتی ہے جو زور با زو پر بھر وسہ کر تا ہے ۔ نا کا می اسی کا مقد ر بنتی جو تھو ڑی سی ہا ر کے ہا تھوں چپ کر کہ رکے جا تا ہے ۔ پا کستا ن کے بہت سے نا مو ر نا م ایسے جن کی مثا لیں دی گئی ہیں ۔ میں نے اس شخص کے بارے پہلے کچھ پڑ ھا نہیں تو افسو س ہوا کہ ایسی مثا لیں کیو نکہ نہیں عوام تک جا تی ہیں ان لو گوں کی جو زندگی میں اپنے مذہب کے ساتھ اپنی ثقا فت کا ایسا خا ص خیا ل کر تے ہیں جو ان کے اتنے بس کی بات نہیں ہو تی مگر پھر بھی وہ سلسلہ جا ری رکھنے کی کو شش جا ری رکھتے ہیں ۔ یہ شخص گجر ات کے ایک گا وں سے تعلق رکھتا اب ہو سکتا کہ یہ اپنے نا م کے ساتھ کچھ خا ص اضا فہ کر تا ہو گا لیکن یہ ان صا حب کا نا م اما نت علی ہے ۔ پا کستا ن میں اور یو رپ جیسے ایرا میں کا روبار کرنے والے کیا ایسے مزا ج کے ہو تے ہیں کہ جو معا شر ے کی خرابیوں کو ختم کر نے کے لئے ایسے اقدامات کر تے ہیں جن سے معا شر ے کے نو جوان اپنی صلا حیتوں کو اجا گر کر سکتے ہیں ۔ گو کہ بہت سی لمبی لسٹ جو ایسے اپنے وسائل سے پروگرام منعقد کر تے ہوں گے ، مگر ہم اپنی تحر یروں کے ذریعے پیغام پہنچا سکتے ہیں کہ کیسے محنت سے زیر و سے ہیرہ لو گ بنتے اور وہ اپنی اوقات میں رہتے ہیں اور اپنے معا شر ے اور تہذیب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں ، ورنہ ہمیں ایسی کہا نیا ں بھی سنے کو ملی ہیں جو چلا کو ے کی چا ل تو اپنی چا ل بھی بھو ل گیا ۔ اب دیکھنا یہ ہو تا کہ ہم ایسی مثا لوں سے کتنا کچھ حا صل کر تے ہیں یا پھر بس آنکھوں سے پڑء کر اور کا نوں سے سن کر نظر اندا ز کر دیتے ہیں ۔
جو چلتے ہیں وہ رکتے نہیں ہیں ،اور جو رکتے نہیں ہیں وہ آ گے بڑ ھتے رہتے ہیں ، جو آ گے بڑ ھتے رہتے ہیں دنیا ان کی مثا لیں دیتی ہے ۔دینا بنتی بھی ہیں ،ساتھ دوسروں کے لئے اچھا پیغام ہو تا اگر وہ سمجھیں تو ،ساتھ ایک شعر بھی جو بات کو کر ئے گا اور وا ضع ۔۔۔
جنوں نے مجھ کو بنا یا ہے مد عی میرا
ہمیشہ ہا تھ میں میر ے مرا گر یبا ں ہے

یہ بھی پڑھیں  بہاولنگر:کرپٹ MSڈاکٹرعبدالغفار کے خلاف انجمن شہری اتحاد کا بلدیہ چوک میں احتجاجی کیمپ

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker